نقیب اللہ قتل کیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملوث 6 پولیس اہلکاروں کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے، تمام اہلکار ملیر کے سچل تھانے میں تعینات تھے۔

ہفتہ کو کراچی پولیس نے نقیب اللہ کیس میں گرفتار اہلکاروں کو سندھ ہائیکورٹ کے انتظامی جج کی عدالت میں پیش کیا جہاں ان کے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔

ذرائع کے مطابق ان میں سب انسپکٹر محمد یاسین، اسسٹنٹ سب انسپکٹر فرحت حسین، اے ایس آئی اللہ یار، ہیڈ کانسٹیبل خضرت حیات، ہیڈ کانسٹیبل محمد اقبال اور کانسٹیبل ارشد علی شامل ہیں، تمام اہلکار ملیر کے سچل تھانے کی چوکی عباس ٹان اور ہائی وے کے قریب چوکی پر تعینات تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام اہلکار اس پولیس پارٹی میں شامل تھے جس نے نقیب اور اس کے دوستوں کو اٹھایا اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔اس سے قبل سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نقیب اللہ قتل از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔