چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 80 ہو گئی

چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 80 ہو گئی

 بیجنگ: چین میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 80تک پہنچ گئی   جبکہ تقریبا 3000افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہوچکی ہے۔ چینی حکام کی جانب سے چینی نئے سال کی قومی تعطیلات میں تین روز کا اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے جبکہ چین میں بہت سے شہروں میں سفر پر پابندی عائد کی گئی ۔حکام کے مطابق کورونا وائرس اپنی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی اپنی افزائش کے دوران پھیل رہا ہے اور اس وجہ سے اسے روکنا مشکل ہو رہا ہے۔


وزیر صحت ما زیائی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وائرس کے پھیلا ئوکی صلاحیت بظاہر طاقتور ہے۔پیر کو حکام نے بتایا کہ ہوبائی میں ہلاکتوں کی تعداد 56سے بڑھ کر 76ہوچکی ہے جبکہ چار افراد دیگر مقامات پر ہلاک ہوئے ہیں۔

ہوبائی کے شہر ووہان میں لاک ڈان کو یقینی بنایا گیا ہے۔  وزیر صحت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ بہت اہم مرحلہ ہے۔حکام نے اعلان کیا کہ اتوار سے ملک میں جنگلی جانوروں کی فروخت بند ہے۔ یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں پھیلا ہے تاہم ابھی تک سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق انسانوں میں افزائش کا دورانیہ ایک سے 14دنوں کے درمیان ہے جس میں کسی شخص کو علامات ظاہر ہوئے بغیر بھی بیماری ہوسکتی ہے۔علامات کے بغیر کسی متاثرہ شخص کو معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کوئی مرض لاحق ہے لیکن وہ اس کے پھیلا ئوکا سبب بن سکتا ہے۔

چین میں  300سے زائد افراد تشویشناک حد تک بیمار ہیں۔دیگر ممالک میں 41کیسز ریکارڈ کیے گئے  جن میں تھائی لینڈ، امریکہ اور آسٹریلیا شامل ہیں لیکن اب تک چین سے باہر کوئی اموات نہیں ہوئی ہیں۔کورونا وائرس سے سانس کا شدید انفیکشن ہوجاتا ہے اور اس کے لیے کوئی خاص علاج یا ویکسین موجود نہیں  ۔

زیادہ تر اموات ان عمر رسیدہ افراد کی ہوئی ہیں جنھیں پہلے سے سانس کے امراض لاحق تھے۔یہ اس وائرس کے بارے میں ہماری سمجھ میں ایک اہم اضافہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چین کو اسے روکنے کے لیے کس حد تک جانا ہوگا۔