اسرائیلی آرمی چیف نے ایران پر حملے کی دھمکی دیدی، فوج کو تیار رہنے کا حکم

Israeli army chief threatens to attack Iran, orders army to be ready
کیپشن:   فائل فوٹو

یروشلم: اسرائیل کے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل عفیف کوشاوی نے ایران پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے فوج کو آئندہ سال ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیدیا ہے۔

اسرائیلی آرمی چیف نے اپنے ایک جارحانہ بیان میں کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ 2015ء کے ایران جوہری معاہدے کی بحالی سے باز رہے۔ ایران کے پاس جوہری بم بنانے کی صلاحیت کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔ ایران پر دباؤ برقرار رکھیں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل عفیف کوشاوی نے یہ انتہائی اہم بیان اسرائیلی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم غزہ اور لبنان کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ وہ ایسے علاقوں کو خالی کردیں جہاں ہمارے خلاف اسلحہ ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہماری فوج سخت حملے کیلئے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے دشمن ایران اور حزب اللہ اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر چکے ہیں۔ ایران حماس اور حزب اللہ کو سالانہ اربوں ڈالرز کی فوجی معاونت کر رہا ہے جس کی وجہ سے ان تنظیموں کو اپنی فوجی صلاحیتیں بڑھانے کا موقع ملا۔ انہوں نے اپنی فورسز تشکیل دیدی ہیں۔

انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حزب اللہ اور حماس نے یہ فورسز ہمارے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تو اس سے پہلے ہی اسرائیل کی جانب سے ایسا حملہ کیا جائے گا جس کا انہوں نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔ خیال رہے کہ اسرائیل اور لبنان کئی معاملات میں اختلافات کی وجہ سے جنگی حالت میں رہتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان سرحدی اور سمندری حدود کا تنازع پایا جاتا ہے۔

جنرل عفیف کوشاوی نے کہا کہ ان کی فوجیں ہمیشہ جنگی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں، لیکن دوسری جانب ہمارے دشمنوں کی نا تو معاشی حالت ٹھیک ہے اور نہ ہی ہمارے خلاف کسی قسم کی جارحانہ کارروائی کرنے کی ہمت ہے۔