کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ کی آڈٹ رپورٹ جمع ،چیف جسٹس نے ڈاکٹر سعیدکا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیدیا

کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ کی آڈٹ رپورٹ جمع ،چیف جسٹس نے ڈاکٹر سعیدکا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیدیا

فائل فوٹو

لاہور:چیف جسٹس پاکستان نے پی کے ایل آئی کے سربراہ ڈاکٹر سعید کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ میرا وقت نکل گیا تو انہوںنے بھاگ جانا ہے اس کے بعدان کا احتساب کسی نے نہیں کرنا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کرتے ہوئے پی کے ایل آئی کے وکیل کی عدالتی کارروائی روکنے اور رپورٹ داخل کرنے کے لئے زائد مہلت کی استدعا مسترد کر دی۔ پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں محمد ثاقب نثار نے کی۔

یہ بھی پڑھیں:فیصل آباد کے حلقہ این اے 106 سے رانا ثناءاللہ جیت گئے

عدالتی حکم پر فرانزک آڈٹ رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی گئی جس میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔چیف جسٹس نے پی کے ایل آئی کے وکیل کی عدالتی کارروائی روکنے اور رپورٹ داخل کرنے کے لئے زائد مہلت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ 10 کروڑ روپے ماہانہ تنخواہوں کی مد میں جا رہے ہیں جبکہ 20لاکھ روپے ماہانہ سربراہ پی کے ایل آئی کے گھرجارہے ہیں اورجگرکا ایک ٹرانسپلانٹ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایک حلقے کی بات نہیں،پورا الیکشن کالعدم کرائیں گے، فضل الرحمٰن

فرانزک آڈٹ رپورٹ پرعدالت نے حکومت پنجاب اور پی کے ایل آئی سے 20 اگست کو جواب طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے ڈاکٹرسعید اخترسے سوال کیا کہ عدالت نے آپ سے کس چیز کی معافی مانگی؟عدالت کے معافی مانگنے سے متعلق سوشل میڈیا پر مہم بند کریں،سب عدالت کے علم میں ہے اور میں تنبیہ کررہا ہوں مہم بند نہ ہوئی توسخت کارروائی ہوگی، وکیل پی کے ایل آئی کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ جس میڈیا پرمہم چلا رہے ہیں اس کے حقائق جان لیں تواپنے موکل کی وکالت نہ کریں،یہ میڈیا شفاف رپورٹنگ کرتا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے پی کے ایل آئی کے سربراہ ڈاکٹر سعید کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ میرا وقت نکل گیا توانہوں نے بھاگ جانا ہے اور اس کے بعدان کا احتساب کسی نے نہیں کرنا،تعمیراتی کمپنی زیڈ کے بی ہر معاملے میں گھسی معلوم ہوتی ہے اور اگر کرپشن ثابت ہو گئی تو ذمہ دار کو معافی نہیں ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت تعلقات، رشی کپور نے عمران خان کے موقف کی حمایت کردی

عدالتی حکم پرڈیجیٹل فرانزک ریسرچ اینڈ سروس کے ڈائریکٹر کوکب جمال نے پی کے ایل آئی سے متعلق فرانزک آڈٹ رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔ انہوں نے بتایا کہ فرانزک رپورٹ 43 صفحات اور 20 ہزار دستاویزات پرہے، انہوں نے ڈیجیٹل فارمیٹ کی شکل میں بھی رپورٹ جمع کرا دی، انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی کمپنی زیڈ کے بی کے مالک ظاہر خان کو پی کے ایل آئی کا پہلا ٹھیکہ دیا گیا ،پی کے ایل آئی کے قیام سے پہلے ایک سوسائٹی قائم کی گئی،سوسائٹی کو قانون کے برعکس حکومت پنجاب کی جانب سے عطیات دئیے گئے پی کے ایل۔

آئی ایکٹ 2015 بنا کر بورڈ تشکیل دیا گیا،ایکٹ کے سیکشن 5 کی ذیلی شق 2 کے تحت حکومت کو بورڈ کے معاملات میں مداخلت سے روک دیا گیا،زیڈ کے بی کمپنی کا مالک ظاہر خان بورڈ کا ممبر بھی تھا،ابتدائی طور پر پی کے ایل آئی کی تعمیر کے لیے 12 ارب 13 کروڑ کی ادائیگی کی گی پہلے 3 سال سو فیصد جبکہ بعدآزاں 25 فیصد آپریشنل واجبات کی ادائیگی کا حکومت پنجاب نے وعدہ کیا،ہسپتال کی تعمیر کا ٹھیکہ سی پی جی نامی کمپنی کو دیا جسے 36 ماہ میں مکمل کرنا تھا،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہسپتال کی تعمیر کو فاسٹ ٹریک پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

فاسٹ ٹریک کے تحت انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی،پیپرا رولز میں ترمیم کر کے اسے پیچیدہ منصوبہ قرار دیا گیا۔ہسپتال کی تعمیر میڈیکل آلات کی فراہمی اور آئی ٹی کا ٹھیکہ آئی ڈیپ نامی کمپنی کو دے دیا گیا،آئی ڈیپ نے نیسپاک اور کورئین کمپنی کو کنسلٹینسی کا ٹھیکہ دے دیا۔

منصوبے کو 4 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے 16 ارب 844 کروڑ کی ایڈوانس رقم ان کمپنیوں کو ادا کر دی گئی ،انہوں نے بتایا کہ2017 میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس ہسپتال کا پہلا افتتاح کیا،مئی 2018 میں پہلا کڈنی ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آج تک گردوں کے 6 ٹرانسپلانٹ اور جگر کا ایک بھی ٹرانسپلانٹ نہیں کیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں:اللہ نے آپ کو وہ لیڈر دیا جو آپ کا خیال اور حفاظت کرے گا، بشریٰ

ہسپتال کی تعمیر سے آج کے دن تک محکمہ صحت ،محکمہ منصوبہ بندی اور محکمہ حزانہ نے 20 ارب 60 کروڑ کی رقم پی کے ایل آئی کو اد اکی۔ہسپتال کی تعمیر کے لیے پیپرا رولز اور پی سی 1 کی شرائط کو نظر دیا گیا۔اربوں روپے کے منصوبے کی ایکنک سے منظوری نہیں لی گئی،محکمہ منصوبہ بندی اور ترقیات نے یہی راستہ اختیار کرتے ہوئے 56 کمپنیوں میں 177 ارب روپے کے پراگرام بنائے،477 بیڈ کے ہسپتال میں صرف 60 بیڈ آپریشنل ہیں،منصوبے میں اشتہارات کی مد میں ڈیڑھ ارب روپے صرف کیے گئے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں