ڈیم پاکستان کی بقاء کیلئے ضروری ہیں، چیف جسٹس

ڈیم پاکستان کی بقاء کیلئے ضروری ہیں، چیف جسٹس

چاروں بھائیوں میں اتفاق ہونا چاہیے جبکہ ڈیمز بنانے کیلئے قربانی دینا ہو گی، چیف جسٹس۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے کالا باغ ڈیم سےمتعلق کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ ڈیم پاکستان کی بقاء کے لیے ضروری ہیں جس کے لیے قربانی دینا ہو گی۔

 

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سےمتعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ تمام صوبوں نے کالا باغ ڈیم پر اتفاق کیا تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کالا باغ ڈیم کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے شمس الملک اور اعتزاز احسن کو معاونت کا کہا ہے۔

 

مزید پڑھیں: مشیر قومی سلامتی جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے عہدے سے استغفیٰ دے دیا

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا پانی کے بغیر پاکستان کی بقا ممکن ہے اور کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک گر چکی ہے۔ پانی کے مسئلے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بار بار کہہ رہا ہوں یہاں کالا باغ کی نہیں پاکستان ڈیم کی بات کر رہا ہوں اور پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو 5 سال بعد پانی کی صورتحال کیا ہو گی۔ ڈیمز پاکستان کی بقا کے لیے نہایت ضروری ہیں اور چاروں بھائیوں میں اتفاق ہونا چاہیے جبکہ ڈیمز بنانے کے لیے قربانی دینا ہوگی۔

 

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زمین بنجر ہو گی تو کسان مقروض ہو جائے گا جبکہ ہمیں ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا ۔ لوگوں کو اکٹھا کریں تاکہ لوگوں کی تجاویز آئیں اور سب کو مل بیٹھ کر ایشو کے حل کے لیے سوچنا ہو گا۔

 

اس موقع پر اعتزاز احسن نے دلائل دیئے کہ ڈیمز کے مخالفین سے بھی بات کرنی ہو گی اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو ڈیم متنازعہ نہیں ان پر فوکس پہلے کیوں نہ کریں۔

 

یہ بھی پڑھیں: تحریک لبیک کے آصف جلالی الیکشن لڑنے کیلئے نااہل قرار

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا۔ سیاسی حکومتوں نے دس سال میں ڈیمز کی تعمیر کے لیے کیا کیا؟۔ ڈیم تو ہر حال میں بننا ہے اور یہ بتائیں ڈیمز کن جگہوں پر بنیں گے اور مجھے مسئلے کا حل بتائیں۔ جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا میں نے جانے نہیں دینا، اورمجھے بندے بتائیں ماہرین کے نام بتائیں میں نے سب کو بلا کر اندر سے کنڈی لگا دینی ہے اور کم از کم اس مسئلے پر گفت و شنید شروع کرنی چاہیے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں