جناح تری دھرتی میلی ہو گئی۔۔۔

جناح تری دھرتی میلی ہو گئی۔۔۔

اے جناح ہم شرمندہ ہیں کہ تیری اُجلی دھرتی آج اپنے پاپیوں کے ہاتھوں اتنی میلی ہو گئی ہے کہ ذرا ذرا سی سفیدی بھی سیاہ نظر آ رہی ہے۔ ہم شرمندہ ہیں کہ لیے ہم نے ترے دیے ہوئے ملک کے دو ٹکڑے کر دیے۔ ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے ذاتی مفاد اور اقتدار کو مقدم رکھا اور عوام کی زندگی جہنم بنا دی۔ ہم شرمندہ ہیں کہ جمہویت کے لیے بنائے گئے اس ملک پر 75 سال میں آدھا وقت براہ راست فوجی آمریت اور باقی وقت بھی ان کے خفیہ ہاتھ کے سائے میں گزارا۔ ہم شرمندہ ہیں کہ ہمارے سیاستدان بھی اس عمل میں ان کے ساتھ تھے۔ ہم شرمندہ ہیں کہ 75 سال میں عوام کے بجائے صرف اشرافیہ نے ہی اپنے پیٹ بھرے اور مجبور عوام آج بھی ایک وقت کی روٹی کے لیے ان کے پیچھے دم ہلانے پر مجبور ہیں۔ ہم شرمندہ ہیں کہ کبھی مارشل لا کبھی رجیم چینج اور کبھی سول ڈکٹیٹر شپ کو ہی ہم نے اوڑھنا بچھوڑنا بنائے رکھا لیکن ترے افکار پر عمل نہ کیا۔

خالق پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے جب برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ مملکت کا تحفہ دیا تو اس کے مقاصد میں سب کے لیے انصاف پر مبنی ایک حقیقی جمہوری معاشرے کا قیام، طاقتور اشرافیہ کی بجائے آئین و قانون کی حکمرانی، بیوروکریسی کی فرائض اور ذمہ داریوں کی ایمانداری سے انجام دہی، عدلیہ کا بغیر کسی تعصب کے یکساں انصاف کی فراہمی، فوج کا کردار اقتدار کے ایوانوں سے دور، جمہوری حکومتوں کے تابع ہونا اور سرحدوں کی حفاظت تک محدود ہونا، ممبر و محراب کا استعمال مذہبی ہم آہنگی کے لیے، ملک میں بسنے والی اقلیتوں کا تحفظ اور برابری کے شہری حقوق کا حصول، مقننہ کا ملکی مفاد میں قانون سازی، تمام سرکاری محکموں میں شفافیت، بامقصد صحافت، سیاستدانوں کا سرکاری وسائل ذاتی فوائد اور اقربا پروری سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت اور اس ملک میں رہنے والوں کے لیے بغیر کسی مذہبی، صنفی، علاقائی، رنگ و نسل اور کسی بھی تفریق کے سب کے لیے بنیادی اور مساوی حقوق کا حصول تھا۔

لیکن آج قائد اعظم کے پاکستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے، ہم نے بحیثیت قوم جناح کے ہر قول و ہدایات کے الٹ کیا اور کر رہے ہیں۔ پھر گلہ کرتے ہیں کہ پاکستان ترقی نہیں کرتا۔ قائد نے یہاں جمہوری نظام حکومت کے نفاذ کی بات کی لیکن ان کی وفات کے بعد مفاد پرستوں نے محلاتی سازشیں شروع کر دی گئیں اور جوتیوں میں دال بٹنے لگی۔ قائد کی جہاندیدہ نظروں نے ایوب خان جیسے موقع پرست کو فیلڈ پوسٹ دینے سے منع کیا تھا وہ فیلڈ مارشل بن کر ملک کا بلا شرکت غیرے مالک بن بیٹھا۔ اور مسلم لیگ کے کھوٹے سکوں نے اس کا بھرپور ساتھ دیا۔

مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر خرم دستگیر کے والد غلام دستگیر خان نے ایوب خان کی گود میں بیٹھ کر محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف الیکشن مہم میں کیا کیا نہیں کیا اور آج وہ جمہوریت کے لیکچر دے رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے اجداد قیام پاکستان کے کھلے مخالف تھے اور قائد اعظم کے لیے کافر اعظم کا لقب استعمال کرتے تھے۔ جبکہ موصوف نے خود اقتدار کے لیے ضیا الحق سے مشرف اور زرداری سے نواز شریف تک سب کے بوٹ چاٹے اور آج بھی چاٹ رہے ہیں۔ دین کے نام پر قوم کی جتنی تقسیم انہوں نے کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ آج مولانا مخالفین کے خلاف مذہب و غداری کے فتوے بھی بانٹ رہے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کا اگر کوئی گناہ ہے تو وہ ایوبی آمریت کا ساتھ دینا تھا۔ پھر اس کے داماد آصف زرداری نے تو حد ہی کر دی۔ اپنی بیوی شہید بے نظیر بھٹو کے مبینہ قاتل کو اپنے اقتدار کی طوالت کے ڈپٹی وزیر اعظم بنا دیا۔ یہ شخص محلاتی سازشوں کے کھیل کا ماہر ہے اور اسی ہنر کی وجہ سے ہارس ٹریڈنگ و لالچ کے ذریعے حکومتیں بدلنے کا ماہر ہے۔ اس کا کوئی دشمن یا دوست نہیں ہاں جہاں فائدہ نظر آئے یہ اس کے لیے ازلی دشمن کو گلے لگانے اور پرانے دوستوں کو کھائی میں دھکیلنے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتا۔

قائد کے پاکستان نے یہ بھی دیکھا کہ ملک کو دو لخت کرنے والے جرنیل یحییٰ خان اور پہلا مارشل لا لگانے والے اور جمہوریت کے قاتل ایوب خان، قائد کے پاکستان میں امریکی اشارے پر طویل ترین مارشل لا لگانے، ایٹمی پروگرام کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے، ملک کو ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر دینے والے ضیا الحق کو ہلاکت کے بعد اعزازات کے ساتھ دفنایا گیا۔ ایک اور جرنیل مشرف جس نے امریکہ کے اشارے پر آئین کو پامال کیا، افغانستان میں امریکی حملے کی حمایت کی نتیجتاً ملک میں دہشت گردی کا بیج بویا گیا اور سب سے بڑھ کر امریکہ کو اپنے عوام پر بمباری کی اجازت دی۔ جب عدالت عظمیٰ نے آمر مشرف کو سزا سنائی تو وہ فرار ہو کر بیرون ملک مقیم ہو گیا اور آج عبرت کا نشان بنا ہے۔

 قائد اعظم یقینا اس وقت لحد میں شدید مضطرب ہوئے ہوں گے مسلم لیگ کا نام استعمال کر کے نواز شریف نے ضیاالحق کے اقتدار کو دوام بخشا اور ذاتی اقتدار کے لیے ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل جرنیل مشرف کو عام معافی دے دی۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی وقتی اقتدار کے لیے بیچ کھایا۔ پھر جناح کو بعد از مرگ اس وقت بھی تکلیف پہنچائی گئی جب ان کے نام پر قائد اعظم مسلم لیگ بنی اور اس کے ایک ’’چھوٹے‘‘ لیڈر نے فوجی آمر کو وردی میں دس بار صدر مملکت بنانے کا عزم کیا اور وہ ’’چھوٹا‘‘ آج بھی جمہوریت کا ماما بنا ہوا ہے۔

قائد اعظم نے سیاست میں اقربا پروری کے خلاف بات کی لیکن یہاں بھائی کے بعد بھائی شہباز شریف بھی وزیر اعظم اور اب بیٹا حمزہ شہباز بھی وزیر اعلیٰ۔ حمزہ شہباز کی ناپختگی کا یہ حال ہے کہ شہباز شریف کو وزیر اعظم کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے فرائض بھی انجام دینا پڑ رہے ہیں۔ نتیجتاً وفاق چل رہا ہے نہ صوبہ۔ 

قائد اعظم نے یکساں انصاف کی بات کی لیکن ایک چیف جسٹس سمیت اکثر ججز ذاتی و دیگر وجوہات کی بنا پر کیس سننے سے انکاری ہو جاتے ہیں جو کہ انصاف کا گلا گھوٹنے کے مترادف ہے۔ یہاں سابق ججوں کی بے نظیر شہید کو سزا دینے کی شہباز شریف کی ٹیلی فون کالز سامنے آتی ہیں لیکن اسی جج کو سابق ہونے کے بعد اسی بے نظیر شہید کے خاوند زرداری نے لا افسر بنا دیا۔ وہی شہباز شریف اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کئی بار وزیر اعلیٰ بننے کے بعد آج ملک کا وزیر اعظم بھی ہے۔

عالم ارواح سے بے بس قائد یہ بھی دیکھتا ہے اسی کے ملک کا وزیر اعظم سپریم کورٹ پر حملے کا حکم دیتا ہے اور اس کی پارٹی اور اتحادی تالیاں بجاتے ہیں۔ یہی وزیر اعظم ایک سابق جج کے ذریعے سپریم کورٹ کے بنچ سے اپنے ہی چیف جسثس کیخلاف فیصلہ لیتا ہے۔ 

جناح یہ بھی دیکھ رہے ہوں گے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے اس ملک میں نبی کریمؐ کی تعلیمات پر عمل تو ہم نہیں کرتے لیکن ان کے نام پر گردنیں کاٹنے سے نہیں چوکتے۔

لکھنے کو تو اتنا کچھ ہے کہ یہ کالم ان کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اے قائد اعظم بحیثیت قوم کے ہم شرمندہ ہیں کہ ہم ترے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل نہ کر سکے۔ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کوئی مسیحا بھیج دے کیونکہ اس قوم کا کوئی پتہ نہیں اپنے مسیحاؤں سے کیا سلوک کرے۔ کسی کو پنڈی میں بھرے جلسے میں گولی مار دے، کسی کو اسی پنڈی کی جیل میں پھانسی دے دے یا اسی پنڈی کی سڑکوں پر بم دھماکے میں اس قوم کی بیٹی کو شہید کر دے۔ اے قائد تری بہن فاطمہ جناح کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ ان کے قاتل بھی ہم ہی ہیں۔ بس ہم شرمندہ ہیں اور تا قیامت شرمندہ رہیں گے۔

کہتے ہیں جب کوئی کسی کے ظلم کے خلاف اس کا نام لے کر خدا کے سامنے روئے تو وہ سنتا ہے لیکن آج تو آنسو بھی خشک اور زبان بھی گنگ ہے۔ آخر میں اے جناح ہم شرمندہ ہیں ہماری کوئی بھی کل سیدھی نہیں۔ تجھ سے التماس ہے، حسنؓ حسینؓ کے نانا نبی کریم محمدؐ سے ہی ہماری سفارش کر دے کہ ہماری سمت درست ہو سکے کیونکہ تری دھرتی پر عام آدمی پر زمین تو تنگ تھی ہی آج کل تو زندگی بھی تنگ کر دی گئی ہے۔ آمین

کالم کے بارے میں اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ کریں

مصنف کے بارے میں