گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان

گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان

اسلام آباد: مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے بری خبر ہے کہ حکومت کی جانب سے خوردنی تیل کی درآمد پر ریگولیٹر ڈیوٹی عائد کئے جانے کے باعث گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے انڈونیشیا کے سوا باقی تمام ممالک سے کھانے کے تیل کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) نے اس ضمن میں باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ 

نوٹیفکیشن کے مطابق انڈونیشیا سے کھانے کے تیل کی درآمد پر 30 جون 2022 تک ریگولیٹری ڈیوٹی کا اطلاق نہیں ہو گا جبکہ جس کھانے کے تیل کی درآمد پر کسمٹز ڈیوٹی کی شرح صفر، 3فیصد اور 11فیصد ہے اس پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح 2 فیصد ہو گی۔ 

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ جس تیل کی درآمد پر 16 فیصد کسمٹز ڈیوٹی عائد ہو گی اس پر 4 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہو گی جبکہ جس تیل کی درآمد پر کمسٹز ڈیوٹی کی شرح 20 فیصد ہو گی اس پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح 6 فیصد ہو گی، جس تیل کی درآمد پر کسمٹز ڈیوٹی کی شرح 30 فیصد ہو گی اس پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح 7 فیصد ہو گی۔ 

واضح رہے کہ حکومت نے خوردنی تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کیلئے انڈونیشیا اور ملائیشیا سے درآمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے ملائیشیا اور انڈونیشیا سے خوردنی تیل کی درآمد کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صارفین کو بآسانی خوردنی تیل کی فراہمی یقینی بنانا ہے، خوردنی تیل کے ٹینکرز رواں ماہ پہنچ جائیں گے جس کے بعد تیل کا ذخیرہ بہتر ہونے پر قیمتیں مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ 

مصنف کے بارے میں