عرب ممالک میں کام کرنے والے65فیصد غیر ملکی شہریوں کے لیے ریٹائرمنٹ پلان موجو د ہی نہیں ہے:سروے

دبئی:عالمی مالیاتی فرم ’گارڈین ویلتھ مینجمنٹ‘ نے عرب ممالک میں کام کرنے والے 65فیصد غیرملکیوں کے ایک ایسی بنیادی چیز سے محروم ہونے کا انکشاف کر دیا ہے کہ جان کر آپ بھی دکھی ہو جائیں گے۔ عریبین بزنس کی رپورٹ کے مطابق عرب ممالک میں ملازمین کے لیے ریٹائرمنٹ پلاننگ برائے نام موجود ہے۔ اس چیز میں عرب ملک یورپ اور دیگر خطوں سے بدرجہ پیچھے ہیں۔ 

فرم کے سروے کے مطابق عرب ملک میں کام کرنے والے 64.21فیصد غیرملکیوں کو ریٹائر ہونے پر سرے سے پنشن ہی نہیں ملتی جو ان کا بنیادی حق ہے۔شمالی امریکہ میں یہ شرح 14.49فیصد ہے۔

اس معاملے میں ایشیاءبھی عرب ممالک سے بہتر ہے جہاں 61.11فیصد ریٹائرڈ افراد کو پنشن نہیں ملتی۔فرم کے مشرق وسطیٰ میں ریجنل منیجر حمزہ شالکی کا کہنا تھا کہ ”گزشتہ سال ہمیں معلوم ہوا تھا کہ عرب ممالک میں کام کرنے والے غیرملکی زیادہ بچت نہیں کرتے لیکن اس بار اس انکشاف نے ہمیں حیران کر دیا ہے کہ ان میں سے آدھے سے زیادہ کے لیے ریٹائرمنٹ فنڈ ہی مختص نہیں کیا جاتا۔“