سوشل میڈیا کے مالک پاکستان کے خلاف جنگ شروع کر دیں تو کیا کریں گئے،جسٹس شوکت حسین صدیقی

اسلام آباد: گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت 31مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔جسٹس صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ تمام ادارے کام کررہے ہیں، حتی کہ وہ ادارہ بھی جس پر خام خواہ سب اعتراض کرتے ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے نے موقف اختیار کیا کہ فیس بک گستاخانہ مواد کو مانتی ہی نہیں تھی مگر اب وہ ہٹا رہے ہیں سب ایک کا مسئلہ نہیں،معاملے پر سب اداروں کے مل کر کام کرنا ہو گا،
گستاخانہ مواد کی تشہیر کا معاملہ گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت شروع کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کر رہے ہیں ۔سیکٹری داخلہ، چئیرمین پیمرا،ایف آئی حکام کمرہ عدالت میں موجود علماءکی بڑی تعداد بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھاتین ملزمان گرفتار کئے جاچکے ہیں .دو ملزمان براہ راست اس گھناونے کام میں ملوث ہیں
میں نے اور وزیر داخلہ نے 27 مسلم ممالک کے سفیروں کے سامنے یہ معاملہ رکھا۔مسلم سفرا سے کہا فیس بک پر اس کام مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔
سیکرٹری داخلہ نے مزید کہا جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے، سیکرٹری وزارت داخلہ دس سے پندرہ فیصد سے زیادہ مواد فیس بک پر ہے۔
فیس بک بند کرنا مسئلے کا حل نہیں 85 فیصد مواد ختم کردیا گیا ہے، دس سے پندرہ فیصد سے زیادہ مواد فیس بک پر نہیں رہا۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی اپنے ریمارکس میں کہا تفتیش میں عدالت مداخلت نہیں کرے گی۔ انھوں نے کہااگر سوشل میڈیا کے مالک پاکستان کیخلاف سوشل میڈیا پرجنگ شروع کردیں تب کیا کریں گے۔اسلامی سفراءکا اجلاس بلانا خوش آئند ہے ۔جس ملک میں یہ کام ہوا اس کے سفیر کو بلانے ہمت نہیں ہے۔ جسٹس شوکت حسین صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ پوری حکومت نے چوہدری نثار پر ہر کام چھوڑا ہوا ہے، انوشہ رحمان آئیں اور بتائیں یہ معاملہ کیوں حل نہ ہواوزارت اطلاعات نے بہت اچھا کام کیا۔
آئی ٹی والے دونمبری کررہے ہیںکیا ہم پھر ڈاکٹر عطاالرحمن کو بلائے اگر سوشل میڈیا کے مالک پاکستان کیخلاف سوشل میڈیا پرجنگ شروع کردیں تب کیا کریں گے۔ ان کا کوئی القاعدہ کا ملزم ہو وہ واشنگٹن سے آپریٹ کرکے مار دیتے ہیں۔امریکہ میں ہولو کاسٹ سے متعلق فیس بک پر کوئی مواد نہیں آسکتا، ہم کسی سیکرٹری یا وزیر کو ابھی طلب نہیں کررہے۔ہمارا بھی اس کام سے دل دکھا ہے، ہر ادارہ دلچسپی لے رھا ہے،عدالت کاروائی سے مطمئن ہے۔الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں ترمیم پر پر پیش رفت رپورٹ طلب چالیس پیجز کیخلاف ایکشن لیا ہے۔ لوگوں کی ٹیم ایسے مواد کی سرچ کررہی ہے۔ اب کیس کی مزید سماعت 31مارچ کو ہو گی