وفاقی حکومت محمد طلحہ ہارون کو امریکہ کے حوالے نہ کرے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو پاکستان میں قید پاکستانی نژاد امریکی شہری محمد طلحہ ہارون کو امریکہ کو حوالے کرنے سے روک دیا ہے،عدالت نے پاکستانی نڑاد امریکی شہری کو امریکہ کے حوالے کرنے کے متعلق اے ڈی سی جی اسلام آباد کا فیصلہ بھی معطل کردیا ہے، محمد طلحہ ہارون پر امریکہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ داعش کے ساتھ مل کر امریکی شہر نیویارک میں دہشتگردانہ حملے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔
امریکہ کی جانب سے بھیجے گئے چارج شیٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محمد طلحہ ہارون امریکی شہر نیویارک میں حملہ کرنے پر آمادہ تھا لیکن اس کے پاکستانی ویزے کی میعاد ختم ہوچکی تھی،چارج شیٹ کے مطابق محمد طلحہ ہارون امریکہ جانے کے لئے ویزے کی میعاد میں توسیع کرانے کی کوشش کررہا تھا لہذا محمد طلحہ ہارون کو امریکہ کے حوالے کیا جائے،امریکہ کی جانب سے محمد طلحہ ہارون پر عائد کئے جانے والے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں،امریکی جھوٹ یہیں سے واضح ہوجاتا ہے کہ محمد طلحہ ہارون کے ویزے کی میعاد ختم نہیں ہوئی،مفروضوں کی بنیاد پر محمد طلحہ ہارون کے خلاف مقدمہ قائم کرکے اسے ستمبر 2016میں کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا۔
اے ڈی سی جی اسلام آباد نے پندرہ جنوری 2017کو وفاقی حکومت کو محمد طلحہ ہارون کو امریکہ کے حوالے کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ہے،امکان ہے کہ کسی بھی وقت اسے امریکہ کے حوالے کردیا جائے گا،محمد طلحہ ہارون کے والدین پاکستانی ہیں اور وہ خود بھی گزشتہ چودہ ماہ سے پاکستان ہی میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ مقیم ہے۔
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد محمد طلحہ ہارون کو امریکہ کے حوالے کرنے کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے محمد طلحہ ہارون کو امریکہ کے حوالے کرنے کے متعلق اے ڈی سی جی اسلام آباد کو فیصلہ معطل کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ'' وفاقی حکومت محمد طلحہ ہارون کو امریکہ کے حوالے نہ کرے اور آئندہ سماعت پر محمد طلحہ ہارون کے خلاف مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے۔