بھارت میں صدارت کے عہدے کے لئے شدت پسند موہن بھگوت کے نام کی تجویز پیش

نئی دہلی: بھارت میں ہندو شدت پسند جماعت شیو سینا نے صدارت کے عہدے پر انتخاب کے لئے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کے نام کی تجویز پیش کی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹوں کے مطابق بھارت میں صدارت کے عہدے پر انتخاب کا مسئلہ سخت گیر موقف رکھنے والی ہندو جماعتوں کے لئے ٹیڑھی کھیر بنتا جا رہا ہے۔ان رپورٹوں کے مطابق ہندوستان میں صدارت کے عہدے کے لئے جہاں ایک طرف ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بی جے پی کے سینیئر لیڈر ایل کے اڈوانی کے نام کی تجویز پیش کی ہے وہیں دوسری جانب ریاست مہاراشٹریہ میں بی جے پی کی حلیف جماعت شیو سینا نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا نام پیش کئے جانے کی تجویز دی ہے۔

موہن بھاگوت کا نام سخت گیر ہندو لیڈر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ بھارت میں صدارت کے عہدے کے لئے کسی کے بھی انتخاب سے متعلق مختلف جماعتوں کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں تاہم شیو سینا کے ایک لیڈر سنجے رات نے کہا ہے کہ ہندوستان کو ہندو ملک بنانے کے لئے صدارت کے عہدے پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے نام سے بہتر اور کوئی نام نہیں ہو سکتا۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ اس سے قبل بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اس عہدے کے لئے لال کرشن اڈونی کے نام کی طرف اشارہ کیا تھا۔ بھارت میں صدارت کے عہدے پر کسی شخصیت کے نام کے انتخاب کے لئے مختلف جماعتوں کی سرگرمیوں سے اس بات کا عندیا ملتا ہے کہ اب اس عہدے پر پرناب مکھرجی کے دوبارہ انتخاب کے امکانات بہت کم ہو گئے ہیں۔

مصنف کے بارے میں