نواز شریف نے پرویز مشرف سے سیاسی صلح مسترد کر دی تھی، شیخ رشید

اسلام آباد: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور پرویز مشرف دور کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے انکشاف کیا ہے کہ پرویز مشرف نواز شریف سے ڈیل کرنا چاہتے تھے مگر نواز شریف نے پرویز مشرف سے سیاسی صلح مسترد کر دی, نواز شریف کے انکار کے بعد پرویز مشرف نے بے نظیر سے ڈیل کی.

ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بے نظیر سے این آر او کے بعد مشرف نہیں چاہتے تھے کہ نواز شریف واپس آئیں آخری وقت میں پرویز مشرف نے این آر او کیا جو ان کے گلے پڑ گیا, ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلی دفعہ آصف زرداری نے مجھے میچ دیکھنے کا مشورہ دیا سارے سٹیڈیم میں نواز شریف کی حمایت میں ایک نعرہ نہیں لگا شیخ رشید نے کہا کہ کے پی کے میں لوگ آصف زرداری کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے دعوی کیا ہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ، نواز شریف سے ڈیل کرنا چاہتے تھے۔ ان کی پہلی چوائس نواز شریف جبکہ دوسری بے نظیر بھٹو تھیں۔ مشرف ، نواز شریف سے یہ ڈیل کرنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے نہیں کی۔ تاہم نواز شریف سے پذیرائی نہ ملنے پر مشرف نے بے نظیر بھٹو سے این آر او کیا۔ بے نظیر کی خواہش تھی ڈی جی آئی ایس آئی مذاکرات میں شریک ہوں۔ آخری وقت میں پرویز مشرف نے این آر او کیا جو ان کے گلے پڑ گیا تھا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ مشرف نواز شریف سے ڈیل کرنا چاہتا تھا لیکن شہباز شریف نے زبردست رول ادا کر کے سب کو بیوقوف بنایا تھا۔ سعودی عرب کے فرمانروا کنگ عبد اللہ سے طے تھا اگر بے نظیر پاکستان گئی تو نواز شریف کو نہیں روکا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی پوری بات صیح نہیں لیکن بات میں وزن ہے۔ نواز شریف سے ریٹائرڈ اور حاضر سروس جنرلز ملاقات کرتے تھے لیکن وہ خود نہیں کرتے تھے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاناما کے فیصلے کے بعد ہی الیکشن کا موسم آ جائے گا۔ اس وقت ملک میں بیسٹ چوائس عمران خان ہیں۔ عمران کی لہر چل گئی تو یہ سب بھوسے کی طرح اڑ جائیں گے۔ اصل فیصلہ زرداری نے کرنا ہے پنجاب میں کیا سٹرٹیجی بنانی ہے۔ جو مال لگائے گا وہی نتیجہ پائے گا۔ پنجاب میں مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں ہوگا۔