الامر بالمعروف سیاست میں

الامر بالمعروف سیاست میں

الامر بالمعروف و النھی عن المنکر کا نعرہ لگانے والا وزیراعظم عمران خان قوم سے کہہ رہا ہے کہ وہ نیکی کا ساتھ دیں اور بدی کا انکار کریں۔ اس طرح وہ عوام سے یہ کہہ رہے ہیں کہ جو ان کے ساتھ ہیں وہ نیکی کے ساتھ ہیں اور جو اپوزیشن کا ساتھ دیں گے وہ نیکی کا انکار کریں گے۔ جو کام بڑے بڑے لیڈر نہیں کر سکے وہ موصوف وزیراعظم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسلام کو وہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور قرآنی آیات اور احادیث کے ترجمے کی تشریح اپنی مرضی سے کر رہے ہیں۔ ان کے حامی ایک یوٹیوبر نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ عمران خان کا ساتھ دینے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ سیاست کے لیے مذہب کا استعمال پہلی بار نہیں ہو رہا، ہر حکمران اپنے اقتدار کی توسیع کے لیے کسی نہ کسی طریقے سے مذہب کی آڑ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ حکمران جانتے ہیں کہ مذہب کے پیچھے چھپنے سے وہ جواب دہی کے عمل سے بچ جاتے ہیں اور عوام کو اپنے ساتھ ملا کر اپنی من مانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عمران خان کے جلسوں میں مذہب کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور عملی طور پر اپنے ہر عمل سے مذہب کی نفی کی گئی۔ ایاک نعبدو سے اپنی تقریر شروع کرنے والے عمران خان نے ضرورت پڑنے پر غیراللہ کے سامنے سربسجود ہونے میں دیر نہیں لگائی۔ یہ سارا کام وہ فوج کو تقسیم کرنے کے لیے کر رہے ہیں کہ فوجی قیادت نے ان کے سر سے دست شفقت اٹھا لیا ہے۔ کیا کسی کو یہ شک ہے کہ دور عمرانیہ کی حکومت ملک پر مسلط کرنے والے کون تھے اور کن کی آشیرباد اور مساعی جمیلہ سے وہ الیکشن میں صرف اتنی نشستیں حاصل کر سکے کہ انہیں آزاد امیدواروں اور دوسری اتحادی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت بنانا پڑی۔ آج وہ پھر وہی مانگ رہے ہیں اور فوج سے کہہ رہے ہیں کہ میں نیکی کا نمائندہ ہوں اس لیے فوج کا یہ فرض ہے کہ وہ میرے ساتھ کھڑی ہو۔ جب فوج نے نیوٹرل ہونے کی بات کی تو عمران خان نے اسے جانور سے تشبیہ دے دی۔ لاڈلے کی اگر تربیت کا مناسب بندوبست نہ ہو وہ اسی طرح رسوائی کا سامان پیدا کرتا ہے۔ آج انصافین اسی فوج کو سوشل میڈیا پر گالیاں دیتے نہیں تھکتے۔

چودھری پرویز الٰہی نے انہیں نیپی والا وزیراعظم قرار دیا تھا جس نے چلنے کی کوشش کی نہیں اور نہ ہی اس کی تربیت کا مناسب بندوبست کیا گیا۔ جب لوگوں کی کرسی ہلنے لگتی ہے تو وہ اسی قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ نیکی کی طرف بلانے والے وزیراعظم 

کی سیرت اور بصیرت ساری دنیا کے سامنے ہے اور وہ جس قسم کی زبان استعمال کر رہے ہیں اور اپنی گفتگو سے دوسروں پر دشنام طرازی کرنے میں ایک پل کے کے لیے نہیں ہچکچاتے۔ کیا وہ اور ان کے حواری جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ اس شخص کی زبان ہو سکتی ہے جو خود کو نیکی کا نمائندہ ظاہر کر رہا ہے۔ استغفار استغفار۔ اے میرے رب ہمیں اپنی حفاظت میں رکھ۔ اے میرے پروردگار ہمیں فتنہ و فساد سے محفوظ رکھ۔ 

کیا یہ وہی وزیراعظم نہیں ہے جو قوم سے خطاب میں یہ کہہ رہا تھا کہ میرے خلاف اگر کسی نے ووٹ دیا تو میں استعفیٰ دے کر اپوزیشن میں جا بیٹھوں گا اور جب تحریک عدم اعتماد پیش ہو چکی ہے تو وہ ہر وہ حربہ استعمال کر رہا ہے جو اس کے اقتدار کو چند مزید ساعتوں کی طوالت دے سکے۔  حالانکہ یہ قانون قدرت ہے کہ جو آیا ہے اس نے لوٹ کر جانا ہے۔ یہ محض زندگی اور موت کے حوالے سے نہیں کہا جاتا بلکہ حکمرانوں کے آنے اور جانے کے حوالے سے بھی کہا جاتا ہے۔ کتنے حکمران آئے اور چلے گئے ان میں کتنے ہیں جن کو لوگ یاد کرتے ہیں۔ عوام صرف اس کو یاد کرتی ہے جس نے ان کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ کیا ہو۔ فلاحی ریاست قائم کی ہو جہاں پر  زکوٰۃ لینے والا نہ ملتا ہو اور یہاں حال یہ ہے کہ ہمارا وزیراعظم ہی زکوٰۃ کا سب سے بڑا امیدوار بن کر سامنے آتا ہے۔ لوگوں کے لیے روزگار کے وسائل پیدا کرنے پر زور نہیں دیتا اور لنگر خانے بنانے میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے۔ عوام کے لیے گھر بنانے کی آسانی پیدا کرنے کے بجائے پناہ گاہوں کو بنانے پر زور دیتا ہے۔فلاحی ریاست کا یہ تصور نہیں ہے جو وزیراعظم عمران خان دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ مدینہ کی ریاست کا نعرہ بلند کرنے والے شخص اتنا صاف شفاف ہو گا اس کا اندازہ بہت سے لوگوں کا تھا مگر بہت سے اب بھی اس کی امامت کے قائل ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ دوسرے بھی کوئی دودھ کے دھلے ہوئے نہیں ہیں مگر وہ مذہب کا استعمال اتنے بے دریغ طریقے سے نہیں کر رہے۔ یہ دلیل بھی کافی نہیں ہے کہ عمران خان کی مخالفت کرنے کا مطلب دوسرے ٹولے کا ساتھ دینا ہے۔ وہ غلط ہیں تو ان کی بھی ٹھوک بجا کر مخالفت کریں اور جب وہ اقتدار میں تھے تو انہیں بھی اس طرح کے تنقید کا سامنا تھا۔ آج میدان میں عمران خان ہے اور اس ریاست کو چلانے کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہے تو جوابدہ بھی وہی ہو گا۔

وزیراعظم عمران خان صاحب کوئی ایک انڈیکیٹر بتا دیں جس سے ہم یہ جانچ سکیں کہ آپ دوسروں سے بہتر ہیں۔  مہنگائی کی انتہا ہے۔ کرپشن تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ بیروزگاری عروج پر ہے۔ تعلیم کے دروازے بچوں پر بند ہو رہے ہیں کہ مہنگائی کے باعث لوگ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے قاصر ہیں۔ آج سکول سے باہر بچوں کی تعداد پچھلی حکومتوں سے زیادہ ہے۔ نہیں۔ وزیر اعظم صاحب ایسا نہیں چلے گا۔ اب جواب دہی کا وقت آ گیا ہے، آپ کو اپنے دور حکومت کے اقدامات کا جواب دینا ہو گا۔ 

آپ کی سیاست گالی گلوچ سے شروع ہوئی تھی اور آپ نے شائد اسے کامیابی کا ہتھیار سمجھ لیا ہے اور یہ ہتھیار آپ اب بھی استعمال کر رہے ہیں۔ سہولت کار آپ سے دور ہو چکے ہیں تو اب آپ اپنے زور بازو سے سیاست کریں۔ گالی گلوچ کے کلچر کو ختم کر کے حقائق کا سامنا کریں اور دنیا کو بتائیں کہ آپ نے پاکستان کے لیے کیا کیا ہے۔ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے آپ کی کاوشیں کیا ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو بلند کرنے کے لیے آپ نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے۔ بے روزگاری کے خاتمے کے لیے کون سے منصوبے شروع کیے گئے۔ لوگوں کو روٹی کپڑا اور مکان فراہم کرنے کے لیے حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے۔ ملک کو تنہائی سے نکالنے کے لیے کیا ہوا؟ کچھ تو بتائیں صرف گالیاں سن کر عوام کو بے مزہ نہ کریں۔ کرپشن کے جو الزامات آپ پر لگ رہے ہیں ان کا جواب لوگوں کے سامنے رکھیں۔ 

تاریخ بہت بے رحم ہے اور آپ اسے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ تاریخ آپ کے اقدامات کو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کرے گی کہ آپ عادل حکمران تھے یا آپ نے ملک اور عوام پر ظلم کیا۔ تاریخ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کے دور حکومت میں دو نہیں ایک پاکستان بنا تھا یا عوام کو بے وقوف بنایا گیا۔ تاریخ یہ فیصلہ کرے گی کہ آپ کس طرف کھڑے تھے الامر بالمعروف کی طرف یا اس کے خلاف۔ یہ سوال ہم سے بھی ہو گا کہ اس دور میں آپ کس کو سپورٹ کر رہے تھے۔ نیکی کے نمائندے کی طرف تھے یا بدی کے نمائندوں کی حمایت کر رہے تھے۔ قارئین کرام اب آپ نے بھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کس کے ساتھ ہیں کہ کل کو آپ کو بھی یہ حساب دینا ہو گا۔

مصنف کے بارے میں