رمضان: کر اپنی رات کو داغِ جگر سے نورانی!

رمضان: کر اپنی رات کو داغِ جگر سے نورانی!

23 مارچ (1930ء) اقبال کے الٰہ آباد میں تصورِ پاکستان سے لے کر 1940ء میں پرعزم قیادت کے قراردادِ پاکستان پیش کرنے کا دن ہے۔ مسلم شناخت کے تحفظ کے لیے ایک تاریخ جغرافیہ بدل دینے والے دن کی یادگار۔ جس کے بعد ہر قدم چیرہ دست دشمن کے نرغے سے نکل کر ہجرت کی خونچکاں داستان مرتب ہوئی۔ عزم واستقلال، یکجہتی اتفاق واتحاد کا دن 2022ء تک پہنچتے سیرت وکردار کے بدترین بحران کا منہ دیکھ رہا ہے۔ انتشار وافتراق، اخلاقی اقدار کے زوال کی آئینہ دار سیاسی صورت حال! یہ سیاست ہی کی ابتری نہیں، من حیث القوم ہماری شامتِ اعمال ہے جو عفو طلب ہے۔ جس رب سے کلمے کے وعدے پر یہ ملک معجزے کے طور پر حاصل کیا تھا اسی کی طرف پلٹنے کا وقت ہے۔ اس کے در پر گڑگڑانے کی ایک اور مہلت صورتِ رمضان ہمیں عطا ہونے کو ہے۔ پورے شعور اور احساسِ زیاں کے ساتھ آئیے، رحمت مغفرت اور نجات عظمیٰ کے اس مبارک مہینے پر ہمہ تن متوجہ ہوجائیں ۔

کہ ہرا ہو تیرا گلشن، میں وہ سیلِ اشک لاؤں!

اللہ قرآن میں پکارتا ہے: ’’اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ، بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں دور کردے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبیؐ کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رْسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا، اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کردے اور ہم سے درگزر فرما، تْو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ‘‘ (التحریم۔ ۸)

اللہ سے سچی توبہ کرنے، مغفرت پانے، روح کا نور پانے، بڑھانے، آخرت کے دن کی تاریکی دْور کرنے کا ایک اور موقع رب تعالیٰ قریب لارہے ہیں۔ اللّٰھم بارک لنا فی شعبان و بلِّغنا رمضان۔ ہمیں اب سے گناہ، بے پروائی چھوڑنے کی تیاری کرنی ہے۔ یہ نہیں کہ رمضان آکر خود ہی گناہ چھڑا دے گا۔ برادرانِ یوسف کی طرح: ’’وتکونوا من بعدہ قوماً صالحین۔ ‘‘ (یوسف۔ ۹) (قتلِ یوسف کرلو، یا اسے کہیں پھینک دو)  ’’یہ کام کر لینے کے بعد پھر نیک بن رہنا۔ ‘‘  نہیں! ہمیں ابھی سے متوجہ ہونا ہے۔ یہ دو کردار اللہ نے ہمارے سامنے رکھے ہیں۔ نفسِ امارہ کا گناہ پر مائل کرتے ہوئے حیلہ!ابھی گناہ کرلو، رمضان آکر تقویٰ، پرہیزگاری عطا کر دے گا، پھر نیکی آسان ہوگی۔ چھوٹی موٹی بدپرہیزی سے کچھ نہیں ہوتا۔ 

دوسرا اْسوہ ہمارے سامنے سیدنا یوسف علیہ السلام کا ہے۔ ترغیبِ گناہ پر پکار اٹھتے ہیں:  ’’خدا کی پناہ ! میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی ( اور میں یہ کام کروں!) ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔ ‘‘ (یوسف۔۳ ۲)  اور یہ بھی کہ’’ یوسف علیہ السلام بھی ( گناہ کی طرف) بڑھتے، اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتے۔ ‘‘ (یوسف۔۴ ۲)  ہمارے لیے نمونہ عمل یہ ہے۔ اپنی شانِ کریمی سے رب تعالیٰ نے ہمیں دینی فہم اور شعور عطا کیا۔ قرآن و سنت سے مسلسل اس کی آبیاری فرمائی۔ روشن دلائل سے حق کی پہچان عطا فرمائی۔ ہمارے پاس آسانی سے گناہ پر مائل ہوجانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ترغیباتِ گناہ کی حیثیت بھنبھناتی مکھیوں مچھروں کی سی ہے، جس پر طبیعت گریزاں ہو، گھِن کھائے دور ہٹائے، وہاں سے اٹھ جائے، ’احسن مثوایٰ‘۔ ۔ مسلم شناخت، دین کی طالبِ علمی یادین دنیا تک پہنچانے کاذمہ دارانہ مقام ، اخرجت للناس ۔ سو اندر کی روشنی ہر لمحہ بڑھانے کی فکر ہو جو اللہ نے دے کر ہمیں زمین پر بھیجا ہے۔ نقطہ نور ے کہ نامِ اوخودی! اللہ کی وہ پھونک جس نے مٹی کے پْتلے میں چراغاں کرنا، اس کی شخصیت کو منور کرنا تھا۔ چلئے ہم گناہ گاروں کے لیے ’انعمت علیھم‘ کے ذی شان صدیقیت کا مقام مشکل سہی مگر شہادتِ حق ( جس کی اعلیٰ ترین منزل جان دے کر شہید ہونا ہے) کی زندگی، شاہدِ حق بننا، صالحیت کے زمرے سے قریب تر رہنا تو ضروری ہے۔ ہمارے اندر جو روشنی اللہ نے رکھی ہے اسے گھٹانا بڑھانا ہمارے بس میں ہے۔ یہ ہر گناہ پر گھٹتی اور ہر نیکی پر بڑھتی ہے۔ ’’ قدافلح من ذکّٰھا وقد خاب من دسّٰھا‘‘  فلاح و خسران اسی سے وابستہ ہے۔ بے پروائی سے گناہ کرتے چلے جانا قلوب کو زنگ آلود، سیاہ کردیتا ہے۔ رمضان قریب آرہا ہے۔ سینے میں ودیعت ایمان کی شمع کی لو بڑھانی ہے۔ 

گھروں، خاندانوں، معاشرے کی ہر رو میں تنکا بن کر بہہ جانا، ہوا کے ہر رخ پر اْڑنا، ہر رنگ میں رنگے جانا خواہ وہ ویلنٹائن کا لال رنگ ہو یا ہیلووین کے سیاہ بھوت رنگ۔ ۔ ۔ ایمان پر تو گھپ اندھیرا چھا جائے گا۔ ہر شادی بیاہ پر کھلے عام ٹوٹتی حدود اللہ، اسراف اور نافرمانیوں بیچ گونگے شیطان بن کر دین داروں کا بیٹھ جانا، گناہوں کو جواز دینے اور اپنے خلاف حجت قائم کرنے کے مترادف ہے۔ صلہ رحمی، اللہ کی نافرمانی کے بیچ جا بیٹھنے کا نام نہیں ہے۔ یہ دین کی تحقیر ہے۔ رمضان کے لیے یکسو، یک رنگ صبغۃ اللہ میں رنگے جانے کی فکر پہلے سے کرنی ہے۔ وَمَن اَحسَنْ مِنَ اللّہِ صِبغۃ ً (البقرۃ۔۳۸ ۱) ’’اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟‘‘

تو اے مسافرِ شب خود چراغ بن اپنا

کر اپنی رات کو داغِ جگر سے نورانی

ہرمسلمان اللہ کے دین کاترجمان اور کارکن ہے۔ کائنات میں اللہ کے جنود، اس کے لشکروں میں سے ہمارا مقام اشرف المخلوقات کا ہے۔ اللہ کے تکوینی ہیبت انگیز لشکر دنیا میں جابجا کار فرما دیکھے جا سکتے ہیں۔ طوفانوں، بگولوں کی شکل اختیار کرتی ہوائیں، کورونا کے لشکر، بپھرے دریا، سمندری لہریں، قطبی بھنور دو ہزار میل پر محیط قطبین سے اٹھ کر سپر پاور کو زیر کرتے۔ بندہ مومن تشریعی کارکن ہے۔ طالبان بھی قطبی بھنور بن کر اٹھے اور سارے طاغوتوں کو لپیٹ میں لے کر پٹخا۔ آج کی دنیا میں رمضان کی بھرپور تیاری، اور زیادہ اہم ہے فتنوں کی آندھیوں کے تناسب سے۔ بے دینی لوگوں کو نگلے جارہی ہے۔ جو رب لوگوں کو نظر نہیں آتا، ہم اسی رب کے گواہ بن کر روزے رکھتے، پردہ کرتے، نماز، طواف، زکوٰۃ کے ذریعے شہادتِ حق دینے کے ذمہ دار ہیں۔ طالبان نے یہی گواہی آخری انتہا تک جاکر دی۔ عبداللہ بن حجشؓ کی طرح اعضاء کٹواکر، صورتِ حمزہ کلیجہ چبواکر، سالم مولیٰ ابی حذیفہ کی مانند جھوٹی نبوت پر قیمتی حافظِ قرآن یہ کہتے ہوئے شہید ہوئے کہ میں بہت برا حاملِ قرآن ہوں گا اگر جم کر نہ لڑا۔ یہ ہے فہمِ قرآن! 

ہمیں رب کے حضور حاضری کی تیاری کرنی ہے۔ رمضان کے ہرے بھرے لدے شجرِ طیّبہ کے نیچے بیٹھ کر یہ کہتے ہوئے:  رَبِّ اِنیِّ لِمَا اَنزَلتَ اِلَیَّ مِن خَیرٍ فَقِیر (القصص۔۴ ۲)  ’’ پروردگار ! جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘

ہم اْس کے در کے بھکاری ہیں، تقویٰ کی دولتِ عظمیٰ کے۔ ( لعلکم تتقون)۔ ہم طلب گار ہیںکہ رمضان سے ’لعلکم تشکرون‘ کا تحفہ ہم پاسکیں۔ ہم قریب و مجیب رب کا قرب چاہتے ہیں ’لعلھم یرشدون‘ میں شامل ہونے کی امید پر۔ فتنہ دجال کی آندھیوں میں رنگ برنگے داعیوں کے پھندوں سے بچ کر صراط ِ مستقیم پر استقامت پا سکیں۔ 

رمضان کی کہانی میرے اندر کی دنیا اجالنے سنوارنے کی ہے۔ میں نے، آپ نے اللہ سے بہ زبانِ اقبال کہا تھا:

اس پیکرِ خاکی میں اک شے ہے سو وہ تیری

 میرے لیے مشکل ہے اس شے کی نگہبانی

اللہ نے اس کا آسمانی بند و بست کردیا۔ اس شے کی نگہبانی! پاکیزہ روح، اللہ کی پھونک جسے نورانی ہونا، شفاف رہنا تھا۔ خواہشاتِ نفس کی زور آوری روح کو دبوچ لیتی ہے۔ اللہ نفس کی سرکشی توڑنے کے لیے رمضان کا اہتمام کرتا ہے۔ شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔ نفس کی قوت کے منابع پر تالے پڑ جاتے ہیں۔ غذا بند، آرام بند، خواہشات بند۔  بندے کو اللہ کے در پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ ’’جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں۔ ‘‘ (متفق علیہ)  لگاتار۰  ۳دن صبر، استقامت، ضبطِ نفس، خواہشات رد کرنے کا عزم، زبان بندی، کانوں، آنکھوں پر حیا کے پہرے، چاق و چوبند نگرانی، عقیدہ قرآن سے توحید، رسالت، آخرت۔ یوں سمجھئے کہ یہ ساری خوبیاں روح میں انڈیل کر ۰ ۳دن یکسوئی سے پھینٹی جاتی ہیں، تو نور بھرا تقویٰ برآمد ہوتا ہے جو رمضان کا حاصل ہے۔۰  ۳دن آغوشِ صدف میں مقید ہو کر ابرِبہار ( رمضان:نیکیوں کا موسمِ بہار) کا قطرہ گہر پارہ بن کر نکل سکتا ہے، اگر اس قید کو لاگو کرلے! رمضان میں پوری یکسوئی اور استقامت سے خو دسپردگی  اسے گوہر صفت بنادیتی ہے۔ ورنہ مٹی میں مل کر قطرہ ضائع ہوجاتا ہے۔ 

 آغوشِ صدف جس کے مقدر میں نہیں ہے

وہ قطرہ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر

شرط یہی ہے، ایسا نہ ہو کہ۰ ۳ دن نکل نکل کر دنیا دارانہ مشاغل، مخلوط افطار پارٹیاں، دن بھر خواہشاتِ نفس کو روتے(Colic) بچے کی طرح بہلانا، شام کو صبر کے سارے بند توڑ کر اس کی اشتہا پوری کرنا، خورونوش کے غلام بن کر !  بنی اسرائیل کی طرح، جنھیں جب خیرِامت بنایا گیا تو وہ ذائقوں کی فریاد کرتے رہے۔ ساگ، بھات، دال، پیاز، لہسن۔  اسی روزے سے فرد، فرد پر اللہ کی حکمرانی قائم ہوتی ہے۔ الا لہ الخلق والامر۔ ۔ ۔ دین قائم کرنا اپنی ذات پر۔ پھر جسم کی مملکت پر خودی کی خلافت قائم کرنے میں کامیاب ہوجانے والے ہی بالاخر ’’لیظھرہ علی الدین کلہ ‘‘ کا نبوی مشن نبھانے کے اہل ہوتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں