’’قلب ونظر کی رُسوائی‘‘

’’قلب ونظر کی رُسوائی‘‘

قارئین، وطن عزیز میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی، مگر عالمی طورپر سیاسی حالات دیکھیں تو دنیا بہت تبدیل ہوگئی ہے، مثال کے طورپر آج کل تعمیراتی شعبے سے خصوصی طورپر اس طرح سے تبدیلی آئی ہے، مثلاً سینٹری والے یعنی پلمبر ، ترکھان، لوہار، الیکٹریشن والے پیشے جو زیادہ قابل عزت نہیں سمجھے جاتے تھے، اور ان کی آمدنی یعنی ان کا معاوضہ بھی واجبی سا ہوتا تھا، مگر آج کل وہ لاکھوں میں کھیل رہے ہیں، حتیٰ کہ ان کی آمدنی، ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور گریڈ بائیس کے افسروں اور سیکرٹریوں سے کہیں زیادہ ہے، اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب میں ان پڑھوں کو دیتا ہوں تو عقلمند دنگ رہ جاتے ہیں،  میں بات کررہا تھا، تبدیلی معاشرت، تبدیلی خوراک وزراعت ، تبدیلی حالات وواقعات ، تبدیلی انداز نشست وبرخاست غرضیکہ انداز گفتگو کی تبدیلی نے تو معاشرے کو جھنجوڑ کررکھ دیا ہے خاص طورپر ہمارے سیاستدان خواہ وہ حکومت کے اکابرین بلکہ ملک کے بائیس کروڑ عوام کے حکمران، یعنی وزیراعظم نے ہاتھ میں بندوق رکھ کر ہاتھ لبلبی پر بھی رکھ دی ہے، یہ الگ بات ہے کہ عمران خان کو بندوق پکڑانے والے سہولت کاروں نے بندوق سے کارتوس نکال لیے ہیں، قوم کو شکرانہ ادا کرنا چاہیے کہ دنیا کی یہ مہنگی ترین بندوق کسی جانور کے ہاتھ میں نہیں ہے، شاید اس لیے کہ وزیراعظم ریاست مدینہ کے دوسرے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے، جبکہ ریاست مدینہ کے بانی حضورؐ کا فرمان ہے کہ میری بعثت کا مقصد اخلاق کی تکمیل ہے، جبکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں اور کیا خوب بات کی ہے کہ جو آج کے حالات کے عین مطابق ہے، کہ اخلاق یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال یعنی اپنی کارگزاری کا معاوضہ نہ لے سورۃ النساء میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر تم میں کسی بات کا اختلاف ہو جائے، تو اسے اللہ تبارک تعالیٰ اور سول پاکؐ کی طرف لوٹا دو، قارئین کیا خوبصورت فرمان الہیہ ہے کہ تم اپنا اختلاف خود نمٹانے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا دو، یعنی احکامات اسلامی کے مطابق حل کرلو، وگرنہ خاموش ہوجائو ، صرف مولانا فضل الرحمن کی ذات، اور ان کی عبادات کو نشانہ بنالینا، کونسی دانش مندی اور عقل مندی ہے، ہرحکومت میں شامل رہنے والے تو ہمارے وزیراطلاعات شیخ رشید احمد بھی ہیں، مگر ان کی زبان وبیان کا انداز، تو محض اور محض خوشامد پسندی، اور ہٹ دھرمی کا مظہر ہے جسے قوم پسند نہیں کرتی، بلکہ توبہ توبہ کراٹھی ہے، کہ حکمرانوں نے انداز حزب اختلاف کیوں اپنا لیا ہے؟ جبکہ شیخ رشید احمد کئی بار یہ بھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ وہ خدا کے پسندیدہ بندے ہیں شاید وہ یہ سمجھتے ہوں گے کہ بار بار اور مسلسل وزارت، مشاورت ملنا اللہ تبارک وتعالیٰ کی پسند اور قرب کا اظہار ہے، اگر انہوں نے خدا کے قرب اورخدا سے دوری کو جانچنا ہے تو وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول مبارک کو غور سے سمجھیں ، فرماتے ہیں، کہ کسی کا ظرف جاننا ہو، تو اس کو اورعزت دو، اگر تو وہ اعلیٰ ظرف ہوگا تو تمہیں اور عزت دے گا اوراگر کم ظرف ہوا، تو اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھنا شروع کر دے گا۔ 

اسی لیے مفکر اسلام وپاکستان حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ 

نگاہ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو!

تراوجودہے قلب ونظر کی رسوائی 

میں ان سطور تک پہنچا ہی ہوں، کہ خبروں میں سنا، کہ کارکنان تحریک انصاف نے وزیراعلیٰ ہائوس سندھ پردھاوا بول دیا ہے، اور اپنے ان کارکنوں کو جن کے خلاف پرچہ درج کرادیا گیا تھا، وزیراعظم کے مشیر خاص شہباز گل تھانے جاکر ان کو چھڑواکر لے آئے ہیں جو کہتے نہیں تھکتے تھے کہ قانون کو کسی صورت ہم اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے، میں فاروق الحسن چوہان ، فواد چودھری کے ساتھ ساتھ ان درجنوں مشیران کرام کی بات نہیں کررہا، کہ وہ محض وزیراعظم کو خوش کرنے کے لیے ان گھٹیا الفاظ کا چنائو کرتے ہیں کہ جنہیں سن کر گھن آتی ہے، میں خدا کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ ان حالات پر صرف تحریک انصاف کی حکومت کو محض ان کی بے لگام زبان نے پہنچایا ہے اگر ان میں سے کسی کی بات کا جواب نہ دیا جاتا، تو اب بھی مہنگائی کے باوجود امن وسکون ہوتا اور لوگ روزانہ کی بنیاد پر ازخود، اور عمداً جان بوجھ کر پراسرار مقررکردہ اہداف اور منصوبہ بندی کے تحت کی جارہی ہے اور حزب اختلاف اور پی ڈی ایم شہباز شریف کہتے ہیں کہ حکمران جان بوجھ کر اتنی زیادہ مہنگائی کررہے ہیں تاکہ آنے والی حکومت کیلئے اسے گھٹانانا ممکن ہو جائے۔ 

حتیٰ کہ اب توبالآخر پاکستان کے وزیر خزانہ شوکت ترین بھی یہ بدترین بیان دینے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ایک تو ہمیں اپنے اتحادی ملکوں سے ہماری امیدوں کے مطابق قرضے یا امداد جس کو ہم خیرات بھی کہہ سکتے ہیں نہیں ملی، دوسرے آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو مان لینے کی وجہ سے ہم پہ یہ افتاد آئی ہے، میں حیران ہوں کہ شہباز شریف اورحمزہ شہباز اورنگ زیب لغاری، عظمیٰ بخاری، احسن اقبال وغیرہ صرف عمران خان کو ’’ نیازی صاحب‘‘ کیوں کہتے ہیں ، اس کی جو وجہ ہمیں سمجھ آتی ہے وہ ان شاء اللہ اگلے کالم میں لکھوں گا۔ 

فی الحال اس پر اکتفا کریں، رسول پاک ؐ نے ایک ایسے گدھے کو دیکھا کہ جس کے چہرے پر ضربات کے نشان تھے آپ ؐ نے اسے بہت برا محسوس کیا، فرمایا ، اس شخص پر خدا کی لعنت ہو جس نے اس کے چہرے پرضربات کے نشان لگائے (مسلم شریف) 

یہ ہے ریاست مدینہ کے حیوانات پر احسانات، ہمارے صحافی بھائی محسن بیگ انسانوں پر سرکار دوعالم ؐ کے احسانات کے بارے میں کبھی ان شاء اللہ پریس کانفرنس میں بتائیں گے۔ (جاری ہے)

مصنف کے بارے میں