ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4013 ارب روپے جبکہ عام آدمی پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا: اسحاق ڈار

ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4013 ارب روپے جبکہ عام آدمی پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا: اسحاق ڈار

اسلام آباد :  وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 3500 ارب روپے سے بڑھا کر 4013 ارب روپے کر دیا گیا ہے اور اس میں عام آدمی پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، بجٹ میں 120ا رب روپے ٹکیسز لگائے گئے ہیں جبکہ مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کی مد میں 33 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔


ہفتہ کو بعد از بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ زراعت کیلئے پچھلے سال کے تمام رعایتی پیکج بحال رکھے ہیں، ڈی اے پی کھاد پر سیلز ٹیکس میں 300 روپے کی کمی کی گئی ہے، ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کا ریٹ 5.35 روپے فی یونٹ رکھا گیا ہے ، آب پاشی کیلئے 3 سے 36 ہارس پاور پیٹر انجنوں پر ٹیکس ختم اور پولٹری کے شعبہ کے ٹیکسز کی شرح کو 17 فیصد سے 7 فیصد تک کم کیا گیا ہے، کوئی ایسا ٹیکس نہیں لگایا گیا جس سے دودھ کی قیمت میں اضافہ ہو، 15جولائی تک 10لاکھ سے کم کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیم کلیئر کئے جائیں گے جبکہ اس سے زائد کے کلیمز 14 اگست تک کلیئر کر دیئے جائیں گے اور یہ نظام آن لائن رکھا جائیگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بہت جلد جی 20ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا، حکومت ایک ارب ڈالر مالیت کے بانڈز جاری کرے گی اور سمندر پار مقیم پاکستانیوں سمیت دیگر غیر ملکی اس میں سرمایہ کاری کر سکیں گے، سمندر پار مقیم پاکستانیوں کیلئے اسلام آباد ایک رہائشی سیکٹر بنایا جائیگا، اس کیلئے وصولی غیر ملکی کرنسی میں بنکنگ چینل سے ہو گی، سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بینک قائم کیا جائے گا جو صرف نجی شعبہ میں سرمایہ کاری کرے گا، چھوٹے قرضے حاصل کرنے والوں کی سہولت کےلئے پاکستان پاورٹی فنڈ سمیت دیگر اداروں کے ادغام سے پاکستان میکرو فنانس کمپنی بنائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد کے ایڈہاک اضافہ کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کے بعد بنیادی تنخواہ پر10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا، ہاﺅس بلڈنگ کے بیوہ خواتین کے پانچ لاکھ روپے تک کے قرضے معاف کیے جائیں گے، بجلی کے گھریلو صارفین کےلئے 300 یونٹ بجلی صرف کرنے، ٹیوب ویلوں اور بلوچستان کے حوالے سے سبسڈی اور مراعات برقرار رکھی جائیں گی، سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ سے سیمنٹ کی فی بوری قیمت صرف 12روپے تک بڑھے گی، 2018ءانتخابات کا سال ہے اس لیے توقع کی جارہی تھی کہ آئندہ مالی کے بجٹ میں مراعات دی جائیں گی اور حکومت نے پوری کوشش کی ہے کہ میکرو اکنامک استحکام کے فوائد کو محفوظ بنا کر زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے ۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمیں ملک کے معاشی استحکام کیلئے ملکر سخت محنت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم چارٹر آف اکانومی پر اتفاق کریں تاکہ معاشی اہداف حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی بجٹ تقریر میں بھی تین سال کی بجائے پانچ سال کے میکرو اکنامک اہداف کا ذکر کیا تھا تاکہ سال 2018-23ءکے دور حکومت میں، جس کسی کو بھی حکومت کا موقع ملے، وہ معاشی اہداف کے حصول کو یقینی بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل یہ آخری سال ہے جس میں ہمیں چارٹر آف اکانومی پر متفق ہو جانا چاہئے تاکہ اقتصادی اور سماجی اہداف کا درست تعین کیاجاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مسائل کو مد نظر رکھ کر ترقیاتی اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کی کوشش کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے مجموعی بجٹ میں آئندہ مالی سال 2017-18ءکیلئے 11.7 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے اور قومی بجٹ کے حجم کو 4256 ارب روپے سے بڑھا کر 4753 ارب روپے کیا گیا ہے ۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اہم نکات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے دفاع سمیت قومی معیشت کے دیگر شعبوں پر خصوصی توجہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کیلئے وفاقی حکومت کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا بجٹ 715 ارب روپے سے بڑھا کر 10کھرب ایک ارب روپے کیا گیا ہے جبکہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 11 کھرب 12 ارب روپے ہے۔ اس طرح آئندہ مالی سال کے دوران مجموعی ترقیاتی بجٹ کا حجم 2100 ارب روپے سے زائد رکھا گیا ہے جو ملک کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے دور اقتدار کے پہلے سال میں ہی معاشی اہداف کا تعین کیا تاکہ پہلے اقتصادی استحکام حاصل کر کے شرح نمو پر توجہ دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقتصادی شرح نمو میں اضافہ کیلئے گذشتہ سال کئی اقدامات کئے تھے جن سے خاطر خواہ نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبہ کی شرح ترقی 3.46 فیصد رہی جس میں مزید اضافہ کیلئے زرعی قرضوں کی فراہمی میں اضافہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے پہلے سال میں زرعی شعبہ کیلئے 300 ارب روپے سے زائد کے قرضوں کا ہدف مقرر کیا تھا جو جاری مالی سال کیلئے 700 ارب روپے ہے اور توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام تک قرضوں کی فراہمی کا ہدف حاصل کر لیا جائیگا۔ زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے حکومت نے اگلے مالی سال کیلئے قرضوں کے اجراءکا ہدف 1001 ارب روپے مقرر کیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری حکومت نے آئندہ مالی سال کے حوالے سے مختلف معاشی اہداف مقرر کئے ہیں جن کے تحت مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 6 فیصد سے زائد حاصل کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف حاصل کر لئے جائیں گے جبکہ انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کا ہدف 17 فیصد اور افراط زر کا ہدف 6 فیصد کی سطح سے کم رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک کی معاشی ترقی کیلئے میکرواکنامک سٹریٹیجی کے تحت بجٹ تیارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران پہلی مرتبہ ترقیاتی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے اور حکومت نے صرف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے قرضہ لیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں میں بھی غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے قرضے حاصل کئے جاتے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے صرف ترقیاتی اخراجات کیلئے قرضے حاصل کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی معیشت پر دباﺅ کے باوجود رواں مالی سال کے دوران مشینری کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا جس سے تمام شعبوں کی ترقی میں مدد ملے گی اور معاشی شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیٹ ٹو جی ڈی پی کو مزید کم کر کے 60 فیصد سے کم رکھا جائیگا۔ ملک میں بجلی کی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 2018ءتک قومی گرڈ میں 10 ہزار میگاواٹ بجلی کی شمولیت کا ہدف ہے جس کو حاصل کرلیاجائیگا اور ملک سے لوڈشیڈنگ کی لعنت کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو جائیگا۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ سماجی تحفظ کے پروگرام کیلئے بجٹ کو بھی 121 ارب روپے تک بڑھایا گیا جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں 14 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح وفاقی ترقیاتی اخراجات میں11 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال 2017-18 کے بجٹ پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران غیر ترقیاتی اخراجات کی شرح کو افراط زر سے کم رکھا جائیگا جبکہ ماضی میں ہمیشہ اس کے الٹ رہا ہے۔

انہوں نے کہا حکومت مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنے کیلئے جامع اقدمات کرے گی۔ معیشت کے مختلف شعبوں بشمول زراعت ، مالیات ، برآمدات ، سماجی تحفظ سمیت دیگر شعبوں کی ترقی کیلئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ آئی ٹی کے شعبہ کی برآمدات میں اضافہ کیلئے بھی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں آئی ٹی کے شعبہ میں 2 لاکھ نوجوان فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ حکومت مزید افراد کو تربیت دے کر ان کی تعداد 10لاکھ تک بڑھائے گی اس حوالے سے وزارت آئی ٹی کو ٹاسک دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی ہمارا مستقبل ہے جسکی ترقی سے روز گار کے مواقع بڑھیں گے اور ملک میں خود روز گاری کے کلچر کو فروغ ملے گا اور اس کیلئے حکومت نے بجٹ میں ایک جامع پیکج رکھا ہے ، اس کے علاوہ ملک میں مقامی و غیر مقامی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بھی خاطر خواہ اقدامات کئے گئے ہیں اور اس حوالے سے کئی خصوصی سکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ قومی معیشت میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے جس کے پیش نظر 12.5ایکڑ تک کے 20 لاکھ کاشتکاروں کو 50 ہزار روپے تک کے آسان قرضے کم شرح سود پر فراہم کئے جائیں گے اور ان پر شرح سود کو 17 فیصد سے 9.9 فیصد تک کم کیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے زراعت کیلئے پچھلے سال کے تمام رعایتی پیکج بحال رکھے ہیں۔ اس حوالے سے تمام شراکت داروں سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈی اے پی کھاد پر سیلز ٹیکس میں 300 روپے کی کمی کی گئی ہے۔ جس سے ٹیکس وصولیوں میں 13.8 ارب روپے کی کمی واقع ہوگی، جبکہ ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کا ریٹ 5.35 روپے فی یونٹ رکھا گیا ہے جس پر 27 ارب روپے کے اخراجات ہونگے۔ اس کے علاوہ آب پاشی کیلئے 3 ہارس پاور سے لیکر 36 ہارس پاور پیٹر انجنوں پر ٹیکس کو ختم کر دیا گیا ہے اور پولٹری کے شعبہ کے ٹیکسز کی شرح کو 17 فیصد سے 7 فیصد تک کم کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا زراعت پر مثبت اثر مرتب ہوگا۔

خدمات کے شعبہ کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ٹی کو خصوصی مراعات دی گئی ہیں جن کے تحت آئی ٹی پارک کا قیام عمل میں لایا جائے گا، موبائل کارڈز پر ٹیکس کی شرح میں 1.5فیصد کمی کی گئی ہے ۔ اسی طرح ہاﺅسنگ کے شعبہ کیلئے بھی اقدامات کئے گئے ہیں جن سے اس شعبہ سے منسلک 27 ذیلی صنعتوں کو فائدہ حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 3500 ارب روپے ہے جس کو آئندہ مالی سال کیلئے 4013 ارب روپے تک بڑھایا گیا ہے اور اس میں عام آدمی پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 120ا رب روپے ٹکیسز لگائے گئے ہیں جبکہ مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کی مد میں 33 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا ہے جس کے بعد آئندہ مالی سال کیلئے مجموعی طور پر نئے ٹیکسز صرف 87 ارب روپے بنتے ہیں جو انتہائی معمولی اضافہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ عام آدمی پر ٹیکسز کا بوجھ ڈالنے کی بجائے نان فائلرز پر بوجھ منتقل کیا گیا جبکہ کوئی بڑا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا ٹیکس نہیں لگایا گیا جس سے دودھ کی قیمت میں اضافہ ہو اور اس حوالے سے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور صوبائی حکومتوں کو اقدامات کرنے کی ہدایت کی جائیگی کیونکہ ڈیوٹی یا ٹیکسوں میں تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے قیمت نہیں بڑھائی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے میڈیا بھی اپنا کردار ادا کرے اور صارفین کو صورتحال سے آگاہ رکھے تاکہ کوئی بھی خود بخود قیمت نہ بڑھا سکے۔ انہوں نے معیشت کے مختلف شعبوں میں برآمدات کے اضافے اور ٹیکس سٹائل کے شعبہ کیلئے 180 ارب روپے کے پیکج کے بارے میں کہا کہ یہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیل ٹیکس کے ریفنڈ کلیمز کی ادائیگیاں بھی طے شدہ نظام الاوقات کے تحت کی جائیں گی اور 15جولائی تک 10لاکھ سے کم کے کلیم کلیئر کئے جائیں گے جبکہ اس سے زائد کے کلیمز اگست تک کلیئر کر دیئے جائیں گے اور یہ نظام آن لائن رکھا جائیگا تاکہ چیک کی وصولی کے حوالے سے سہولت فراہم کی جا سکے۔ کلیمز کی ادائیگی بینک ٹو بینک ٹرانزیکشنز کے ذریعے کی جائیگی۔ برآمدات میں اضافہ کیلئے کئی مزید اقدامات بھی کئے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شرح نمو میں اضافہ کے ہدف کے حصول کیلئے پی ایس ڈی پی اور صوبائی ترقیاتی بجٹوں کے علاوہ مزید اقدامات بھی کئے جائیں گے تاکہ شرح نمو کو 6 فیصد سے بڑھایا جا سکے۔ اس حوالے سے پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام سمیت کئی اقدامات کئے جائیں گے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کئے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایک ارب ڈالر مالیت کے بانڈز جاری کرے گی جسکی ضمانت حکومت دے گی اور سمندر پار مقیم پاکستانیوں سمیت دیگر غیر ملکی اس میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار مقیم پاکستانیوں کے مطالبہ پر ان کیلئے اسلام آباد ایک رہائشی سیکٹر بنایا جائیگا۔ اس حوالے سے سی ڈی اے کو ہدایات دی جاچکی ہیں جس پر جلد کام شروع کر دیا جائیگا اس کیلئے وصولی غیر ملکی کرنسی میں بنکنگ چینل سے ہو گی جس سے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا یہ رقوم سی ڈی اے کو پاکستانی کرنسی میں ملیں گی لیکن سٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ اور بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے آئی ایف سی کے ساتھ مذاکرات کیے گئے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بینک قائم کیا جائے گا جو صرف نجی شعبہ میں سرمایہ کاری کرے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ حکومت بھی اقتصادی شرح نمو میں اضافہ پر توجہ مرکوز رکھے گی۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان بہت جلد جی 20ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا۔ میکرواکنامک استحکام کے حوالے سے چھوٹے قرضے حاصل کرنے والوں کی سہولت کےلئے پاکستان پاورٹی فنڈ سمیت دیگر اداروں کے ادغام سے پاکستان میکرو فنانس کمپنی بنائی گئی ہے جس کو صارفین کی تعداد 4 ملین سے بڑھا کر 10 ملین کرنے کا ہدف دیا گیا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے شعبہ کے لئے بھی کئی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جاپان اور جرمنی سمیت کئی دیگر مضبوط معیشتوں کی طرح ایس ایم ای کے شعبہ کو حقیقی طور پر قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنایا جائے گا جس سے معیشت میں نمایاں ترقی ہو گی۔ سرکاری ملازمین کے حوالے سے وزیرخزانہ نے کہا کہ ملازمین کی پرانی ڈیمانڈ تھی کہ ان کے ایڈہاک ریلیفز کو تنخواہ میں ضم کیا جائے جس کے پیش نظر حکومت نے50 فیصد کے اضافہ کو بنیادی تنخواہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس اضافہ کے بعد بنیادی تنخواہ پر10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کے لئے دیگر کئی مراعات بھی آئندہ بجٹ میں شامل کی گئی ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں تنخواہوں اور الاﺅنسز میں اضافہ سے 60 ارب روپے کے اخراجات ہوئے تھے جب کہ اس سال اس ضمن میں 125ارب روپے کے اخراجات ہوں گے، ان کے لئے علیحدہ سے کسی بجٹ کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ اس حوالے سے مختلف ڈویژنوں اور محکموں کے لئے پہلے سے ہی بجٹ مختص کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز تین چار وزارتوں میں جانے کے بعد سرکاری ملازمین کا ردعمل جاننے کا موقع ملا تو وہ بہت خوش تھے، اس کے علاوہ شہداء ان کے خاندانوں اور دہشتگردی کی جنگ کے دوران معذور ہونے والوں کے لئے بھی خصوصی مراعات کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ سماجی تحفظ کے پروگرام کے سلسلے میں پاکستان بیت المال کے بجٹ میں 50 فیصد کے اضافہ سے اس کو 4 ارب سے 6 ارب روپے تک بڑھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں ہاﺅس بلڈنگ کے بیوہ خواتین کے ساڑھے تین لاکھ روپے تک کے قرضے معاف کیے تھے جبکہ اب پانچ لاکھ روپے تک کے قرضے معاف کیے جائیں گے جو وزارت خزانہ ادا کرے گی۔ ان اخراجات کا تخمینہ 2.5 ارب سے 3 ارب روپے بنتا ہے، انہوں نے کہا کہ بجلی کے گھریلو صارفین کےلئے 300 یونٹ بجلی صرف کرنے، ٹیوب ویلوں اور بلوچستان کے حوالے سے سبسڈی اور مراعات برقرار رکھی جائیں گی جس پر 121ارب روپے کے اخراجات برداشت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات اور ٹیکسز و ڈیوٹیوں کی شرح میں ردوبدل ان کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ سیمنٹ پر 25 فیصد کے ٹیکس اضافے کی خبریں شائع کی جا رہی ہے جن میں کوئی صداقت نہیں ہے جبکہ سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ سے سیمنٹ کی فی بوری قیمت صرف 12روپے تک بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی شرح میں معمولی اضافہ معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کےلئے کیا ہے، ملک کی ترقی کےلئے اگر تھوڑا بہت بوجھ برداشت کرنا پڑے تو کرنا چاہیے کیونکہ معاشی ترقی کے اہداف ہمارے لئے زیادہ اہم ہونے چاہئیں۔

انہوں نے بجٹ کی کوریج کے دوران میڈیا کے مثبت کردار کو سراہا۔ اس موقع پر صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مزدور کی کم سے کم تنخواہ مختلف فریقین کے ساتھ مشاورت کے بعد مقرر کی گئی ہے تاہم اس معاملہ پر مزید غور بھی کیا جا سکتا ہے۔ کسان اتحاد کے احتجاج سے متعلق وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی ٹیم اور انہوں نے خود بھی شراکت داروں سے ملاقاتیں کیں، انہیں مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ زراعت کے لئے دیا گیا ریلیف پیکج جاری رکھا جائے گا اور بجٹ میں مزید رعایتیں بھی دی جائیں گی لیکن وہ بجٹ آنے سے پہلے ہی سڑک پر نکل آئے۔

انہیں بجٹ کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجٹ کی آڑ میں اشیاءکی قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بجٹ میں کوئی ایسا اقدام نہیں کیا گیا جس سے قیمتوں پر اثر پڑے، اس سلسلے میں وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے علاوہ متعلقہ انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا جائے گا اور انہیں قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے اقدامات کرنے کا کہا جائے گا۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان، وفاقی سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری شماریات اور دیگر اعلٰی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔