ڈا ئیلا گ کو آ گے بڑھا نے کی ضرورت

ڈا ئیلا گ کو آ گے بڑھا نے کی ضرورت

اس وقت ملک میں آئینی مسائل اور سیاسی بے چینی کی وجہ سے معیشت سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہے۔ما ہ، رواں کے دوران پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے مسلسل اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کی کال دیئے رکھی۔ ۔ عمران خان کا دعویٰ تھا کہ پچیس لاکھ افراد اسلام آباد پہنچیں گے اور اس وقت تک وہاں سے واپس نہیں آئیں گے جب تک نئے الیکشن کا اعلان نہیں ہوجاتا۔ تا ہم دوسری جانب حکومت کی اتحادی جماعتوں نے الیکشن کے فوری انعقاد کے امکان کو ردّ کردیا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں جاری آئینی بحران کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پنجاب میں ابھی تک صوبائی کابینہ نہیں بن سکی ہے، صوبہ گورنر کے بغیر چل رہا ہے حالانکہ گورنر ایک آئینی عہدہ ہے اور اسے خالی نہیں رکھا جاسکتا۔ ادھر گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں صدر مملکت کے خلاف ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جو اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اور ملک کی پارلیمانی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کا آئینی بحران کس قدر پیچیدہ ہوچکا ہے۔ گویا صورت حال ایک ایسی خرابی کی طرف جارہی ہے جس کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو صورت حال انتہائی گمبھیر ہوسکتی ہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ کوئی درمیانی راہ نکالی جائے، حکومت اور تحریک انصاف میں ڈیڈ لاک ختم ہو، نئے انتخابات کے روڈ میپ پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے مگر اس وقت تک ایسی کوئی صورت دور دور تک نظر نہیں آتی کیونکہ فریقین کے درمیان اتنی بڑی خلیج حائل ہوچکی ہے کہ جسے پاٹنا فی الوقت ممکن نظر نہیں آتا۔گزرے ماہ جس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش کی جارہی تھی تو اس وقت جنوبی ایشیا کا اہم ملک سری لنکا معاشی بدحالی سے گزر رہا تھا۔ مقامی کرنسی کی مسلسل گراوٹ اور غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہونے پر سری لنکا نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کردیا جس کے بعد ہنگامہ آرائی کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس میں سب سے زیادہ نقصان اشرافیہ کو اٹھانا پڑا کیونکہ عوام تو پہلے ہی متاثر ہوچکے تھے۔تاہم ان حالات کے باوجود پاکستان کی اشرافیہ نے شاید کوئی سبق سیکھنا گوارا نہ کیا اور ملک کی معاشی بحران کے برعکس سیاسی مفادات کا کھیل جاری رکھا ہوا ہے۔ اگر پاکستان کی نسبت ایک چھوٹا ملک غیرضروری قرضوں، غلط سرمایہ کاری کے منصوبوں، درآمدی خساروں، مقامی کرنسی کی گراوٹ اور غیردانش مندانہ سیاسی فیصلوں کے باعث دیوالیہ ہوسکتا ہے تو پھر حجم اور ضروریات کے لحاظ سے بڑا ملک سیاسی انارکی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بدترین معاشی بحران کی بدولت کیوں نہیں تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتا۔ گلوبلائزیشن کے دور میں یہ ممکن نہیں رہا کہ آپ کے پڑوس میں کچھ ہورہا ہو اور آپ اس سے متاثر ہوئے بغیر امن و سکون سے رہ رہے ہوں۔ دورِ جدید میں دنیا کے مسائل اس حد تک آپس میں جڑے ہوئے ہیں کہ یورپ کے کونے میں ہونے والی معاشی صورت حال سے ہزاروں میل دور موجود ملک بھی کسی نہ کسی انداز میں متاثر ہوسکتا ہے۔ معاشی امداد کی غرض سے نئی حکومت دوست ممالک کے پاس جارہی ہے لیکن عالمی سطح پر دوستی اور دشمنی کی بنیاد پر نہیں بلکہ معاشی مفاد کی بنیاد پر مدد کی جاتی ہے۔ چنانچہ سعودی عرب اور عرب امارات نے اس صورت حال میں مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کو پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کرنے چاہئیں۔ دوسری طرف آئی ایم ایف نے بھی اپنی شرائط کے عمل درآمد کا جائزہ لینا شروع کر رکھا ہے۔ 

جب تک آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے نہیں ہوجاتے اس وقت تک پاکستان کی معیشت کا سانس لینا مشکل ہے۔ پاکستان کے روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ جاری ہے، اس وقت ڈالر کی قیمت دو سو روپے سے زائد ہوچکی ہے۔ سٹاک ایکسچینج مسلسل ڈوب رہی ہے اور سرمایہ کار پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ معاشی ماہرین دہائی دے رہے ہیں کہ اسے روکا نہ گیا تو معاشی بحران سنگین ہوسکتا ہے لیکن ریاست کے سٹیک ہولڈرز باہم دست و گریبان ہیں۔ تحریک انصاف پوری شدت سے حکومت گرانے کی کوشش کررہی ہے۔ صدر مملکت اور حکومت آمنے سامنے ہیں۔ منحرف اراکین کے ووٹ نہ گننے کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے پنجاب میں سیاسی بحران کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ سری لنکا کے کیس کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے حالات کا موازنہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ابھی فوری ایسی صورت حال پیش نہ آسکے لیکن جن حالات کا ملک کو سامنا ہے وہ نہایت بھیانک منظر پیش کررہا ہے۔ پاکستان کی حکومت حالات کو بہتر طور پر سمجھ رہی ہے اور یہ حالات بہتر کیسے ہوں گے اس کے بارے میں بھی وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو پوری آگاہی حاصل ہے۔جہاں تک موجودہ حکومت کی پرفارمنس کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا مناسب نہیں ہے کیونکہ حکومت قائم تو ہوگئی ہے لیکن اس کے مسائل بہت بڑھ چکے ہیں، جس کی وجہ سے معاشی شعبے میں اس کی کارکردگی کچھ نمایاں نظر نہیں آتی، گویا معاشی بحران بھی بڑھ رہا ہے۔ حکومت بار بار کہہ رہی ہے کہ اسے کچھ مشکل فیصلے لینا پڑیں گے یہ مشکل فیصلے یقینا عوام کے لیے مسائل کا باعث ہوں گے اور اسی لیے حکومت یہ فیصلے کرنے میں تاخیر سے کام لے رہی ہے۔ لیکن یہ تاخیر معاشی بحران کو مزید گہرا کرتی جارہی ہے۔ ڈالر دن بدن اوپر جارہا ہے، اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں جب سے حکومت آئی ہے ایک سے زائد بار اضافہ ہوچکا ہے۔ اب اس صورت حال میں کہ جب حکومت معاشی ریلیف دینے میں بھی کامیاب نظر نہیں آرہی عمران خان کے اس بیانیے کو کیسے ناکام بنایا جائے گا کہ ان کی حکومت کو ایک سازش کے تحت گھر بھیجا گیا۔ عمران خان احتجاجی سیاست کر رہے ہیں۔ حکومت کے لیے یقینا یہ بھی ایک مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو وہ کیسے حل کرتی ہے اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان کو اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ سیاسی استحکام ہے، اس کے ساتھ ساتھ مضبوط صنعتی پالیسی ہے جو روزگار پید اکرنے، برآمدی پیداوار کو متنوع بنانے اور مقامی معیشت میں قدر بڑھانے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے۔ لگژری اشیاءکے باعث ہمارا درآمدی خسارہ مسلسل خوفناک حد تک بڑھتا جارہا ہے۔ معاشی بحران پر قابو پانا ایک مشکل کام ہے اور اب سارا بوجھ حکومت پر ہے۔ موجودہ حکومت کے پاس وقت بہت کم ہے اور معاشی بحران سے بچنے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے وہ بہت زیادہ ہیں۔ اس بات سے اتفاق کیا جانا چاہیے کہ چند دن کے یے اور چند ووٹوں کی بنیاد پر بننے والی حکومت کوئی بھی طویل المیعاد اور بڑے فیصلے کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اپوزیشن کو بھی اپنی ضد اور انا سے بالا تر ہوکر ملکی مفاد میں کم از کم معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کے ساتھ ”معاشی ڈائیلاگ“ کو آگے بڑھانا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں