ملکی وسائل نگلتا آبادی کا اژدھا

ملکی وسائل نگلتا آبادی کا اژدھا

ملک کی بڑھتی آبادی اس وقت پاکستان کا بڑا تشویشناک مسئلہ ہے۔ ہماری آبادی میں اضافہ ایک سرپٹ گھوڑی کی طرح ہی جس پر کسی کا اختیار نہیں، نتیجتاً ریاست اس آبادی کے لیے مناسب سہولیات مہیا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی بلکہ جو سہولیات میسر ہیں وہ آبادی کےبے جا بوجھ کی وجہ سی غیر معیاری اور ناقص ہو چکی ہے۔ اس حوالے سی گزشتہ روز فیصل آباد کی محکمہ بہبودِ آبادی نے ملکی آبادی میں تیزی سے ہونی والے اضافے سے پیدا ہونے والے مسائل پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ جس طرح کے اعداد و شمار اس سیمینار میں سننے کو ملے وہ بڑے سنگین صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر اسی شرح سے ملکی آبادی میں اضافہ ہوتا رہا تو 2050ءمیں پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا۔ ترقی پذیر ممالک میں آبادی میں اوسطاً اضافہ 3سی 7 فیصد تک ہے جب کہ جاپان میں 0.5 جرمن میں 0.3 برطانیہ 0.1 امریکہ میں1 فیصد ہے۔ 1802ءمیں دنیا کی آبادی ایک ارب تھی اور یہ 7.9 ارب سےزیادہ ہے۔ آبادی بڑھنی کی وجہ سے پانی، غذا، رہائش، تعلیم، بیروزگاری، غربت اور جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومتی سطح پر جو بھی تدابیر کی جاتی رہی ہیں اس کے کوئی خاطر نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ مسلسل بڑھتی آبادی کی وجہ سے بہت سے مسائل مثلاً دریاؤں کا خشک ہونا، درختوں کی کٹائی، بچوں کی مزدوری جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کا مستقبل سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ جسے ہم بہبودِ آبادی کہتے ہیں اس کا مقصد در اصل آبادی میں اضافے کی شرح کو کم کرنا ہے اور قابو میں رکھنا ہے۔ دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ممالک میں والدین ریاست کی مداخلت کے بغیر خود اپنے خاندان کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس منصوبہ بندی میں سب سے پہلا اور ضروری مرحلہ یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ خاندان میں کتنے افراد کا اضافہ مناسب ہو گا۔ 

سیمینار کے شرکاءکو بتایا گیا کہ پاکستان جو کہ آبادی کے لحاظ سےدنیا کا چھٹا ملک تھا اب وہ پانچویں درجے پر آ چکا ہے اور ہمیں سنجیدگی سے اس مسئلے کے حل کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق ہر ایک منٹ میں پاکستان میں 9 بچے پیدا ہو رہے ہیں جب کہ 2 اموات ہو رہی ہیں اس طرح ہر ایک منٹ میں ملک میں 7افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، اس طرح ایک سال میں تقریباً 36 لاکھ بچوں کا اضافہ ہو رہا ہے، جو غربت میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے، صحت اور رہائش کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور جرائم کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ بھی ہے ۔ پاکستان کی ایک تہائی آبادی ایک کمرے کے گھر میں رہتی ہے اور آبادی کا پانچواں حصہ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہمارے ملک کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے اور ہمارے ملک کا صرف 4فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ آبادی کی بڑھنے کی وجہ سے لوگ زراعت کے قابل زمین کو رہائشی مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ غذائی قلت کےباعث صحت مند دماغ نہیں ہیں، پاکستان میں حمل کی پیچیدگی سے وفات پا جانی والی عورتوں کی تعداد 25000 ہے۔ کئی ملین لوگ بیروزگار ہیں اور آنی والے وقت میں مزید بیروزگار ہو جائیں گی۔ مشترکہ خاندانی نظام ، بیٹی کی خواہش، کم عمری کی شادیاں آبادی میں اضافے کا باعث ہیں۔ فیملی پلاننگ ڈیپارٹمنٹ اب تک پاپولیشن مومینٹم کی باعث آبادی کو کنٹرول نہیں کر پایا ہے۔ مسلمان ملکوں میں پاکستان میں ایک عورت اوسطاً 4، بنگلہ دیش میں 3، مصر میں 3.1 اور انڈونیشیا میں 2.4 کی حساب سے بچے پیدا کرتی ہے۔ ہمارےملک کا رقبہ آبادی کے مقابلے میں کم ہے، شہر گنجان آباد ہوتے جا رہے ہیں، شہروں میں ٹریفک کے اژدھام سے انسانی آبادی کے بہت زیادہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، ملک میں لاءاینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔

حال ہی میں ایک دلچسپ ریسرچ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انسان بھی عالمی درجہ حرارت میں بلندی کا سبب بن رہے ہیں، اگر بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کر لیا جائے تو اس سے گلوبل وارمنگ پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ماحول، قدرتی وسائل اور عالمی حدت پر انسانی آبادی کے اثرات کا جائزہ لینے والے برطانوی ادارے "آپٹیمم پاپولیشن ٹرسٹ" نے اپنی ریسرچ میں بتایا ہے کہ انسانی آبادی دنیا کا درجہ حرارت بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی لگائے گئے ایک تخمینے کے مطابق اس وقت کرہ ارض پر سات ارب سے زائد نفوس موجود ہیں جو عملِ تنفس کے ذریعے مسلسل کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں خارج کر رہے ہیں۔

ازل سے اب تک انسان کا سب سے بڑا مسئلہ پناہ کا رہا ہے اسے سرچھپانے اور اپنی حفاظت کے لئیے ہمیشہ سے ایک پناہ گاہ چاہئیے ہوتی ہے جسے اس نے گھر کا نام دے رکھا ہے۔ ہمارے ہاں پہلے ہی موجود آبادی کیلئے گھرکم ہیں اور مختلف حکومتوں نے مختلف ادوار میں جو نعرے لگائے ان میں گھر کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔ گھر بنتے بھی رہے لیکن آبادی کی تیزی سے بڑھنے سے پھر بھی گھروں کی قلت ہی رہی یعنی موجود آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے جتنے بھی گھر بنائے جاتے ہیں آبادی اس سی زیادہ تیزی سی بڑھ جاتی ہی صورتحال جوں کی توں رہتی ہی۔ رہائشی ضروریات کیلئے پوری دنیا میں اوسطاً تین آدمیوں کیلئے ایک کمرہ درکار ہوتا ہے لیکن پاکستان میں اوسطاً ایک کمرےمیں سات آدمیوں کی رہائش تصور کی جاتی ہے۔ اس وقت اگر ہم آبادی کی تیزی سی بڑھتی ہوئی دبا، دیہاتی آبادی کا شہروں کی طرف انتقال، تعلیمی سہولتوں کی وجہ سی دیہاتیوں کا شہروں میں رہائش اختیار کرنے کا رجحان دیکھیں تو ہمیں ہر سال 16 سی17 لاکھ کی درمیان گھر تعمیر کرنا ہوں گی، لیکن تمام تر کوششوں کی باوجود ہم پانچ لاکھ سے زیادہ گھر نہیں تیار کر پاتے اور وہ بھی صرف پرائیویٹ سیکٹر میں جب کہ سرکاری شعبہ اس سلسلے میں انتہائی بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اگر آبادی اسی تناسب سی بڑھتی رہی تو یقینا یہ گھر بھی کم پڑجائیں گے لہٰذا اگر آبادی کو کنٹرول کر لیا جائے تو ملک میں بہت سارےمسائل باآسانی حل ہو جائیں گے۔ تمام مسائل کو ختم کرنے کی لیے ہمیں آبادی کے اس سنگین مسئلہ کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ شرکا کا خیال تھا کہ گراس روٹ لیول پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے تو اس حوالے سی خاطر خواہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں