شیریں مزاری نے اپنے حلقہ میں کاشتکاروں کی زندگی اجیرن کردی

شیریں مزاری نے اپنے حلقہ میں کاشتکاروں کی زندگی اجیرن کردی

لاہور: انسانی حقوق کی سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اپنے حلقہ میں کاشتکاروں کی زندگی اجیرن کردی اور معصوم بچیوں سے حصول تعلیم کا حق چھین کر انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دیں۔

ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے ضلع راجن پور سے ایم این اے اور سابق وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اور مزاری خاندان نے انسانی حقوق  پامال کرنے کی حد کردی ۔زرعی اصلاحات کے تحت حکومت سے زمین لینا بے زمین کاشتکاروں کا جرم بن گیا ۔کاشتکاروں کو تنگ کرنے کی غرض سے انکے خلاف جھوٹے مقدمات کرانے سمیت انکی بستیاں بلڈوز کردی گئیں ۔۔انسانی حقوق کی وزیر نے اپنے حلقہ انتخاب  میں ننھی پریوں سے حصول تعلیم کا حق چھین لیا ۔ننھی بچیوں نے  نیو نیوز کے توسط سے حصول تعلیم کےلیے فراہمی سکول کی معصومانہ فرمائش کردی ۔ حیران کن طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان  میں مسلمان عبادت کےلیے مسجد تک تعمیر نہیں کرسکتے ۔الاٹی کاشتکاروں  کو تنگ کرنے کی غرض سے پختہ راستے پر دیوار بنا کر انکی آمدورفت مسدود کردی ۔

اس حوالے سے نیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کاشتکاروں  کا کہنا تھا کہ انکے ساتھ وہی سلوک کیا جارہا ہے جو بھارت میں ہندو اور فلسطین میں یہودی حکمران مسلمانوں کے ساتھ کررہے ہیں ۔کاشتکاروں نے ارباب اختیار سے  مزاری خاندان کے ظلم سے نجات دلانے اور انہیں زندہ رہنے کا حق دلائے جانے کا مطالبات کیا ۔

مصنف کے بارے میں