کوئی ڈیل نہیں ہوئی، اسلام آباد میں بیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہوتا: عمران خان

کوئی ڈیل نہیں ہوئی، اسلام آباد میں بیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہوتا: عمران خان

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد سے واپسی کو کوئی ڈیل یا ہماری کمزوری نہ سمجھے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور لانگ مارچ صرف خون خرابے کے خوف سے ختم کیا۔ 

تفصیلات کے مطابق پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم پر امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے کہ ہم اس حکومت کو تسلیم کر لیں گے۔ یہ اسمبلی میں اب غیر قانونی کام کر رہے ہیں اور یہ جو بھی حربے استعمال کریں گے، عدلیہ سے پوچھتا ہوں کہ ہم چپ کر کے بھیڑ بکریوں کی طرح مان لیں گے؟ 

ان کا کہنا تھا کہ باتیں سن رہا ہوں  اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل ہو گئی، ایسا نہ سمجھیں، اسلام آباد سے واپسی کو کوئی ڈیل یا ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے بلکہ مجھے پوری طرح علم ہو گیا تھا کہ حالات اب کس طرف جا رہے ہیں اور اگر میں اسلام آباد میں بیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہوتا، صرف خون خرابے کے خوف سے لانگ مارچ ختم کیا اور اگر 6 روز میں اسمبلیاں توڑنے اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو تیاری کے ساتھ نکلیں گے۔ 

عمران خان نے کہا کہ ہمارا احتجاج پرامن تھا لیکن حکومت نے اسے پرتشدد بنایا اور ہمیں پرامن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، رات کے اندھیرے میں لوگوں کے گھروں پر حملے کئے گئے، کہا جا رہا ہے کہ ہم انتشار کرنے کیلئے جا رہے تھے، کیا کوئی اپنے بچوں اور عورتوں کو لے کر جاتا ہے انتشار کرنے کیلئے؟ جس طرح سے بربریت کا مظاہرہ کیا گیا، یہ یزید کے فالوورز ہیں، ماڈل ٹاؤن میں 14 افراد کے قتل پر انہیں سزا مل جاتی تو یہ لوگ اس طرح کا ظلم نہ کر پاتے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے وکلاءکو بسوں سے نکال نکال کر مارا، حکومت نے پنجاب پولیس کو استعمال کیا اور آئی جی سمیت چن چن کر ایسے افسران لائے گئے جنہوں نے ظلم کیا، کون سی ملک دشمن پولیس ہے جو اپنے ملک کی خواتین اور بچوں پر تشدد کرے، میں گارنٹی سے کہتا ہوں کہ لانگ مارچ والے دن خون خرابہ ہوتا اور پولیس کے ساتھ تصادم ہوتا کیونکہ ہمارے لوگ پولیس کی مار کھا کر وہاں پہنچے اور بہت مشتعل تھے۔ 

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پولیس کا قصور نہیں بلکہ اسے استعمال کیا جا رہا ہے، اگر ہمارے کارکنوں، عوام اور پولیس کے درمیان تصادم ہو جاتا تو ملک کا نقصان ہوتا اور میں نہیں چاہتا کہ ملک میں اداروں اور عوام کے درمیان خلیج بڑھے، لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کر لیں گے تو یہ لوگوں کی بھول ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہم 6 دن دے رہے ہیں اگر انہوں نے واضح طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا اور اسمبلیاں تحلیل نہ کیں تو ہم دوبارہ نکلیں گے اور اب پوری تیاری کے ساتھ نکلیں گے کیونکہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا اور سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہمارے جلسے کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی جائیں گی، کارکنان نے رکاوٹیں ہٹائیں اور اسلام آباد تک پہنچے، میں اپنے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

مصنف کے بارے میں