اگر یہ دو قسم کے پتے کھانے کی عادت اپنالیں تو زندگی میں کبھی پیٹ پر چربی جمع نہیں ہوگی

اگر یہ دو قسم کے پتے کھانے کی عادت اپنالیں تو زندگی میں کبھی پیٹ پر چربی جمع نہیں ہوگی

لندن: موٹاپے میں مبتلا افراد سب سے زیادہ اس بات پر پریشان ہوتے ہیں کہ کامیاب ڈائٹنگ سے وزن کم کرنے کے بعد ان کا موٹاپا واپس کیوں آ جاتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے اس کی وجہ دریافت کر لی ہے اور اس کا علاج بھی بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”بار بار وزن واپس آنے کا سبب آنتوں کے بیکٹیریا ہوتے ہیں۔جب کوئی شخص موٹاپا کم کرنے کے لیے ڈائٹنگ کرتا ہے تو عارضی طور پر وہ سمارٹ ہوتا جاتا ہے، لیکن جب وہ نارمل خوراک کی طرف واپس آتا ہے اور بیکٹیریا کو چکنائی والی خوراک دوبارہ ملنی شروع ہوتی ہے تو وہ پہلے سے زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں مذکورہ شخص کا وزن تیزی کے ساتھ واپس آ جاتا ہے۔“


رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا مزید کہنا تھا کہ ”ڈائٹنگ کرکے وزن کم کرنا فائدے کی بجائے نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ جب متعلقہ شخص ڈائٹنگ کرتا ہے تو وہ غذائی قلت کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کا وزن کم ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس اصل خوراک کی طرف آتا ہے تو اس کے جسم میں پہلے سے زیادہ چربی جمع ہو جاتی ہے۔ آنتوں کے برے بیکٹیریا ہماری خوراک میں شامل ان قدرتی اجزاء”فلیوونوائیڈز“ (Flavonoids)کو نقصان پہنچاتے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے جسم میں چکنائی صرف کرنے کی صلاحیت آتی ہے۔ اس طرح بھی یہ بیکٹیریا موٹاپے کا باعث بنتے ہیں۔“

اس مسئلے کا علاج تجویز کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم کے رکن ایرن سیگل کا کہنا تھا کہ ” اجوائن اور بابونہ میں وافر مقدار میں فلیوونوائیڈز موجود ہوتے ہیں لہٰذا موٹاپے سے نجات پانے کے خواہش مند افراد اجوائن اور بابونہ کے پتے کھانے سے شاندار نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کی چائے بھی بہترین چیز ہے۔ روزانہ اس کاایک کپ پینے سے جسم میں جمع ہونے والی چربی کو پگھلانے میں خاطرخواہ مدد ملے گی۔ اگر موٹاپے کے شکار افراد فلیوونوائیڈز کے حامل ڈرنک کا ایک کپ روزانہ پئیں تو ان برے بیکٹیریا کی کارستانیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ فلیوونوائیڈز سبزیوں اور پھلوں میں پائے جاتے ہیں۔ گریپ فروٹ، مالٹے اور ٹماٹر کے چھلکے میں بھی ایسے اجزاءپائے جاتے ہیں جن سے جسم کی چربی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔“