عدالت نے معاہدہ نہیں دھرنا ختم کرانے کا حکم دیا تھا، جسٹس شوکت عزیز

عدالت نے معاہدہ نہیں دھرنا ختم کرانے کا حکم دیا تھا، جسٹس شوکت عزیز

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو 15 منٹ میں طلب ہونے کا حکم دیا جس پر احسن اقبال عدالت پہنچ گئے۔


 اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی فیض آباد دھرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی ۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے فیض آباد دھرنا پریڈ گراؤنڈ منتقل کرنے کے لئے انتظامیہ کو 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ مہلت ختم ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے آج دوبارہ سماعت کی تو وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے۔

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیرداخلہ رات بھر دھرنا مظاہرین سے مذاکرات کر رہے تھے اور ساری رات کے جاگے ہوئے ہیں کچھ دیر میں عدالت کے روبرو پیش ہو جائیں گے جس پر عدالت نے انہیں 15 منٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا تاہم کچھ دیر بعد احسن اقبال عدالت کے طلب کرنے پر پیش ہوئے۔ اس موقع پر چیف کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ دھرنا مظاہرین سے معاہدہ طے پا گیا اور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کر دیا جائے گا جس پر جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے معاہدے کا نہیں فیض آباد کو دھرنا مظاہرین سے خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔

معزز جج نے استفسار کیا کہ آپ معاہدہ پڑھ کر سنائیں جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ راجا ظفرالحق رپورٹ منظرعام پر لائی جائے گی جس کے تحت ذمہ داران کے خلاف 30 روز میں کارروائی ہو گی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی معاہدے کے نکات دیکھ کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا انوشے رحمان کو بچانے کیلئے آپ زاہد حامد کی قربانی دے رہے ہیں۔

جسٹس شوکت صدیقی نے مزید استفسار کیا کہ معاہدہ بہ وساطت میجر جنرل فیض حمید کیا ہے اور آئین کے تحت کسی میجر کو ثالث بننے کا کیسے اختیار ہے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ دھرنا ختم ہونے والا ہے اور کچھ دیر میں پریس کانفرنس بھی ہو گی جس پر عدالت نے سوال کیا کہ اس کی کیا ضمانت ہے جس پر وزیر داخلہ نے بتایا کہ دھرنے والوں نے اس حوالے سے لکھ کر دیا ہے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے موقف اختیار کیا کہ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال تھی جو کیا ملک کے مفاد کی خاطر کیا جس پر فاضل جسٹس نے کہا کہ آپ نے اسلام آباد انتظامیہ کو ذلیل کروا دیا اور پولیس کو آپ نے بے رحمی کے ساتھ ذلیل کرایا۔ عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر تے ہوئے بیرسٹر ظفر اللہ کو پیش ہونے اور راجہ ظفرالحق کی رپورٹ طلب کر لی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں