شمالی کوریا کا آخری جوہری تجربہ، زلزلے میں درجنوں افراد ہلاک

شمالی کوریا کا آخری جوہری تجربہ، زلزلے میں درجنوں افراد ہلاک

ایشیا کے اہم ترین ملک میں ایٹمی تجربہ سے زلزلہ آ گیا،بڑے پیمانے ہلاکتیں


نیویارک:شمالی کوریا کی طرف سے ستمبر میں کیے جانے والےجوہری دھماکے کے بعد آنے والے مصنوعی زلزلے میں اطلاعات کے مطابق کئی عمارتیں گر گئیں اور متعدد افراد بشمول سکول کے بچے ہلاک ہوئے۔شمالی کوریا نے 3 ستمبر کو اپنا چھٹا کامیاب جوہری تجربہ کیا جو ہائیڈروجن بم کا تجربہ تھا جسے بین البراعظمیٰ میزائل پر نصب کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت چین اور امریکہ کے زلزلے کے ماہرین نے بتایا تھا کہ اس دھماکے کی وجہ سے پنگ ری کے علاقے میں کم گہرائی کے دو زلزلے آئے جہاں شمالی کوریا کی جوہری تنصیب واقع ہے۔جاپان، جنوبی کوریا کے حکام اور متعدد غیر سرکاری تنظیموں کے ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان زلزلوں کی ممکنہ وجہ جوہری تجربہ تھا۔

میڈیارپورٹس میں بتایاگیاکہ جنوبی کوریا کے خبار کے مطابق ایک ذرائع جس نے حال ہی میں اس جگہ کا دورہ کیا، کے حوالے سے بتایا کہ اس نے وہاں ہونے والے نقصان سے ساو¿تھ اور نارتھ ڈی ویلپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو آگاہ کیا۔ یہ ادارہ شمالی کوریا کے منحرفین کے ساتھ کام کرتا ہے۔تاہم اس ذرائع کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

اخبار نے اس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سندونگ ری کے گاو¿ں میں کئی مکان اور ایک اسکول منہدم ہو گیا اور درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ماہرین کے مطابق ستمبر میں ہونے والے پہلے دھماکے کے بعد 6.3 شدت کا زلزلہ آیا اور اس کی شدت وہی تھی جو ایک میگا ٹن ہائیڈروجن بم کے دھماکے کرنے سے پیدا ہونے والے زلزلے کی ہو سکتی ہے۔

پانچ منٹ کے بعد ماہرین زلزلہ نے 4.6 شدت کے زلزلے کی نشاندہی کی جو بظاہر ممکنہ بطور اس سرنگ کے منہدم ہونے کو ظاہر کرتا ہے جہاں یہ جوہری تجربہ کیا گیا تھا۔اکتوبر میں جاپان کے ایک ٹی وی چینل نے پنگ ری کی جوہری تنصیب کے قریب ایک زیر زمین سرنگ کے منہدم ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ممکنہ طور پر 200 افراد کے ہلاکت کا سبب بنی۔