بھارت کے بلدیاتی انتخابات،80فیصد مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب

بھارت کے بلدیاتی انتخابات،80فیصد مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب

بھارت کی مسلم دشمنی،80 فیصد مسلمان غائب کر دئیے۔مسلمان پریشان


لکھنو: یوپی بلدیاتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ ختم ہوگیا۔ریاست کے25 اضلاع میں ہونے والے اس الیکشن میں لکھنو اور وزیراعظم مودی کا پارلیمانی حلقہ بنارس بھی شامل ہے ۔ دوسرے مرحلہ کے الیکشن میں کئی مقامات پر تشدد کے واقعات ہوئے ، جعلی ووٹ پڑے ، مسلمانوں کے نام ووٹر فہرستوں سے بری طرح کاٹے گئے۔

ا کے باوجود بھی الیکشن کمیشن یہ دعویٰ کرتا پھر رہا ہے کہ دوسرے مرحلہ کا الیکشن پر امن رہاجبکہ ایک بڑی آبادی کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرکے ان کے جمہوری حقوق چھین لیے گئے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق لکھنو کے مسلم محلوں میں صبح جب ووٹ دینے مرد و خواتین پہنچے تو انھیں پتہ چلا کہ ان کے ووٹ پڑ چکے ہیں۔

جبکہ پولنگ بوتھ کھلنے کے 10منٹ بعد یہ لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے وہاں پہنچے تھے ۔لکھنو میں ووٹنگ کے دوران جب مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ دونوں ڈپٹی وزرائے اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور ڈاکٹر دنیش شرما اپنا ردعمل ظاہر کرنے کے بہانے ٹی وی چینلوں پر بی جے پی کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے نظر آئے۔ انتخابات کے دوران متھرا میں بلدیاتی ووٹنگ کے دوران کانگریس اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا اور دیر تک پتھر بازی ہوئی۔

کانگریس کے امیدوار پردیپ ماتھر نے براہ راست کابینی وزیرشری کانت شرما پر الزام لگایا کہ وہ گھوم گھوم کر کئی پولنگ بوتھوں پر فرضی ووٹ ڈلوا رہے تھے جس پر بی جے پی نے اعتراض کیا تو ٹکراوکی نوبت آگئی ۔پردیپ ماتھر نے الزام لگایا ہے کہ متھرا کے مسلم محلوں سے صرف20 فی صد ووٹ پڑے ہیں جبکہ ووٹر فہرست سے 80 فیصد نام غائب کردیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس الیکشن کو جیتنے کے لیے بی جے پی نے وہ سارے حربے استعمال کرلیے ہیں جو جمہوری اصولوں کے خلاف ہیں اور ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہیں۔ اطلاaعات کے مطابق لکھنو اور شاہجہاں پور کے کئی بوتھوں پر فائرنگ بھی ہوئی۔