عدالت کو فوجی ثالثی میں حکومت اور دھرنا قیادت کے معاہدے پر تحفظات

عدالت کو فوجی ثالثی میں حکومت اور دھرنا قیادت کے معاہدے پر تحفظات

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے دھرنا کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ جس کے مطابق عدالت کو معاہدے کی شرائط اور طریقہ کار پر شدید تحفظات ہیں۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج ملکی قوانین کے مطابق اپنے مینڈیٹ سے باہر نہیں جا سکتی۔ عدالت کو میجر جنرل کے ثالث  بننے پر بھی شدید اعتراض ہے۔ تحریری حکم نامہ کے مطابق اعتراض یہ ہے کہ میجر جنرل فیض حمید نے معاہدے پر دستخط کئے۔ بادی النظر میں فوج کی اعلی ٰقیادت نے جو کردار ادا کیا وہ آئین اور قانون کے مطابق نہیں۔ یہ حیران کن ہے آرمی چیف کی کوششوں کو بھی معاہدے میں سراہا گیا اور اعلی ٰعدلیہ کیخلاف ناشائستہ زبان استعمال کی گئی۔


حکم نامے میں مزید کہا گیا وفاقی حکومت اور ثالث نے گھٹیا زبان پر دھرنے کی قیادت سے معافی مانگنے کا نہیں کہا۔ یاد رہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی فیض آباد دھرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی ۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے فیض آباد دھرنا پریڈ گراؤنڈ منتقل کرنے کے لئے انتظامیہ کو 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ مہلت ختم ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے آج دوبارہ سماعت کی تو وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے۔

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیرداخلہ رات بھر دھرنا مظاہرین سے مذاکرات کر رہے تھے اور ساری رات کے جاگے ہوئے ہیں کچھ دیر میں عدالت کے روبرو پیش ہو جائیں گے جس پر عدالت نے انہیں 15 منٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا تاہم کچھ دیر بعد احسن اقبال عدالت کے طلب کرنے پر پیش ہوئے۔ اس موقع پر چیف کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ دھرنا مظاہرین سے معاہدہ طے پا گیا اور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کر دیا جائے گا جس پر جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے معاہدے کا نہیں فیض آباد کو دھرنا مظاہرین سے خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔

معزز جج نے استفسار کیا کہ آپ معاہدہ پڑھ کر سنائیں جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ راجا ظفرالحق رپورٹ منظرعام پر لائی جائے گی جس کے تحت ذمہ داران کے خلاف 30 روز میں کارروائی ہو گی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی معاہدے کے نکات دیکھ کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا انوشے رحمان کو بچانے کیلئے آپ زاہد حامد کی قربانی دے رہے ہیں۔

جسٹس شوکت صدیقی نے مزید استفسار کیا کہ معاہدہ بہ وساطت میجر جنرل فیض حمید کیا ہے اور آئین کے تحت کسی میجر کو ثالث بننے کا کیسے اختیار ہے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ دھرنا ختم ہونے والا ہے اور کچھ دیر میں پریس کانفرنس بھی ہو گی جس پر عدالت نے سوال کیا کہ اس کی کیا ضمانت ہے جس پر وزیر داخلہ نے بتایا کہ دھرنے والوں نے اس حوالے سے لکھ کر دیا ہے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے موقف اختیار کیا کہ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال تھی جو کیا ملک کے مفاد کی خاطر کیا جس پر فاضل جسٹس نے کہا کہ آپ نے اسلام آباد انتظامیہ کو ذلیل کروا دیا اور پولیس کو آپ نے بے رحمی کے ساتھ ذلیل کرایا۔ عدالت نے کیس کی سماعت پیر 4 دسمبر تک ملتوی کر تے ہوئے بیرسٹر ظفر اللہ کو پیش ہونے اور راجہ ظفرالحق کی رپورٹ طلب کر لی۔