آرمی چیف کی توسیع معاملہ،سپریم کورٹ میں سماعت دوپہر تک ملتوی

آرمی چیف کی توسیع معاملہ،سپریم کورٹ میں سماعت دوپہر تک ملتوی
سماعت کے آغاز سے پہلے بیرسٹر فروغ نسیم نے کمرہ عدالت میں وکالت نامہ جمع کروایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ماضی میں جنرل خود کو دس دس سال توسیع دیتے رہے، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کر لیتے ہیں۔


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، اس میں سب کی بات سنیں گے، یہ سوال آج تک کسی نے نہیں اٹھایا، اگر سوال اٹھ گیا ہے تو اسے دیکھیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کابینہ کی نئی سمری عدالت میں پیش کی اور موقف اپنایا کہ عدالت کو آرمی رولز کی شق 255 اورآئین کی شق 243 کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ ‏ازسرنو توسیع سے متعلق قانون دکھائیں جن پرعمل کیا۔ حکومتی وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ‏رول 19 کے مطابق جواب نہ آنے کا مطلب ہاں ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر 57 سال ہے لیکن اس رول میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ نہیں ہوسکتی، یہ تو بہت عجیب بات ہے۔

حکومتی وکیل  نے عدالت کو آگاہ کیا آئین کی شق 243 کے تحت وفاقی حکومت کو مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار ہے اور اس میں دوبارہ ملازمت میں توسیع دینے کی بھی بات کی گئی ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے آرٹیکل 255 جس پر آپ انحصار کررہے ہیں وہ تو صرف افسران کے لیے ہے۔ جس میں آپ نے ترمیم کی وہ تو آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں، یہ آرٹیکل تو صرف افسران سے متعلق ہے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ کل ہم نے جو نکات اٹھائے تھے آپ نے انھیں تسلیم کیا، اسی لیے انھیں ٹھیک کرنے کی کوشش کی گئی۔

اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ ہم نے ان غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے ازخود نوٹس نہیں لیا، ریاض راہی کی درخواست پر ہی سماعت ہو رہی ہے، میڈیا کو اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ کیا رولز پر بحث کے لیے وقت دیا گیا؟۔

اٹارنی جنرل نے مثبت میں جواب دیا کہ ارکان کو وقت دیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں دکھائیں کہ کابینہ نے کل کیا منظوری دی ہے، ہم نے تو مواد دے کر فیصلہ لکھا تھا۔

حکومت کے وکیل منصورعلی خان نے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 255 میں ایک ایسا لفظ ہے جو اس معاملے کا حل ہے، اس آرٹیکل میں حالات کے تحت اگر ریٹائرمنٹ نہ دی جاسکے تو دو ماہ کی توسیع دی جاسکتی ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اگر جنگ ہو رہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جا سکتی ہے۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست دینے والے ریاض حنیف راہی بھی عدالت میں پیش ہو گئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ راہی صاحب آپ کہاں رہ گئے تھے، کل آپ نہیں آئے لیکن ہم نے آپ کی درخواست زندہ رکھی۔

درخواست گزار نے کہا کہ حالات مختلف پیدا ہو گئے ہیں جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ہم انہی حالات میں آگے بڑھ رہے ہیں، آپ تشریف رکھیں۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست جیورسٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں سیکریٹری دفاع اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

اٹارنی جنرل اور فروغ نسیم حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے جب کہ درخواستگزار ریاض حنیف راہی بھی عدالت میں موجود ہیں جبکہ سماعت دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردی گئی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ بینچ میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس منصور علی شاہ بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی گئی تھی۔

وزیراعظم آفس سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کے لیے آرمی چیف مقرر کردیا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا فیصلہ علاقائی سکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔