عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور اِدارے

Hameed Ullah Bhatti, Pakistan, Lahore, Daily Nai Baat, Newspaper, e-paper

عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں کئی ایسے مقررین کو خاص طور پر مدعو کیا گیا جن کی واحد وجہ شہرت اِداروں کی تضحیک ہے اِداروں پر گرجنے اور برسنے والے یہ لوگ اپنی یاوہ گوئی کو اظہار کی آزادی کالقب دیتے ہیں مگر یہ کسی طور آزادی اظہار نہیں بلکہ انتشار پھیلانے کی یہ ایسی سوچی سمجھی سازش ہے جس کی کڑیاں بیرونِ ملک ملتی ہیں اسی لیے نام نہاد آزادی اظہار کو سوچی سمجھی سازش لکھا ہے اِس کانفرنس میں دینی طبقے کوتو نمائندگی دینے سے دانستہ طور پر گریزکیا گیا مگربھارت سے برکھا دت سمیت ایسے لوگوں کو خاص طور پر بلایا گیا جو پاکستان اور پاکستانی اِداروں سے نفرت کرتے کسی ملک کو خاص طور پر نشانہ بنانا کسی طور آزادی اظہار کے زمرے میں شمار نہیں کر سکتے پھر بھی اِدارے کیسے یاوہ گوئی کو برداشت کر تے ہیں سمجھ نہیں آتا؟ حالانکہ اِداروں کا وقار اور ساکھ ختم ہونا نفرت پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے  حیران کُن بات ہے کہ پاکستان میں این جی اوز اور دشمن ملک کی شخصیات کو پذیرائی دی جانے لگی ہے مگر ہمارے اِدارے نوٹس تک نہیں لیتے اِس خاموشی کی وجہ کیا ہے؟ عالمی دباؤ ہے یا فرائض سے غفلت، جو بھی ہے ذمہ داران اپنے اطوار پر نظرثانی کریں۔

آزادی اظہار کے نام پر کوئی ملک کسی کو اپنے اندرونی معامالات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا اگر کوئی سینہ زور ی کا مظاہرہ کرے تو آزاد و خود مختار ممالک کارروائی کرتے ہیں ترکی میں قید حکومت مخالف رہنما عثمان کوالا کے خلاف جاری مقدمے کے بارے میں اٹھارہ اکتوبر کو امریکہ، جرمنی فرانس، ناروے، سویڈن، نیوزی لینڈ، فن لینڈ، کینیڈا، ڈنمارک اور نیدرلینڈ کے سفیروں نے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا کہ جاری مقدمے کو منصفانہ طریقے سے جلد از جلد انجام تک پہنچایا جائے جس پر ترک وزارتِ خارجہ نے بیان کو غیر ذمہ دار کہنے کے ساتھ اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے پہلے وضاحت طلب کی بعدازاں صدر طیب اردوان نے مداخلت کے مرتکب سفیروں کو ملک بدر کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس پر سفیروں کو معافی مانگنا پڑی۔ لیکن ہمارے یہاں صورتحال اتنی خراب ہے کہ دشمن ملک کے لوگ ہمارے اِداروں کی ساکھ پر حملے کرتے ہیں لیکن ہم کچھ کرنے کے بجائے جواب میں مہر بہ لب رہتے ہیں قوم پوچھتی ہے اِس مصلحت کی وجہ کیا ہے؟۔

یہ منظور پشتین ،افراسیاب خٹک اور علی احمد کرد جیسے لوگوں نے عاصمہ جہانگیر کے نام پر جو تماشا لگایا ایسے تماشوں کی کوئی ملک اجازت نہیں دیتا دور کیوں جائیں ہمسایہ ملک کی صورتحال دیکھ لیں وہاں ہر مسلمان، سکھ، عیسائی اور دلت غدار ہے سابق وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا ہندو نظریے پر تنقید کی پاداش میں گھر جلا دیا جاتا ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو اچھے انتظامات پر عمران خان کو بڑا بھائی کہتا ہے تو انتہا پسند ہندو اُسے پاکستان جانے کے مشور ے دیتے ہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت پر خوشی کا اظہار کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے پرچے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی شخص بھارتی فوج یا جنرل کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں کر سکتا لیکن ہمارے ہاں ماورائے عدالت قتل اور مسنگ پرسن کے نام پر اِداروں کو ہدفِ تنقید بنانے والے اِتنے خود سر ہو چکے ہیں کہ عسکری نام لیکر الزام تراشی کرتے اور غدار ہونا تسلیم کرتے ہیں لیکن مذمت کرنا تو درکنار ایسے لگتا ہے کوئی نوٹس تک نہیں لیتا۔ کیا اِداروں سے تنقید کرنے والے زیادہ طاقتور ہیں؟

ستم ظریفی یہ ہے کہ یاوہ گوئی کرنے والے تو بلاروک ٹوک اپنی مذموم حرکتوں میں مصروف ہیں مگرملک میں اُنہیں آئینہ دکھانے والا کوئی نہیں شاید ایک وجہ تو یہ ہے کہ اِداروں کی طرف سے ذرائع ابلاغ پر جواب دینے کا مناسب طریقہ کار نہیں نہ ہی کسی تقریب میں جا کر اظہارِ خیال کیا جاسکتاہے لیکن یہ جو درجنوں کے حساب سے حکومتی ترجمان سارادن میڈیا پر شورشراباکرتے ہیں وہ کیوں اِداروں کی ساکھ سے کھیلنے والوں کو جواب دینے سے پہلو تہی کرتے ہیں؟ کچھ عرصے سے پاک فوج کے خلاف عالمی سطح پر اور ملک میں منظم طریقے سے پراپیگنڈہ جاری ہے افسوس کی بات ہے کہ کسی سیاسی رہنماکو اِس زہریلے پراپیگنڈے کا احساس تک نہیں شاید اُنہیں پاک فوج کے حق میں بات کرنا نفع بخش کام نہیں لگتا مگر اِداروں کے خلاف چلنے والی مُہم سے محب الوطن حلقے سخت مضطرب ہیں کیونکہ کچھ عرصے سے ناقدین کی تعداد بڑھنے لگی ہے جس کا فوری توڑ ازحد ضروری ہے۔

بھارت میں کوئی شخص پاک فوج اور پاکستان کے حق میں نعرے نہیں لگا سکتا نہ ہی اسرائیل میں ایسی حرکت کا سوچا جا سکتا ہے مگر پاکستان میںآزادی اظہار کے نام پر ایسی کھلی چھٹی  ہے کہ لوگ بھارت ،اسرائیل اور امریکہ کے حق میں نعرے لگاتے اور اُن کی افواج کو دعوت تک دینے لگے ہیں یہ آزادی اظہار نہیںبلکہ غداری میں شمار ہوتا ہے ہر کام کی حدود و قیود ہوتی ہیں توسوال یہ ہے کہ اِداروں پر الزام تراشی کی کھلی چھٹی کیوں ہے؟ جو ہمارے ہیرو ہیں انہیں چند کٹھ پتلیاں زیرو ثابت کرنے میں مصروف ہیں لیکن ایسے لوگوں کو منہ توڑ جواب دینے کے بجائے ہر طرف خاموشی ہے۔

اگر پاکستان میں آزادی اظہار پر پابندیاں ہوتیں تو کسی کو اِداروں کی ساکھ سے کھیلنے کی جرأت ہوتی؟ ہر گز نہیں۔ یہ جو مظلومیت کے دعویدار ہیں کیا انھیں معلوم نہیں کہ قوم کے سپوت جان اور خون کے نذرانے دیکر وطن کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں لیکن چند اغیار کے راتب خور کیوں اپنے وطن کے سپوتوں کومایوس کرنا چاہتے ہیں یہ جو بھی ہیں انہیں بے نقاب کرنے کے ساتھ کیے کی سزا ملنا ضروری ہے تاکہ پھر کسی کو وطن کے رکھوالوں پر انگلی اُٹھانے کی ہمت نہ ہو زیادہ نرمی بھی کمزوری کا ہی دوسرا نام ہے ملک و ملت کے دشمنوں سے جو سلوک عا لمی اقوام کرتی ہیں وہی طریقہ کار ملک میں رائج کیا جانا ہی انصاف ہے عاصمہ جہانگیر کانفرنس اگر مکالمے کی شکل ہوتی تو عوامی مسائل اجاگر کرنے اور محرومیوں کو دور کرنے کی تجاویز سامنے آتیں مگر عوامی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے پاک فوج اور عسکری قیادت کو نشانے پر رکھا گیا یہ زہریلی باتیںکرنے والے انسانی شکل میں دراصل سنپولیے ہیں جنہیں کچلنے میں ہی ملک وقوم کی فائدہ ہے ہجوم کے بجائے قوم کے قالب میں ڈھلنے کی ضرورت ہے۔

افریقی ملک ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم ابی محمد نے کارِ مملکت نائب وزیرِ اعظم کو سونپ کر خود حکومت مخالف عسکریت پسند تیگرائی باغیوں کے خلاف فوج کے ساتھ اگلے مورچوں پر جا کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی خبررساں اِداروں کے مطابق تیگرائی باغیوں نے دارالحکومت ادیس بابا کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کرنے سے پہلے ہی ملک کے کئی شہروں پر قبضہ کر لیا ہے جس پر وزیرِ اعظم نے اختیارات سے دستبرداری اختیار کی۔ قومیں ایسے بنتی ہیں جب ملک پر مشکل وقت آئے تو سب قومی سلامتی کے امور پر ایک ہو جاتے ہیں لیکن ہم جانے کن خیالوں میں مگن ہیں خوابِ غفلت سے جاگنے کا وقت ہے تاکہ انسانی شکل والے سانپ اور سنپولیے ملکی سالمیت کو نقصان نہ پہنچا سکیں اللہ کا شکر ہے کہ پاک فوج ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن آزادی اظہار کی آڑ میں اغیار کے کاندوں کی سرکوبی عوامی تعاون سے ممکن ہے ایتھوپیا جیسے ملک کے وزیرِ اعظم سے سبق حاصل کر لیں کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنسوں کے بجائے وطن کے اِداروں کی توقیرکا دفاع ہی اصل حب الوطنی ہے ۔