عدلیہ پر زوال کیوں آیا؟؟؟؟

Humayun Saleem, Pakistan, Lahore, Daily Nai Baat, Newspaper, e-paper

ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق اس پاکستان کی عدلیہ کا انصاف فراہم کرنے میں 126واں نمبر ہے جبکہ پاکستان کی عدلیہ کو جو مراعات دی جا رہی ہیں وہ دسویں نمبر پر ہیں۔یہاں سوال تو اٹھتا ہے کہ ایک ریاست جس کا نام ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو جس کا نعرہ ہو پاکستان کا مطلب کیا لا ا لہ اللہ اس ریاست میں تو انصاف کی فراہمی پہلے نمبر پر ہونی چاہئے لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور انصاف کی فراہمی کے نام پہ ساری دنیا میں ہماری عدالتوں کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے ۔آخر ایسا کیوں ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے اس کا اب تعین کرنا ہو گا اور یہ خرابی کس نے دورکرنی ہے۔علی احمد کرد کی عدلیہ پر تنقید کو مثبت طور پر دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ماضی کو دفن کر کے ہم آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں  ۔یقینا اگر عدلیہ طے کر لے کہ اس نے اب انصاف کی فراہمی میں پہلے نمبر پر آنا ہے تو اسے کون روک سکتا ہے عدلیہ کے پاس اختیارات کی تو کوئی کمی نہیں بس آنے والے ہر مبینہ دبائو کو مسترد کرنا ہو گا  نظریہ ضرورت کے نام کو دفن کرنا ہو گا ۔لیکن ایسے میں تمام اداروں اور حکومت کو بھی اپنا کام کرنا ہو گا کہ اگر عدلیہ انصاف فراہم کرنا چاہے تو اسے نہ کوئی چٹ بھیجی جائے اور نہ نوکری سے گھر بھیجنے کا دبائو ڈالا جائے۔

ماضی کا جائزہ لیا جائے تو نظریہ ضرورت ایک ایسا لفط تھا جو ہماری عدلیہ میں ایجاد ہوا اور پھر اس سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔اس کی تاریخ یہ ہے کہ فیڈریشن آف پاکستان بمقابلہ مولوی تمیز الدین خان (1955) ڈومینین آف پاکستان کا ایک عدالتی مقدمہ ہے۔ پاکستان کی وفاقی عدالت (اب سپریم کورٹ آف پاکستان) نے پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کو برطرف کرنے کے گورنر جنرل آف پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس برطرفی کو اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین خان نے قانونی طور پر چیلنج کیا تھا۔ ایک اختلافی رائے کے علاوہ، عدالت کی اکثریت نے نظریہ ضرورت کی بنیاد پر برطرفی کی حمایت کی۔ اس فیصلے کو جمہوری اصولوں کے لیے ایک دھچکا سمجھا جاتا تھا، جس کے اثرات آج تک موجود ہیں ۔1954 میں جب گورنر جنرل غلام محمد نے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کو تحلیل کر کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر دیا  جبکہ انھیں  آئین ساز اسمبلی کا اعتماد حاصل تھا۔ آئین ساز اسمبلی کے صدر اور مشرقی بنگال کے نمائندے مولوی تمیز الدین خان نے گورنر جنرل کے اقدامات کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ لیکن وفاقی عدالت کے فیصلے نے پاکستان کی پارلیمانی بالادستی کو ختم کر دیا اس فیصلے نے مستقبل کی عدلیہ کے لیے فوجی بغاوتوں جیسے غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدامات کی حمایت کرنے کی راہ ہموار کی۔ 

کچھ تاریخی ناانصافیوں کے ازالے کی ضرورت آج موجود ہے ۔ مکافات عمل دیکھئے کہ آج جومسلم لیگ ن اداروں پر دخل اندازی کا الزام لگا رہی ہے وہ ماضی میں کیا کرتی رہی ہے ۔ابھی ماضی قریب کی ہی بات ہے کہ اصغر خان مرحوم نے ریٹائرڈ جنرل نصیر اللہ بابر کے ان الزامات کی بنیاد پر انسانی حقوق کی پٹیشن دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ آئی ایس آئی نے 1990 کے عام انتخابات میں آئی جے آئی کے لئے ہیرا پھیری کے لیے بعض سیاستدانوں کی وفاداریاں خریدی تھیں۔ ان الزامات کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی ریٹائرڈ جنرل اسد درانی نے عدالت عظمیٰ میں بیان حلفی میں کی۔

 اس میں اس نے انھوں نے اس معاملے میں اپنے کردار کا اعتراف بھی کیا۔ اس چونکا دینے والے انکشاف کے باوجود، یہ مقدمہ 2012 تک لٹکتا رہا جب سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا جس میں سیاسی اور ادارہ جاتی منظر نامے کو جمہوری خطوط پر دوبارہ ترتیب دینے کی صلاحیت تھی۔ اس کے باوجود ابھی تک کوئی احتساب نہیں ہوا، نہ تو ان لوگوں کا جنہوں نے سلش فنڈ کا انتظام کیا اور نہ ہی اس کے وصول کنندگان کا۔ انتہائی احتساب کے دور میں، اس محاذ پر  بھی خاموشی پہرا کر رہی ہے۔

قارئین کرام : ہم اگر آج جمھوری حکومتوں کے دور میں ہونے والی عدلیہ کے خلاف سازشوں کا ذکر کر رہے ہیں مارشل لاء دور کو تو چھوڑ ہی دیں جس میں بھٹو کیس کا فیصلہ بھی ہوا جس بارے میں بعد ازاں سابق چیف جسٹس سید نسیم حسن شاہ نے اعتراف بھی کیا کہ بہت کچھ غلط ہوا تھا  یعنی اس دور میں تو باوا آدم ہی نرالا تھا ۔

 محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے اختیارات کا استعمال کیا جب ڈاکٹر نسیم حسن شاہ 1994 میں چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تو جسٹس سعد سعود جان کو سنیارٹی کی بنیاد پر ان کی جگہ لینا چاہیے تھی۔ لیکن وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے روایت کو بالائے طاق رکھ دیا، جب انہوں نے دو سینئر ججوں کو بائی پاس کر کے سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس آف پاکستان مقرر کیا۔سید سجاد علی شاہ 4 جون 1994 سے 2 دسمبر 1997 تک پاکستان کے چیف جسٹس رہے۔ وہ نواز شریف کیخلاف کیس سن رہے تھے شاید مسلم لیگ ن کا خیال تھا کہ فیصلہ ان کے خلاف آئے گا ۔معاملات 1997 میں اس وقت سامنے آئے جب نواز شریف کرپشن کے الزامات کے خلاف سپریم کورٹ میں اپنا دفاع کر رہے تھے۔ بے قابو ہجوم نے سپریم کورٹ میں گھس کر چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی کرنے پر مجبور کر دیا۔ نوازشریف کے سینکڑوں حامیوں نے عدالت کے اطراف پولیس کا گھیرا توڑ دیا اور چیف جسٹس کو اپنی حفاظت کے لیے بھاگنا پڑا۔ پولیس عدالت کے اندر اور باہر دونوں طرف لاٹھی چارج  کے بعد ہی نظم بحال کرنے میں کامیاب ہوئی۔لیکن شاید یہ جمہوری دور کا سیاہ ترین دن تھا جس دن سپریم کورٹ پر حملہ ہوا ۔اس کے بعد ججوں کو جسٹس رفیق تارڑ مرحوم کے ذریعے کوئٹہ میں بریف کیسوں کے الزام لگے ۔صدر لغاری نے نواز شریف کی حمایت کر رہے تھے ۔ وہ حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے خوفزدہ تھے کیونکہ آٹھویں ترمیم کے منسوخ ہونے کے بعد ان کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا۔ انہیں خاص طور پر اس وقت تشویش ہوئی جب حکومت کی طرف سے انہیں سجاد علی شاہ کو برطرف کرنے اور ایک قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کے لیے کہا گیا۔ اس لیے انہوں نے 2 دسمبر 1997 کو استعفیٰ دے دیا۔ اس کے فوراً بعد، محمد رفیق تاتار، پی ایم ایل (پاکستان مسلم لیگ) ان کی جگہ منتخب ہوئے۔ 23 دسمبر کو اجمل میاں کو مستقل چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ سجاد علی شاہ کو برطرف کر دیا گیا تھا۔لیکن اس سب مسائل میں ایک کام ضرور ہوا کہ عدلیہ نے خود فیصلہ کیا کہ آئندہ سینئر ترین جج ہی چیف جسٹس بنے گا جس پر عدلیہ آج بھی عمل پیرا ہے۔         (جاری ہے)