اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے دوسرے بیٹے نمر مجید کو گرفتار کرلیا گیا

اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے دوسرے بیٹے نمر مجید کو گرفتار کرلیا گیا
سکرین شاٹ

کراچی: اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے دوسرے بیٹے نمبر مجید کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے احاطہ سے گرفتار کرلیا گیا ،ایف آئی اے حکام کے مطابق نمر مجید 11 ایف آئی آر میں مطلوب تھا، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 11 ارب روپے کی بطور گارنٹی لی گئی چینی غائب کردی تھی۔


چیف جسٹس نے انور مجید کو جیل میں بی کلاس فراہم کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جو قوم کا پیساچوری کررہے ہیں انہیں بی یا سی کلاس دے دیں؟تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار انور مجید کی بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پرسماعت ہوئی تو اس دوران اومنی گروپ کی شوگر ملوں سے منجمد چینی غائب ہونے کا معاملہ سامنے آیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے اومنی گروپ کی شوگر ملوں میں منجمند چینی کے غائب ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے اثاثوں کے 14 ارب میں سے 11 ارب روپے کی چینی غائب کردی گئی،کہاں تھی ایف آئی اے اور پولیس ؟کن ٹرکوں پرمال ڈال کرغائب کردیاگیا، کون کون شامل تھا؟

چیف جسٹس کے استفسار پر ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ 9 شوگر ملیں اومنی گروپ کی چھتری تلے چل رہی ہیں، چینی غائب کرنے پر اومنی گروپ کے خلاف 9 مقدمات درج ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کون کون سی شوگر ملوں سے چینی غائب کی گئی؟ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ نوڈیرو شوگرمل، باندھی شوگر،کھوسکی شوگر، انصاری شوگر، ٹنڈوالہ یار شوگر، باوانی شوگر، نیودادو شوگر، لارڈ شوگر اور چمڑشوگر مل شامل ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ شوگرملوں کے چیف ایگزیکٹو کون ہیں؟ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ اومنی گروپ کے مالکان ہی ہیں، اومنی گروپ کے کچھ دفاتر کراچی اور کچھ اندرون سندھ ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایف آئی اے نے ان شوگر ملوں پر پہرے دار کیوں نہیں لگائے؟ اگر کوئی مسئلہ تھا تو ایف آئی اے ہمیں درخواست دیتا۔

ایف آئی اے نے بتایا کہ چینی غائب کرنے والوں میں انور مجید شامل ہوسکتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انور مجید تو جیل میں ہیں، جائیں جیل جاکر انور مجید سے تحقیقات کریں۔

عدالت نے اومنی گروپ کے چیف ایگزیکٹو اور دیگر حکام کو طلب کرلیا جب کہ چیف جسٹس نے کہا کہ اومنی گروپ کے سارے معاملات ہم خود دیکھیں گے۔

دوران سماعت اومنی گروپ کے وکیل نے کہا کہ ہماری درخواستوں پر نظرثانی کی جائے اور انور مجید کو جیل میں بہتر کلاس کی سہولت فراہم کی جائے۔

اومنی گروپ کے وکیل کی استدعا پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے چوری سامنےآچکی ہے اور اب بھی جیل میں بہتر کلاس مانگ رہے ہیں؟ جو قوم کا پیساچوری کررہے ہیں انہیں بی یا سی کلاس دے دیں؟ بہتر کلاس سے اوپر کی کوئی کلاس ہے تو بتائیں؟۔

اومنی گروپ کے وکیل نے کہا کہ انور مجید کو اے کلاس کی سہولت بھی دی جاسکتی ہے اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اتنا مذاق مت کریں، مسئلہ بتائیں، تمام درخواستیں مسترد کرتے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے قصہ ساروان نہیں سننا، جو سننا تھا وہ سن چکے۔

دوران سماعت ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ جیسے ہی ہم عدالت سے نکلے اومنی گروپ کے ڈائریکٹرز اپنے موبائل فون بند کردیتے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ مجھے ایک اور بات پتہ چلی وہ مزیدتشویش ناک ہے، جتنے بھی اومنی گروپ کے لوگ جیل میں ہیں وہ موبائل فون استعمال کررہے ہیں، اومنی گروپ کے جیل میں موجود تمام لوگوں سے موبائل فون چھین لیے جائیں، وہ لوگ جیل سے اندر بیٹھ کر احکامات دے رہے ہیں، آئی جی جیل خانہ جات نے موبائل فون نہ چھینے تو ان کے خلاف ایکشن لیں گے۔

اومنی گروپ کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ ایف آئی اے اومنی گروپ کے ڈائریکٹر کو گرفتار نہ کرے تو آج ہی بیان ریکارڈ کرائیں، ایف آئی اے اومنی گروپ سےکوئی تفتیش کرناچاہے کرسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے کا معاملہ ہے ہم انہیں کوئی ہدایت نہیں دے سکتے، جوغیر قانونی کام میں ملوث ہیں ان کےخلاف قانون کےمطابق مقدمہ درج کیا جائے۔

عدالت نے ایف آئی اے سے اومنی گروپ کا مکمل ریکارڈ 30 اکتوبر کو طلب کرلیا۔بعد ازاں عدالت نے اومنی گروپ کے وکیل کی استدعا پر سماعت ملتوی کردی۔