سپریم کورٹ نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست خارج کردی

Shahbaz Sharif file photo
Shahbaz Sharif file photo

لاہور: سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست خارج کر دی۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ جب یہ درخواست دائر کی گئی تهی اس وقت صورتحال مختلف تهی، نیب جس کا نام ای سی ایل میں ڈالنا چاہتا ہے وہ ملک کی نامور شخصیت ہے۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ ملزم منی لانڈرنگ میں بهی ملوث ہے، اکثر ملزمان ای سی ایل میں نام نہ ہونے کے باعث فرار ہو جاتے ہیں، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق چار روز پہلے 10 رکنی فل کورٹ کا فیصلہ آیا ہے، آپ فیصلہ پڑھ کر کیوں نہیں آتے۔

اس سے قبل میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے غریب عوام کے منصوبے میں تاخیر پیدا کی، جس کی وجہ سے قوم عمران خان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب ہو کر رہے گا، انہوں نے کہا کہ میں نے عوام کی خدمت کی جس کی سزا مجھے مل رہی ہے، لیکن بالآخر سرخرو ہوں گا۔

واضح رہے کہ لاہور احتساب عدالت میں شہباز شریف فیملی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی جس میں جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز پیش ہوئے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و پارٹی صدر شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر کیلئے اسپیکر کو درخواست نہیں دی جائے گی۔ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس خواجہ آصف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آئندہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے منقعدہ کسی بھی تقریب، میٹنگ یا سیمینار میں شریک نہیں ہو گی تاہم لیگی ارکان صرف قومی اسمبلی کے اجلاس اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔ فیصلہ پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے ارکان کو سنایا۔