آہستہ ہونا…… شائستہ ہونا ہے!

Dr Azhar Waheed, Pakistan, Naibaat newspaper,e-paper, Lahore

با ادب سے بے ادب ہونے میں پہلا فرق‘ آواز کا بلندہونا ہے۔ بے ادب وہ نہیں ہوتا‘جو ادب کرنا جانتا نہ ہو‘ بلکہ بے ادب وہ ہوتاہے جو ادب کرنا ترک کر دے۔ ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ گفتار میں آواز کا مدھم رکھنا آدابِ محفل میں بھی ہے اور آدابِ زیست میں بھی!  بلند آواز…… سماعت ہی پر نہیں‘دل پر بھی گراں گذرتی ہے ……اور یہیں سے ادب سے محروم ہونے والا‘نصیب سے بھی محروم ہونے لگتا ہے۔ بانصیب ہونا‘دراصل خوش نصیب ہونا ہے۔ بد نصیب تو وہ ہوتا ہے جس کے نصیب پھوٹ جائیں۔خوش نصیبی کسی خوش نصیب کی معیت حاصل ہونے کا نام ہے۔ جو معیت میں ہوتا ہے‘ اسے بھلا اپنی آواز بلند کرنے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے!! بڑی بھاری دلیل بھی آواز کے بلند ہونے پر اپنا وزن کھو دیتی ہے۔ اگر آپ جانتے ہیں …… تو یہ بتانا ضروری نہیں کہ آپ جانتے ہیں۔جواب ہمیشہ سوال کی دریافت ہوتا ہے۔ مسافرتیز رفتار بھی ہو‘ تو گفتار میں مدھم آواز ہوتا ہے…… کیونکہ اسے راستہ لینا ہے۔ سفر اِذن سے شروع ہوتاہے…… حکم سے طے ہوتا ہے……اور اَمر پر تمام ہوتا ہے۔ حکم لینے کیلئے زبان سے زیادہ کان کھولنے کی ضرورت ہوتی ہے…… تاکہ آنکھیں بھی کھل سکیں!!

انسان کے علاوہ شاید ہی کوئی اور مخلوق ہو‘ جو سرگوشی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو……  جی ہاں! جانور اپنی آواز کودھیما کرنے کا اختیار نہیں رکھتے…… اس لئے وہ جتنے بھی بلند قامت ہوں‘ پست شمار ہوتے ہیں!!  انسان اس لئے بھی انسان ہے کہ وہ خود پر اختیار رکھتا ہے۔محبت کے علاوہ انسان اگر کہیں اور بے اختیار ہو جائے تو شرفِ انسانیت سے معزول کر دیا جاتا ہے۔ جسے محبت بے اختیار نہیں کرتی‘ اسے جبلت بے اختیار کردیتی ہے …… اور جبلتوں کے جنگل میں رہنے والے جانورہوتے ہیں …… ان کی چھاگل میں پانی نہیں ہوتا…… دوسروں کیلئے!!  گدھوں کا ہینکنا، گھوڑوں کا ہنہنانا، سانپوں کا پھنکارنا،بندروں کا خوخیانا، ہاتھیوں کا چنگھاڑنا، اور شیروں کا دھاڑنا…… بالعموم ایک ہی والیوم پر ہوتے ہیں۔ یہ حضرتِ انسان ہے جو اپنی آواز کا قد قدرے کم کر سکتا ہے……  اِس کی قدر اِسی میں ہے!!

آہستہ ہونا…… شائستہ ہونا ہے۔ گفتار اور رفتار میں آہستہ روی ایک باوقار شخصیت کی نشانی ہوا کرتی ہے۔ کردار اور اعتماد سے محروم‘ میانہ روی سے بھی محروم ہوتا ہے۔ تیز بولنا‘اتنا نقصان دہ نہیں‘ جتنااونچا بولنا۔ تیز بولنے والا خلق میں ابلاغ کے حوالے سے کمزورہوتا ہے…… لیکن اونچا بولنے والاخود کو ناپسندیدہئ خلائق بھی بنا لیتا ہے۔ دھیما مزاج رکھنے والا حادثے کا شکار نہیں ہوتا۔ حادثہ صرف وہی نہیں‘جو سڑک پر ہوتا ہے…… حادثہ تعلقات کی دنیا میں بھی رونما ہوتا ہے…… اور اسے سانحہ کہتے ہیں! اونچا بولنا……تعلقات میں اونچ نیچ کا سبب بنتا ہے۔ 

اونچا بولنا بالعموم کسی ردّ ِعمل کا مظاہرہ  ہوتاہے …… اور یادر ہے کہ ردِّ عمل ایک ردّی عمل ہوتا ہے۔ کسی عمل میں مصروف انسان کے پاس ردِّ ِعمل میں بولنے کا نہ مزاج ہوتا ہے‘  نہ فرصت!  بامعنی عمل وہ ہوتا ہے جو کسی ردّ عمل میں نہ ہو!!  ردِّ عمل میں مبتلا 

شخص دراصل ابتلا میں ہے…… اس کی مصروفیت کا کوئی مصرف نہیں ہوتا!

غصہ ……ایک بارود ہے……اور اونچی آواز اسے آگ لگا دیتی ہے۔ گلا پھاڑتی ہوئی آوازکانوں کو بھی پھاڑ تی ہے۔ غصہ ایک زہر ہے…… اوراس کا تریاق خاموشی ہے!!  دنیا میں کون ہے‘ جسے غصہ نہیں آتا…… مگر پکڑمیں وہی آتا ہے جو اونچی آواز میں اس کا اظہار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ تہذیب کی عمارت کو تعمیر کرنے میں صدیوں اور نسلوں کی محنت درکار ہوتی ہے…… غصے کا ڈائنامائیٹ اسے پل بھر میں زمیں بوس کر دیتا ہے۔ غصے کا اظہار بغیرآوازکے بھی ہو جاتا ہے …… یہ ایسا پتھر ہے جو گدلے جذبات کی لہروں پر سفر کرتاہے، مزاج کے دائروں کو درہم برہم کرتا ہے…… اور کسی کثیف کیفیت کی دلدل میں دھنس کر غائب ہو جاتا ہے۔ غصہ چہرے سے بھی عیاں ہو جاتا ہے ……ہم پڑھ لکھ کر لکھنا پڑھنا بھول گئے……دوسروں کے چہروں پر لکھا ہواکچھ بھی نہیں پڑھ پاتے…… نہ سوالات‘ نہ لکیریں!!  انسانوں کی بستی میں جاہل وہ ہے‘ جو جذبات کی زبان نہیں جانتا!!  جو چہرے پڑھنا جانتا ہے‘ اسے اپنی آواز کو بلند نہیں کرنا پڑتا۔عورت کی آواز اور مرد کا ہاتھ بلند نہ ہو‘ تو گھروں میں سکون کا راج ہو!!  گھر میں سکون کا راج ہونے کیلئے کسی کا راجکماری ہونا ضروری نہیں۔ دست درازی کا تعلق بالعموم زبان درازی سے ہوتا ہے۔ گھروں میں دھیمی آواز میں بولنے کا چلن عام ہو جائے تو ماحول خوشگوار ہو جائے۔ طبی اعتبار سے بھی سردرد کی ایک بنیادی وجہ اونچی آواز میں بولنا اور سننا ہے!! اونچا سننا……اونچا بولنے سے بہتر ہے۔  بعض آوازیں سمع خراش بھی ہوتی ہیں ……اور دِل خراش بھی!! دل کی آواز کبھی دلخراش نہیں ہوتی!!

مدھم آواز ……مدھر ہوتی ہے…… موسیقی کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔اونچی آواز شور کی ہم آواز ہے۔ شعور مترنم ہوتا ہے …… شور بے ہنگم ہوتا ہے۔اونچے سُر بھی اونچے نہیں ہوتے۔انسانی فطرت ہے کہ وہ شور کے بجائے شعور کے قریب رہنا پسند کرتی ہے۔ مدھم اور مدھر آوازوں کو چھوڑ کر کرخت اور اونچی آوازوں کاراستہ اختیار کرنا انسان کاایک سفرِ معکوس ہے۔سفرِ معکوس غیر فطری راستوں پر ہوتاہے!!

گفتگو میں آواز مدھم ہوتی ہے…… جھگڑے میں آواز بلند ہوجاتی ہے۔ کسی جگہ دو اشخاص اونچی آواز میں بول رہے ہوں‘ تو سننے والے کو شبہ پڑتا ہے کہ وہ جھگڑ رہے ہیں۔ محبت آواز سے کھرج چھین لیتی ہے۔ محبت کرنے والوں کی آوازیں لوچ اور دھیمے پن سے پہچانی جاتی ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ محبت کے بغیر انسان کو یہی نہیں معلوم ہوپاتا کہ وہ کس سے سننا چاہتا ہے اور کسے سنانا چاہتا ہے…… چنانچہ وہ فرد کے بجائے مجمع کو سنانا شروع کر دیتا ہے…… نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے لاؤڈ سپیکر میں بولنا پڑتا ہے۔دُور کی آواز کو دُور تک پہنچانے کیلئے لاؤڈ سپیکر نہیں‘ بلکہ اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔دل کی آواز سننے کے لیے‘ دل کبھی بھی دُور نہیں ہوتے۔ بس! ہم دلوں کے بجائے سماعتوں سے ٹکراتے رہتے ہیں‘  اس لیے ہاتھ میں لٹھ اور لاؤڈ سپیکر کی ضروت محسوس کرتے ہیں۔سماعتوں میں رس گھولنے والے کلمات دھیمے اور مدھر لہجے میں سنائے جاتے ہیں!! لاؤڈ سپیکر کے بغیر بھی لاؤ ڈ نہیں ہونا چاہیے! طعن و تشنیع اور طنز زیرِ لب بھی ہو‘ تو آواز کے اونچاہونے سے تعبیر ہوگی!!  اپنی آواز کو بلند کرنے کیلئے بلند آواز ہونا ضروری نہیں!!

اونچی آواز میں بولنا یقیناً کوئی معاشرتی جرم ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم میں آوازوں کو قاعدہ سکھانے کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا ہے۔ آواز اونچی ہو جائے تو قاعدے سے باہر ہو جاتی ہے۔ سورۃ لقمان میں فرمایا گیا کہ سب سے بری آواز گدھے کی ہے، سورۃ مائدہ میں بتایا گیا کہ اللہ اونچی آواز کو پسند نہیں کرتا  …… اور جو بات اللہ اپنے لیے پسند نہیں کرتا‘ اپنے حبیب ﷺکیلئے بھی پسند نہیں فرماتا۔ سورۃ الحجرات میں اللہ نے اپنے حبیبﷺ کے سامنے بلند آواز میں بات کرنے کی تعظیماً ہی نہیں حکماً بھی ممانعت کر دی…… یہاں تک تنبیہ کر دی کہ اُن ﷺ کے حضور بلند آواز نہ ہوجاؤ ……اللہ کے نبی ؐ کو ایسے نہ پکارو‘ جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو……کہیں ایسا نہ ہو‘ کہ تمہارے سب اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں اس کاشعور تک نہ ہو……گویاشعورکاسلب ہوناجس جرم کی سزا ہے‘ وہ اللہ کے حبیبﷺ کے حضور اپنی آواز کو بلند کرنا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے لائے ہوئے دین میں آئے دن اپنی من پسند تشریح و توضیح شامل کرنا…… الہامی کلام میں ذہنی تصرف کرنا بھی اللہ کے رسول ﷺ کے ادب کے باب میں تقدم تصور ہوگا ……بعد میں آنے والوں کیلئے اونچی آواز میں بولنے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے۔ اسی سورۃ میں اللہ کریم نے دلوں کا تقویٰ اپنے حبیبﷺ کے حضورادب سے منسلک کر دیا۔ یہاں تقویٰ کا ایک مفہوم تکریمِ نبیﷺ ہے!!  قلوب کا امتحان جس بارگاہِ ادب میں ہوتا ہے‘ وہ بارگاہِ نبویؐ ہے!! 

ادب گاہِیست زیرِ آسمان از عرش نازک تر

نفَس گم کردہ می آید جنید وبایزید اینجا

(آسمان کے نیچے یہ ایسی ادب گاہ ہے جو عرش سے بھی زیادہ حساس ہے، یہاں تو جنید اور بایزید بھی (ادب میں) اپنا سانس گم کر لیتے ہیں)  

حضرت جنید بغدادی ؒ راہِ سلوک کے سرخیل ہیں اور حضرت بایزید بسطامیؒ وادی ئ جذب کے شہسوار ہیں۔ بارگاہِ نبویؐ میں جذب اور سلوک دونوں ادب سے سرنگوں ہیں۔ گویا یہاں جذب بھی سانس روکے ہوئے ہے اور سلوک بھی اپنے پاس و انفاس سمیٹ کر خاموش‘ باادب کھڑا ہے۔صاحب ِ حال مرشدی واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں: 

آپﷺ کی ذاتِ گرامی ہر بلندی سے بلند

پست ہر آواز کا قد آپﷺ کی آواز سے

دست بستہ دُعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں اپنے محبوبؐ کے حضور باادب حاضری کی توفیق عطا فرمائے …… اور آپؐ کے اُمّتیوں کے سامنے بھی ہمیں مدھم ہونے اور دھیمی آواز میں محو ِ کلام ہونے کا شرف عطا فرمائے!رسولِ کریمؐ سے محبت کاتقاضا اور ثبوت اُنؐ کے اُمتیوں کے ساتھ انکسار، اخلاق اور تواضع کاسلوک بھی ہے۔