روم ……اینکہ می بینم

Dr Zahid Munir Amir, Pakistan, Naibaat newspaper,e-paper, Lahore

محبت کی حرارت،تمنااور نمود نوجوانوں کو سوزِآرزوسے سینہ تاب کردیتی ہے۔کسی زخمہ ور کا دستِ کمال،فطرت کے رباب کو چھیڑ تاہے تو اس سے نغمہ ہائے شوق جنم لیتے ہیں۔یہ وہ مناظرہیں جو مسولینی کو اطالوی مسیحا کی شکل میں دیکھنے پر اقبال کی نگاہوں پر ابھرے تھے جوافسوس کہ بعدکے زمانے میں برقرارنہ رہ سکے لیکن اس وقت جذبات کی رفعت کا یہ عالم تھاکہ اقبال نے سوادرومۃ الکبریٰ کے ضمیرکو دگرگوں ہوتے دیکھا اور ندرت فکروعمل کے اس انقلاب پر مسرت خیزحیرت کا اظہارکرتے ہوئے کہا 

اینکہ می بینم بہ بیداری است یارب یابخواب

یہ جو کچھ میں دیکھ رہاہوں یااللہ یہ عالم بیداری ہے یا خواب؟یہ انوری کا شعر ہے جس کا پہلا مصرع ”خویشتن رادرچنین نعمت پس ازچندین عذاب“ہے ……میں اب سرزمین اطالیامیں ہوں ……یہ حقیقت ہے یا خواب؟اطالیا پہنچ جانے کا خیال بہت بہجت انگیز تھا لیکن طبیعت مسلسل زوال پذیرتھی۔طبیعت میں تازگی نہ ہوتو مناظرکا حسن بھی دھندلاجاتاہے زوالِ طبیعت کے باعث ’سوچتاہوں ظاہروباطن میں ہے کیساتضاد،کیا حسیں منظرہے اور کیسی اداسی دل میں ہے‘ کی کیفیت تھی،بیداری اور خواب کی حدیں ایک دوسرے میں گم ہورہی تھیں۔ہوٹل پہنچتے ہی میں نے’فرخے‘کا کچھ حصہ لیااوربیداری اور خواب کے دھندلکے سے مکمل خواب میں چلاگیا۔

اشفاق احمد نے روم میں آنے والے خوابوں کا تذکرہ کیاتھالیکن ساتھ ہی ان کا کہنایہ بھی تھا کہ روم عجیب بستی ہے۔ دو چار دن دھوپ تو پانچ سات دن بارش، نہ یہاں کی مخلوق قرینے سے کوئی کام کرتی ہے نہ خالق…… ناسازی ِطبع کے باعث خواب نگرمیں پناہ لینے والا مسافر دھوپ اور بارش سے بے نیازہوچکاتھالیکن نیند تھی کہ باربارٹوٹتی تھی۔ نیندکاسلسلہ ہی نہیں بدن بھی بری طرح ٹوٹ رہاتھا،گلے کی خرابی بخار کی حدودمیں داخل ہوچکی تھی۔فراق گورکھپوری کا شعراس کیفیت کی ترجمانی کرسکتاہے جس میں روم نے ہمارااستقبال کیا:’اس دورمیں زندگی بشر کی +بیمارکی رات ہوگئی ہے‘ 

رات کی تاریکی میں بیداری میسرہوتو روشنیوں کے خالق سے مکالمہ کرناچاہیے۔ جسم میں جتنی ہمت تھی اسے مجتمع کرکے اس راہ میں کوشش کی۔ اذکاروادعیہ کی جوکتابیں سفرمیں ساتھ رہتی ہیں وہ بھی پڑھ لیں لیکن اندھیراتھاکہ اس کی شدت میں کوئی کمی نہیں آرہی تھی، چاہتاتھا کہ دوبارہ سونے کی کوشش کروں لیکن ایساکرنے میں فجر ضائع ہوجانے کا اندیشہ تھا۔یہاں کی صبح صادق وکاذب کاکوئی اندازہ نہ تھا کہ فجرکا آغازمعلوم ہوتا۔جرمنی کے ایک ایسے ہی تجربے سے یہ اندازہ ہواتھا کہ ریسپشن والوں سے ایسا استفسار کرنا محض پریشانی کا باعث بناکرتاہے اس لیے چاہتاتھاکہ اٹلی میں کسی مسلمان کو فون کرکے پوچھاجائے لیکن ابھی رات ہے جسے بھی فون کیاجائے اس کی نیند خراب ہوگی۔بہ ہر حال جیسے تیسے کسی سے پوچھنے کے خیال کو موخرکرتارہا۔صبح چھ بجے بریشیامیں خرم کو فون کرکے اٹلی میں فجرکاوقت دریافت کیا۔ حذیفہ خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا معلوم نہیں ہوٹل کی دریافت کے سفرمیں رات وہ کب تک جاگاتھا؟اس لیے اب میرے دردسے کراہنے سے بے خبرتھا۔میں چاہتاتھا کہ صبح جلد ناشتہ کرکے بخارکی دوالی جائے، ناشتے کے لیے حذیفہ کا ساتھ ہوناضروری تھا لیکن وہ نوبجے تک سویارہا۔اس کے بعد بیداری کے مراحل طے پاتے رہے،بہ قول ضمیرجعفری’کھلتے کھلتے آدھ گھنٹے میں کہیں مسٹر کھلا……دس بجے ناشتے کا وقت ختم ہوناتھااس لیے جلد ڈائننگ ہال کا رخ کیا۔

ادھریونان میں سفیرپاکستان جناب خالدعثمان قیصر کو میری علالت کی اطلاع ہوچکی تھی،پرسش احوال کے لیے ان کا فون آیااورانھوں نے روم کی سفارت پاکستان کوبھی صورت حال سے آگاہ کردیا۔ ہم نیچے اترے تو ہم سے پہلے سفارت خانہ پاکستان سے قائم مقام سفیرپاکستان (چارج ڈی افئیرز Cda)تنویرصاحب بہ نفس نفیس ہمارے ہوٹل میں تشریف لاچکے تھے۔تنویرصاحب سے پہلی ملاقات تھی۔پہلی ہی ملاقات اچھی رہی۔ یہ جان کر انجانی سی خوشی ہوئی کہ ان کا تعلق سرگودھاسے ہے، ہم قسمت ہونابھی کیسی عجیب بات ہوتی ہے،زمینوں اور زمانوں کے فاصلے پل بھرمیں ختم ہوجاتے ہیں۔تنویرآج کل سارک کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے نیپال میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے کسی دوایاڈاکٹرکی ضرورت کا پوچھا۔ میں نے ان سے ایسی صورت حال میں عام طورسے لی جانے والی اینٹوبائیوٹک ادویہ کا ذکرکیا لیکن یہ یورپ تھاکوئی ایشیائی ملک نہیں جہاں جودوا چاہیں جاکرمیڈیکل اسٹورسے خرید لیں۔ یہاں بغیرڈاکٹرکی تجویزکے، بازارسے دوانہیں ملتی تاہم تنویرصاحب مہربان تھے، انھوں نے کچھ ایساانتظام کیا کہ کچھ ہی دیربعد سفارت پاکستان سے عثمان صاحب میری مطلوبہ اینٹی بائیوٹک ہاتھ میں لیے تشریف لے آئے ……

تنویرصاحب نے کہاتھا جب طبیعت بہترہوتو سفارت خانے تشریف لے آئیں۔ ہماراسفارت خانہ ہوٹل سے قریب ہی ہے لیکن ابھی تو ہمیں ناشتے کا مرحلہ درپیش تھا۔میں اور حذیفہ ناشتے کے کمرے میں پہنچے تو معلوم ہواکہ شب باشی کے بعد بہت سے اطالویوں اور خاص طورپر اطالوی جوڑوں کی صبح بھی ابھی ہوئی ہے۔میں نے تو اپنے لیے پھلوں کاجوس پسندکیا، حذیفہ نے بیکری سے انصاف کرنے کا فیصلہ کیالیکن میری نشست جس جگہ پر تھی اس کے عین سامنے اطالوی حسن کا ایک ایسامجسم نمونہ آکرفروکش ہوگیا کہ جس کے بال،رنگت اور آنکھیں دیکھ کر اکرم شاہ صاحب کا شعرمیرے 

دراحساس پر دستکیں دینے لگا    ؎

ای ماہ رُو ستارۂ رویای کیستی 

دلدار،دل نواز دلآرای کیستی 

روم کی پہلی رات اگر تاریک تر تھی تو روم کی پہلی صبح نہایت روشن اور تابناک ……ناشتے کے بعد ہم نے کچھ وقت لابی میں بیٹھ کر ای میلز دیکھنے میں گزارا۔یہاں روم کی سیر کے لیے طرح طرح کی گائیڈیں اور نقشے پڑے تھے۔ میں اور حذیفہ انھیں دیکھتے رہے لیکن تمام مطبوعات کی زبان اطالوی تھی۔رات جب میں سوگیاتھاتوحذیفہ ہوٹل میں شب گردی کرتارہا تھااور اس دوران اس نے ہوٹل کے کچھ لوگوں سے موانست پیداکرلی تھی۔چنانچہ اس کے استفسار پر استقبالیہ کلرک نے روم کی سیر کے سلسلے میں ہماری کچھ راہ نمائی کی۔مجھے سرسیدیاد آئے وہ جب یورپ کے سفرپر نکلے تھے تو اٹلی ان کا سب سے پہلا پڑاؤ تھا۔یہاں ان کی حیرت کی کوئی انتہانہ رہی۔خودان کے بہ قول  یہ یورپ کا پہلا’شہر‘ تھاجوانھوں نے دیکھا۔وہ شیشوں کے دروازے اور شیشے کی بنی ہوئی دیواریں دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے تھے، جب ان کی اومنی بس بازار میں پہنچی تو وہ ”دیوانوں کی طرح اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔ کبھی ایسا آراستہ بازار اور اس قدر روشنی شیشہئ آلات میں انھوں نے نہ دیکھی تھی“۔ایک مکان نہایت آراستہ دیکھا جیساکوئی دولت خانہ بھی انھوں نے ہندوستان میں نہیں دیکھا تھا۔انھیں ”یقین ہوا کہ کوئی بہت بڑی شادی ہے اور لوگ جمع ہیں اور مکان آراستہ ہے مگر جب صبح کو دیکھا اور تحقیق کیا تو معلوم ہوا کہ عام لوگوں کے شراب پینے کے لیے شراب خانے ہیں“اورتواور جب انھوں نے یہ دیکھاکہ ہوٹل کے کمرے میں گھنٹی لگی ہے جسے بجانے پر بیراچلاآتاہے تو وہ اس نظام پر بھی حیران ہوئے اور رات بھر اس خلجان میں مبتلارہے کہ گھنٹی کی آوازکا ملازمین کے کمرے تک جاناتو سمجھ میں آتاہے لیکن یہ کیسے معلوم ہوتاہے کہ گھنٹی کس کمرے سے بجائی گئی ہے؟  سرسیدکی معصومانہ حیرت کی یہ داستان انھی کے الفاظ میں سنیے ”مجھ کو خلجان رہا کہ اس نے یہ کیوں کر جانا کہ فلاں کمرے میں بلایا ہے؟ خیر رات کو سو رہے، صبح اٹھ کر میں اُس کمرے میں گیا جہاں خدمت گار ہوٹل کے، جمع رہتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہاں ایک گھنٹہ لگ رہا ہے اور گھنٹہ کے نیچے ایک تختہ لگا ہوا ہے اور اُس میں بہت سے خانے بنے ہوئے ہیں جس کمرے میں مسافرنے اس پھول کو دبایااسی وقت وہ گھنٹہ بجااور فی الفورایک خانہ میں وہ نمبردکھائی دیا، پس خدمت گارنے جاناکہ فلاں نمبرکے کمرے میں بلایاہے“ 

جدید دورکا انسان مختلف ملکوں اور جدید تمدن کے چنددرچندمناظر دیکھ لینے کے باعث سرسیدایسی حیرت سے محروم ہوچکاہے۔باقی رہیں گھنٹیاں تو ان پراحمدفرازکا شعرسن لیجیے     ؎  

جب بھی اس غیرت ِمریم کا خیال آتاہے 

گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں