نواز شریف کو تیسرا مشورہ

Najam Wali Khan, Pakistan, Naibaat newspaper,e-paper, Lahore

میں نے نوازلیگ کی حمایت کالج دور میں شروع کی، ایم اے او کالج میں ایم ایس ایف کے یونٹ کا سیکرٹری بنا، اسی دوران طلبا سیاست کے روایتی مقدمات قائم ہوئے تو اندازہ ہوا کہ یہ سیاست مڈل کلاس کے شریف نوجوانوں کے بس کی بات ہی نہیں۔ تھانے کچہریاں بھگتنا ایک عذاب ہے اور اس نوجوان کے لئے اور زیادہ جس کے والد ساڑھے تین برس کی عمر میں وفات پاچکے ہوں اور کوئی بھائی بھی نہ ہو مگر اس وقت سنٹر رائیٹ کے نظریات دماغ میں جو گھسے تو نوجوانی کی اس’فینٹیسی‘ کو دماغ سے نکالتے نکالتے عمر لگ گئی۔ یہ عشروں کا معاملہ ہے کہ ہمیشہ میاں نواز شریف کی عزت ہی نہیں بلکہ حمایت بھی کی۔ کئی جگہوں پر صرف اس وجہ سے بڑی تنخواہ والی اچھی نوکری نہ ملی کہ یہ مسلم لیگ نون کی حمایت کرتا ہے۔ یہی سلسلہ پرویز مشرف کے دور میں رہا جب خود میاں نواز شریف خاموش تھے تو ایک بڑے اخبار کے رنگین اور ادارتی صفحات پر ان کا مقدمہ لڑا کرتا تھا۔ جب نفع و نقصان والی عمر جا رہی ہے تو احساس ہو رہا ہے کہ سب گھاٹے کا سودا تھا، سب رائیگاں تھا۔ بے وقوفی کا یہ عالم رہا کہ خواجہ سعد رفیق سے سٹوڈنٹس پالیٹیکس کا تعلق نبھاتے ہوئے ایک مقبول ترین ٹی وی چینل کا مقبول ترین پرائم ٹائم شو چھوڑ کر ریلوے میں ڈی جی پی آر کے طورپر ذمہ داریاں سنبھال لیں حالانکہ نہ تنخواہ زیادہ تھی اور نہ ہی مقام و عہدہ، بس ایک جذباتیت تھی کہ ریلوے میں میرے والد رہے ہیں، میں ساری عمر اپنی والدہ کے ساتھ یہاں ان کی پینشن لینے آتا رہا ہوں، مجھے یہاں دیکھ کر میرے والد کی روح خوش ہو گی اور دوسرے اگر ریلوے میں بہتری آ رہی ہے تواس کی پروجیکشن ہو سکے گی۔ یہ بات ریلوے والے ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ دور کیسا رہا مگر جب شیخ رشید احمد بطور وزیر تشریف لائے تو خاموشی سے سیڑھیاں اتر کر گھر آ گیا۔

سکرین سے دوری ختم کرنے کے لئے پی ٹی وی پر رات گیارہ بجے پروگرام شروع کیا تو تین ماہ بعد چیک بنے۔ مجھ سے پہلے پروگرام کرنے والوں کو سترہ ہزار روپے پروگرام کے ملا کرتے تھے مگر میرے چیک چودہ سو روپے کے بنے۔ میں اکیلا نہیں تھا میرے ساتھ رؤف طاہر مرحوم، جناب عطا الرحمان، وجاہت مسعود سب تھے۔ وہ بھی عجیب ذلت کاوقت گزراکہ ہم سب قصیدہ خواں مریم نواز اور مریم اورنگزیب سے ایک ملاقات کے لئے ترلے ڈال رہے تھے اور حال یہ تھا کہ مریم بی بی کے کزنوں احسن لطیف، محسن لطیف وغیرہ نے فون تک اٹینڈ کرنا بند کر دیا تھا،سو میں نے تو وہ چیک وصول ہی نہیں کئے۔ میاں نواز شریف مجھ سے دو ہزار سات سے ناراض تھے جب میں نے ان سے پیپلزپارٹی سے اتحاد بارے ایک دو مرتبہ سوال کئے تھے، وہ مجھ سے بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے مگر ایک پروفیشنل جرنلسٹ کے طور پر پریس کانفرنسیں اٹینڈ کرنا میری نوکری تھی۔ میں ان کے اس روئیے کے باوجود اپنے تئیں جمہوریت کا بہت بڑا مجاہد تھا اور نواز شریف کو ملک کے جمہوری مستقبل کا واحد نقیب سمجھتا تھا، میں اس حد تک بے وقوف تھا کہ اپنی عزت نفس تک کا خیا ل نہیں تھا۔ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ مجھے نواز شریف کی کوریج کرتے ہوئے عمر گزر گئی مگر میاں صاحب نے کبھی مجھے کسی بھی بیرون ملک دورے پر ساتھ لے جانا مناسب نہیں سمجھا۔مسئلہ صرف یہ تھا کہ مجھ سے سوال کرتے ہوئے چاپلوسی نہیں ہوتی تھی اور سوال وہ ہوتا تھا جسے میں سوال سمجھتا تھا۔

یہ غالباً دو ہزار سات کے آخر یا دو ہزار آٹھ کے شروع کی بات ہے جب میاں نواز شریف نے عا م انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا تھا۔ میاں صاحب سے یورپین یونین کے کچھ سفیر صبح دس بجے اسلام آباد سے ملنے آ رہے تھے اور ہم رپورٹر جاتی امرا پہنچے تو علم ہوا کہ فلائیٹ لیٹ ہو گئی ہے۔ ہم سب میاں شریف کے گول کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ میاں نواز شریف نے سب سے باری باری  پوچھنا شروع کر دیا کہ انہوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کر کے درست فیصلہ کیا ہے جس کی سب نے تعریف کی۔ مجھ تک سوال پہنچا تو میرا موقف تھا کہ پارلیمنٹ بارہ اکتوبر ننانوے کے اقدام کی منظوری دے چکی لیکن ابھی ججوں والی ایمرجنسی پلس باقی ہے۔ اگر آپ پارلیمنٹ سے باہر ہوئے اور اندر محترمہ بے نظیر بھٹو ہوئیں (جو اس وقت بقید حیا ت تھیں)، مولانا فضل الرحمان، اسفند یار ولی اورالطاف حسین وہاں ہوئے تو پرویز مشرف کے اس اقدام کو بھی جائزیت مل جائے گی اور آپ کو کوئی پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ بھی نہیں کرنے دے گا۔ میاں نواز شریف نے اسی وقت ساتھ بیٹھے ہوئے کیپٹن صفدر کو کہا کہ وہ آج ہی شام ماڈل ٹاؤن میں اپنے قانونی ماہرین کو بلائیں۔رات کو اجلاس کے شرکا نے مجھے بتایا کہ تمہارے بتائے ہوئے نکتے پر اتفاق ہوا ہے اور پارٹی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔یہ فیصلہ نواز لیگ کے لئے اس حد تک فائدہ مند ثابت ہوا کہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت قائم ہو گئی۔ پیپلزپارٹی نے نواز لیگ کے ساتھ مل کر پرویز مشرف کوایوان صدر سے نکال باہر کیا۔ میاں نوازشریف نے یہ فیصلہ اس وقت تبدیل کیا جب بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی مگر شکر ہے کہ پیپلزپارٹی نے حماقت اور جذباتیت سے گریز کیا یوں تبدیل شدہ فیصلہ پھر تبدیل ہو گیا۔

دوسرا مشورہ اس وقت دیا جب جناب عطاء الحق قاسمی،جناب مجیب الرحمان شامی، جناب سلمان غنی، جناب منیب فاروق، جناب چوہدری غلام حسین اور میں شریف میڈیکل سٹی میں چائے پر بلائے گئے اور سوال تھا کہ پیپلزپارٹی عدلیہ کی سخت توہین کر رہی ہے تو کیا ہم سول نافرمانی شروع کر دیں، شہر بلاک کر دیں۔ مریم نواز کے دفتر میں میاں نواز شریف کے ساتھ اسحق ڈار، شہباز شریف اورچوہدری نثار بھی تھے۔ صحافی دوستوں کی اکثریتی رائے تھی کہ سخت احتجاج ہونا چاہئے۔ ایک صاحب نے یہاں تک لکھ کر دیا کہ اگر آپ نے سول نافرمانی نہ کی تو کوئی دوسرا(یعنی عمران خان)کرے گا اور سب میلہ لوٹ کر لے جائے گا۔ میری باری آئی تو موقف تھا کہ آپ سخت ترین بیانات دیں اور احتجاج کی دھمکی بھی مگر سول نافرمانی نہ کریں، سال سواسال بعد انتخابات ہیں اور آپ کی حکومت بنتی نظر آر ہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ حالات خراب ہوجائیں اور واقعی کوئی تیسری قوت آجائے۔ آپ اپنی توجہ انتخابات کی طرف رکھیں کہ وہی اقتدار میں آنے کا آئینی اور قانونی راستہ ہے۔ میاں نواز شریف نے میر ا موقف سن کر کہا،لیں جی، یہ توبات ہی ختم ہو گئی حالانکہ وہ اس سے پہلے سول نافرمانی کی تجویز لے کر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد بھی میاں نواز شریف سے ملاقاتیں ہوئیں مگر زیادہ تر ملاقاتوں میں وہ اختلافی رائے سننے کو واضح طو رپر ناپسند کرتے رہے یعنی مطلب یہ ہے کہ انہوں نے صرف خوشامدیوں کی باتیں سنیں، واہ واہ سنی اور تیسری مرتبہ دیوار کو ٹکر دے ماری۔ 

اب تیسرا مشورہ یہ ہے، چاہے انہیں اچھا لگے یا برا، چاہے وہ مانیں یا نہ مانیں مگر وہ اپنی بیٹی کو روکیں۔ وہ آپ کی حکومت ختم، پی ڈی ایم تحلیل کروانے کے بعد پارٹی بھی تباہ کرنے جا رہی ہیں۔ بیٹیاں سب کو لاڈلی ہوتی ہیں، لندن بیٹھے نواز شریف کو بھی ہوگی مگر سچ تو یہ ہے کہ نواز لیگ سوشل میڈیا کے احمقوں کے ہاتھوں اسی طرح کھلونا بن چکی ہے جیسے کبھی پی ٹی آئی تھی۔ مشورہ ان سے کیجئے جو حقیقی اور زمینی سیاست کرتے ہیں۔ باقی میاں صاحب بادشاہ آدمی ہیں، ان کی مرضی ہے، جہاں رہیں، خوش رہیں۔