حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید جیسے عناصر پاکستان پر بوجھ ہیں : خواجہ آصف

حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید جیسے عناصر پاکستان پر بوجھ ہیں : خواجہ آصف

نیو یارک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ خواجہ آصف نے حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید کو پاکستان پر بوجھ قرار دیتے ہوئے ان سے جلد جان چھڑانے کا عندیہ دیدیا ۔ انہوں نے اس تقریب میں پاکستان کی صورتحال ، ہمسایہ ممالک  کے ساتھ تعلقات اور دوسرے ملکوں کی پاکستان مین سرمایہ کاری کے بارے میں تفصیلاََ گفتگو کی ۔


انہوں  نے کہا کہ پاکستان میں ایسے افراد موجود ہیں جو بحران کے وقت پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرے بن سکتے ہیں ان میں حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک شامل ہیں ۔یہ پاکستان اور  خطے کیلئے لائیبیلٹی ہیں اور ان سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے پاکستان کو وقت لگے گا ۔ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ  پاکستان کو دہشتگردی کی خاتمے کیلئے مزید کوششیں کرنی ہونگی ۔

 حافظ سعید کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی تنظیم کالعدم ہے اور وہ نظربند ہیں.انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات کر دینا کر بہت آسان ہے کہ پاکستان حقانیوں اورحافظ سعید  کی مدد کر رہا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ پاکستان پر بوجھ ہیں اور پاکستان  کو اس بوجھ سے جان چھڑانے کیلئے تھوڑ اوقت درکار ہے۔ہمارے پاس فی الحال اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ان سے جان چھڑائی جا سکے اور اس سلسلے میں ہمیں تعاون کی ضرورت ہے آپ اس صورتحال میں ہم پر پریشر ڈال کر اس بوجھ میں مزیدا ضافہ کر رہے ہیں ۔

انہوں نے پاکستان کے مسائل اور مشکل صورتحال کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا اور کہا کہ 80 کی دہائی میں پاکستان نے امریکہ کیلئے سوویت یونین کیخلاف سرد جنگ میں مددکی اور  پاکستان کو امریکہ نے بحیثیت آلۂ کار استعمال کیا۔  پاکستان کی موجودہ صورتحال اس جنگ کے بعد ہوئی اس سے پہلے پاکستان کی صورتحال یکسر مختلف تھی ۔انہوں نے کہا کہ سرد جنگ میں پاکستان کو استعمالکرنے کے بعد بے سہارا چھوڑ دیا گیا ۔

وزیر خارجہ نے خطے میں پاکستان کے پڑوسی ممالک کے حوالے سے گفتگو کی اور کہا کہ افغانستان کا مسئلہ عسکری طور پر حل نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کیے جائیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس امر کا بھی خیال رکھا جائے کہ پاکستان صرف ایک حد تک افغان مسئلے کے حل کی ذمہ داری لے سکتا ہے، باقی کام افغانستان کو خود کرنا ہوگا۔

اپنے خطاب میں انڈیا کے بارے میں کہا کہ پاکستانی حکومت نے متعدد بار انڈیا سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں اور بشمول مسئلہ کشمیر تنازعات پر مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن انڈیا نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا بلکہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے   ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات تھے اور پاکستان نے اپنے بہتر تعلقات کو امریکہ اور چین کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو پاکستان بحرانوں کی لپیٹ میں تھا ۔توانائی کا بحران اس قدر شدید تھا کہ اس پر ایک دم سے قابو کرنا ہمارے بس میں نہیں تھا اور نہ ہی اتنے وسائل تھے اس کیلئے چین نے ہماری مدد کی اور توانائی بحران کو پر قابو پانے کیلئے چین نے  36 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر رہاہے ۔مواصلات کے نظام کیلئے چین نے مواصلات کے شعبے میں سات بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کر رہا ہے۔