عمران خان کی مقبولیت؟

عمران خان کی مقبولیت؟

وقت بدل گیا، طور بدل گئے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، فیس بک اور دیگر ذرائع نے پوری دنیا، دنیا کی تاریخ، علوم، حقائق اور افواہیں موبائل کی صورت ایک مٹھی میں بند کر دیں۔ میں اکثر تجزیہ کاروں جو دراصل تجزیہ کار نہیں مخصوص شخصیت، قوت، سیاسی یا مذہبی جماعت سے سروکار والے لوگ ہیں جانبدار اور بے جا جانبدار ہیں۔ حقائق جانتے ہوئے بھی لوگوں تک جھوٹ پہنچانا ان کا کاروبار ہے۔ اکثر لوگ عمران احمد خان نیازی کی مقبولیت کی بات کرتے ہیں یو ٹیوب اور ٹوئٹر کو چند دن خیرباد کہہ دیں تو عمران نیازی کہیں نظر نہیں آئیں گے۔ ٹوئٹر پر ہزاروں فیک اکاؤنٹس، فیک نیوز، فوٹو شاپس کا سہارا لے کر ان کی سیاست زندہ ہے۔ پہلے مقبولیت کو ذرا چیک کر لیں، موصوف کی محترمہ بے نظیر بھٹو شہیدؒ کے سانحہ کے بعد تیزی سے افزائش کا بندوبست کیا گیا۔ 2011 کا جلسہ پی ٹی آئی عمران خان کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا جلسہ ہے۔ یو ٹیوب پر ہر جلسہ کی ویڈیو موجود ہے اس سے بڑا ان کا کوئی جلسہ نہیں ہوا۔ میوزک کنسرٹ تین رنگوں کے جھنڈے جتنے لوگ تقریباً اتنے ہی جھنڈے اور پھر ہزاروں کی تعداد میں کرسیاں لگائی گئیں۔ ایک خاص طاقت اور قوت نے خصوصی ہدایات جاری کیں۔ ایم کیو ایم، پاکستان عوامی تحریک، ق لیگ اور دیگر جماعتوں جن کا سر چشمہ راولپنڈی اور اسلام آباد ہے کی قیادتیں، ورکرز، اینکرز اور ٹرینڈ لوگ اس جلسہ کی رونق بنے۔ خواتین کی خصوصی شرکت نے رنگوں میں مزید رنگ بھر دیئے۔ یہ جلسہ تمام ٹی وی چینلز نے براہ راست دکھایا اس کے بعد دوسری جماعتوں کے لوگوں کو پی ٹی آئی میں شامل کیا گیا۔ 72 کے قریب سابق اراکین اسمبلی شامل ہوئے۔ ق لیگ کی تو چولیں ہلا کر رکھ دی گئیں حتیٰ کہ چودھری شجاعت حسین کو گلہ کرنا پڑا کہ جناب یہ کیا ماجرا ہے؟ آپ کہتے ہیں ن لیگ کو نصیحت اور پیپلز پارٹی کو برباد کرنا مقصود ہے مگر ساری ق لیگ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے جا رہی ہے جو جواب آیا وہ بھی ایک قسم کا اثبات ہی تھا۔ غرض کہ نئے لوگ، الیکٹیبلز، فنانسرز شامل کر کے بھی 2011 سے بڑا جلسہ نہ ہو سکا۔ ویسے بھی جلسہ کبھی پولنگ بوتھ کا لازمی نتیجہ نہیں ہوا کرتا۔ 2013 میں عمران خان کی مقبولیت عروج یعنی ان کے اپنے لحاظ سے عروج پر تھی مگر انتخابات میں وہ تیسرے نمبر پر بھی نہیں تھے۔ 2013 میں میاں نوازشریف کی حکومت قائم ہو گئی حکومت میں ہوتے ہوئے بھی وہ کٹہرے میں آ گئے وطن عزیز کی سیاست نے نیا رنگ دیکھا، اپوزیشن نے جو چاہا وہ ہوا اور حکومت خوفزدہ رہی اس کے باوجود ڈلیور کیا۔ وقت کا وزیراعظم 17 سکیل کے ملازمین کے سامنے اپنے خاندان سمیت پیش ہوا۔ میڈیا اس وقت کی عدلیہ اور فواد چودھری کے بقول اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ تھی۔ چودھری نثار علی خان، شیخ رشید، اعجاز شاہ اور دیگر کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ میاں نوازشریف کی غلطی یا مریم نواز کی وجہ سے معاملہ خراب ہوا ورنہ 2018 کے بعد بھی نوازشریف کی حکومت ہوتی۔ یہ واحد انتخابات تھے جس میں 

اسٹیبلشمنٹ کا کردار کسی سے چھپا نہ رہا۔ پی ٹی آئی کے پاس پھر بھی اتنی تعداد نہ تھی کہ حکومت بنتی۔ آزاد ملائے گئے،دیگر جماعتوں کو ساتھ لگایا اور چند ووٹوں کی اکثریت سے حکومت بنی۔ اس کے بعد کارکردگی کہ ملک کا 70 سال میں لیا گیا قرضہ ایک طرف ان کا ساڑھے تین سال میں لیا گیا اس کا 80 فیصد قرض تھا مگر ملک میں ایک بھی منصوبہ زمین پر نظر نہیں آیا۔ مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت، سیاسی مخالفین پر جھوٹے مقدمات و مظالم نازیوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ کرپشن کی لاجواب داستانیں الگ جاری تھیں۔ ایک ریڑھی بان بھی جانتا تھا کہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے ہے۔ عمران خان نے خود اقرار کیا کہ ہر بل پاس کرانے کے لیے ایجنسیوں سے کہنا پڑتا ہے۔ ملک بے آئین سرزمین بن گیا۔ حکومت کے نمائندے کسی علاقے میں جانے کے قابل نہ رہے۔ اسٹیبلشمنٹ میں خود کار نظام موجود ہے جس کے تحت ملک اور ادارے کو اگر خطرہ ہو تو وہ حرکت میں آتا ہے، پھر چاہے پرویز مشرف ہو ادارہ اپنی ساکھ کی قربانی نہیں دیتا۔ کسی نے لکھا تھا کہ عمران دور میں وہ بربادی، بھوک تباہی ہوئی کہ اس کو لانے والے میاں نوازشریف کو واپس لے کر آئیں گے۔ وہی ہوا مگر حکومت کے گند کی ٹوکری اس قدر بوجھل تھی کہ کوئی اس کو اٹھانے کو تیار نہ تھا۔ مؤرخ 2013 سے 2018 اور پھر 2022 تک کے واقعات پی ڈی ایم اور اتحادیوں کا حکومت کو بادل نخواستہ قبول کرنا آئندہ برسوں میں لکھ پائے گا۔ میڈیا، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور ادارے سب نے عمران حکومت کا ساتھ دیا مگر خارجہ، داخلہ اور معیشت اور قانون کی حکمرانی میں عمران حکومت نااہل ترین ثابت ہوئی۔ مقبولیت کہنے والے بتائیں کہ کون سا ضمنی انتخاب جیتے تھے ہاں یہ ضرور ہے کہ 20سیٹیں حالیہ ضمنی انتخابات میں 15 واپس جیت سکی۔ اس کی وجہ پی ٹی آئی کے امیدوار ن لیگ کے لیبل میں پیش کیے گئے جو علاقے میں جا نہیں سکتے تھے۔ جب کہ ن لیگ کا ورکر اور ووٹر ناراض تھے، دیکھا جائے تو وہ ضمنی انتخابات بھی پی ٹی آئی ہی ہاری تھی اس قدر شدت کے ساتھ کہ اس کے نمائندے ن لیگ کا ٹکٹ لے کر بھی جیت نہ پائے جس کو مقبولیت کا نام دے دیا گیا۔ عمران اپوزیشن میں تھے اسمبلی میں استعفے دے کر واپس گئے۔ سنا ہے اب پھر استعفے دینے کے باوجود تنخواہیں کھا کر واپس اسمبلی میں جانے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ پورے ملک میں اتنے یوٹرن نہیں جتنے عمران نیازی لے چکے۔ اداروں کی آپس میں لڑائی، اداروں کے اندر لڑائی، قوم میں خلیج اور جھوٹ کے کاروبار کا فروغ، معاشرت کی بربادی عمران کے تحفے ہیں۔ ابھی ملک میں سیاست شروع نہیں ہوئی اگلے ماہ سیاست شروع ہو گی۔ عمران خان کی پارٹی واپس اپنے سائز میں چلی جائے گی۔ انتخابات میں ن لیگ، پیپلز پارٹی، آزاد اور پی ٹی آئی و دیگر جماعتیں اتحادیوں کے ساتھ بالترتیب نشستیں حاصل کر پائیں گی۔ آج سب جانتے ہیں کہ بُرے ترین حالات عمران حکومت کی پالیسیوں اور نا اہلی کا نتیجہ ہیں اور موجودہ حکومت کی پہلی ناکامی ہے کہ وہ اس بات کو پوری طرح عوام تک پہنچا نہ سکی۔ عمران نیازی کی مقبولیت پراپیگنڈا ہے محض سوشل میڈیا اور ٹوئٹر کا لیڈر ہے اب بھی وفاق اور سندھ کے علاوہ اس کی چار صوبوں کے پی، پنجاب، گلگت بلتستان، کشمیر اور بلوچستان میں حکومت ہے اگر انتخابات کا شوق ہے، مقبولیت کا ذعم سچا ہے تو چاروں اسمبلیاں تحلیل کرے وفاق میں قومی اسمبلی چھوڑی نشستوں کی تنخواہیں واپس کرے اور مقبولیت چیک کرے۔ بس جن کے کندھوں پر آئے تھے ان کی طاقت دوبارہ حاصل کرنا مقصود ہے۔ مجھے حیرت ہوئی میر جعفر، میر صادق، جانور، مسٹر ایکس وائی، گیدڑ کہنے والا کس منہ سے اقرار کر رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ایک حقیقت ہے پتہ نہیں تعلقات کیسے خراب ہوئے، پھر ملنا چاہتے ہیں۔ مگر اپوزیشن میں رہ کر کیسے کروں۔ عمران خان کا دور لاقانونیت، کرپشن اور نا اہلیت کا بدترین دور تھا حد یہ ہے کہ جسٹس رستم خان کیانی، جسٹس کارنیلیئس، جسٹس صمدانی، جسٹس دراب پٹیل کے سلسلے کی کڑی جسٹس جناب فائز عیسیٰ جیسی شخصیت جج ہوتے ہوئے خاندان سمیت اپنے ہی ساتھی ججوں کے کٹہرے میں رہی اور ایف بی آر جیسا ادارہ تحقیق کرتا رہا۔ عمران خان کی مقبولیت پر استغفراللہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ فی الحال شیخ رشید جو کہتا تھا نوازشریف کی سیاست ختم کو اسحاق ڈار کی واپسی مبارک ہو۔ عمران کو مبارک کہ حقیقی آزادی اور سیاست شروع ہو چکی۔

مصنف کے بارے میں