رواں مالی سال جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس پھر سرپلس

رواں مالی سال جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس پھر سرپلس
کیپشن:    رواں مالی سال جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس پھر سرپلس سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: وزارت خزانہ کی معاشی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس ایک بار پھر ایک ارب ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ بجٹ خسارہ 1613 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے ملکی معیشت پر ماہانہ اپ ڈیٹ آوٹ لک رپورٹ جاری کردیا گیا ہے۔ معاشی بحالی اور سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ صنعتی اور زرعی پیداوار میں بہتری، ٹیکس ریونیو، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔

جولائی تا مارچ ترسیلات زر 26 فیصد اضافے سے 21.5 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ ملکی برآمدات 2.3فیصد اضافے سے 18.7ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئیں۔ ملکی درآمدات 9.4فیصد اضافے سے 37.4ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئیں۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 35.1فیصد کمی 1.39ارب ڈالر رہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی زرمبادلہ ذخائراپریل کے اختتام تک 23 ارب 44 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسٹیٹ بینک 16.34 ارب ڈالر، کمرشل بینکوں کے ذخائر 7.10 ارب ڈالر رہے۔ ڈالر کی شرح تبادلہ 153.46روپے فی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔

پہلے 9ماہ میں ٹیکس ریونیو 10.9 فیصد اضافے سے 3395ارب روپے رہا۔ رپورٹ کے مطابق پہلے 9 ماہ کے دوران پی ایس ڈی پی کی مد میں 534ارب روپے خرچ کئے گئے۔ مالیاتی خسارہ کم ہو کر 1603ارب روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔ زرعی قرضے 4.6فیصد اضافے سے 953ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔

رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی سالانہ شرح میں بھی کمی، فروری میں 9.1فیصد رہی، بڑی صنعتوں کی شرح نمو 4.8فیصد تک پہنچ گئی، اسٹاک ایکسچینج انڈیکس 44 ہزار930 پوائنٹس عبور کر گیا۔