بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان

بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان
کیپشن:   بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: عوام کے لئے اچھی خبر، بجلی کی قیمت میں مارچ کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کمی کا امکان ہے۔

بجلی کی قیمت میں مارچ کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کمی کیلئے نیپرامیں سماعت مکمل ہوگئی ہے، اور بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 63 سے 68 پیسے کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

نیپرا کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی  (سی پی پی اے) نے بجلی کی قیمت میں میں 61 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست کی تھی، تاہم اتھارٹی نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سننے کے بعد 63 پیسے سے لے کر 68 پیسے فی یونٹ کمی کا عندیہ دے دیا ہے، اور اتھارٹی تمام ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری کرے گی۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ مارچ میں پانی سے 19.42 فیصد بجلی پیدا کی گئی، مارچ میں کوئلے سے 30.50 فیصد، فرنس آئل سے 2.62 فیصد، مقامی گیس سے 11.56 فیصد، درآمدی ایل این جی سے 21.11 فیصد، ایٹمی ذرائع سے 10.49 فیصد بجلی پیدا کی گئی، ایٹمی ذرائع سے پیدا بجلی کی قیمت 1روپیہ 2 پیسے فی یونٹ رہی۔

خیال رہے کہ رواں ماہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پاکستان میں موجود نمایندہ ٹریسا دوبان سنچے کا کہنا تھا کہ کورونا کی تیسری لہر میں پاکستان کے مزید قرضے موخر کرنے پر بھی غور ہوسکتا ہے۔

ویب نار سے خطاب میں اُن کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں ٹیکس اصلاحات چاہتے ہیں جس کے لیے ٹیکس کی چھوٹ محدود کرنا ضروری ہیں اور توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں میں کمی کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ کرنا ہو گا۔ تاہم ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے کورونا ٹیکس لگانا یا نہ لگانا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری پر کوئی ڈکٹیشن نہیں دی ہے اور پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے روپے کی قیمت مستحکم ہونا ضروری ہے۔

ٹریسا دوبان سنچے نے کہا کہ کورونا سے پہلے پاکستان کی معیشت استحکام کی طرف چل پڑی تھی، ایف اے ٹی ایف کے اہداف پر بھی عمل درآمد ہو رہا تھا لیکن کورونا کی وجہ پیدا ہونے والے غیریقینی عالمی حالات پاکستان کے لیے چیلنج ہیں تاہم کورونا کی تیسری لہر میں پاکستان کو مزید فنڈنگ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں قرضے اور حکومتی گارنٹیز معیشت کے 92.8 فیصد تک پہنچ گئیں ہیں جبکہ پاکستان کو ٹیکس آمدن بڑھانے، ٹیکس چوری روکنے اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔