پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان بیک ڈور رابطے شروع ہو گئے

پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان بیک ڈور رابطے شروع ہو گئے
کیپشن:   پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان بیک ڈور رابطے شروع ہو گئے سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور پیپلزپارٹی کے درمیان بیک ڈور رابطے شروع ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام و پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلزپارٹی یوسف رضا گیلانی کے معاملے پر نظر ثانی کرنے کو تیار ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے شہباز شریف کی مداخلت پر پی پی کی پی ڈی ایم میں واپسی پر رضامندی ظاہر کر دی، لیگی رہنماؤں نے پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں واپسی کی کھل کر مخالفت نہیں کی۔ شہباز شریف کا مؤقف ہے کہ پیپلزپارٹی اور  عوامی نیشنل پارٹی کی واپسی سے پی ڈی ایم مضبوط ہوگی۔

دوسری جانب اتحاد میں شامل محمود خان اچکزئی، اختر مینگل، بی این پی بزنجو نے بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے تاہم پیپلز پارٹی کی واپسی پر اویس نورانی اور پروفیسر ساجد میر نے تحفظات کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے پیپلزپارٹی کی واپسی کیلئے راہ ہموار کرنی شروع کر دی اور انہوں نے پی ڈی ایم کے دیگر قائدین کو آصف زرداری کے پیغام پر اعتمادمیں لیا۔ مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم قائدین سے گفتگو میں کہا ہے کہ پیپلزپارٹی استعفوں کے معاملے پر اپنے مؤقف پرقائم ہے۔

دوسری جانب 29 اپریل کو ہونے والا پی ڈی ایم سربراہی اجلاس عید کے بعد تک کیلئے مؤخر کردیا گیا ہے، آئندہ سربراہی اجلاس میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کی شرکت بھی متوقع ہے۔

خیال رہے کہ استعفوں اور سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کے اپوزیشن لیڈر بننے کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد میں اختلاف ہوگیا تھا جس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ پیپلزپارٹی نے بھی شوکاز نوٹس پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔