بیروت: لبنان کی فوج نے دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف شامی سرحد کے قریب جاری لڑائی کے ایک ہفتے بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے نتیجے میں تین برس قبل حراست میں لیے گئے لبنانی فوجیوں کے حوالے سے فیصلے میں مدد ملے گی۔

یاد رہے کہ 2011 سے خانہ جنگی کا شکار شام کی سرحد کے قریب لبنان کے پہاڑی علاقوں میں دہشت گردوں کی کارروائی کافی عرصے سے جاری ہیں۔ دہشت گردوں نے 2014 میں لبنان کی سرحد کے قریبی علاقے ارصل سے 30 فوجیوں کو اغوا کیا تھا جس کے بعد سیکیورٹی فورسز خطے میں دہشت گردوں کے حملوں کا شکار ہیں۔

سرحد کی دوسری جانب شامی فوج اور لبنانی تنظیم حزب اللہ نے بھی جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ حزب اللہ اور شامی فوج کے مشترکہ طور پر چلنے والے سینٹرل ملٹری میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے علاقے میں داعش کے خلاف جاری لڑائی کو ختم کرنے کے لیے موثر معاہدے کی راہ ہموار ہو گی۔

دوسری جانب امریکی حمایت یافتہ لبنانی فوج کی جانب سے شامی فوج سے رابطے کی تردید کی گئی۔ واضح رہے کہ حزب اللہ شامی فوج کے ساتھ مل کر 2013 سے لڑائی میں مصروف ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں