نیب نے زرداری کی بریت کیخلاف ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا

نیب نے زرداری کی بریت کیخلاف ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے اثاثہ جات ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری کی بریت کے خلاف ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے ہفتے کے روز پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف زرداری کو اثاثہ جات ریفرنس میں بری کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق نیب نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کے لیے نیب کی پراسیکیوشن برانچ نے درخواست کی تیاری پر کام شروع کر دیا جس کے مکمل ہونے کے بعد اپیل جلد دائر کر دی جائے گی۔

یاد رہے کہ آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف یہ ریفرنس 2001 میں احتساب عدالت میں دائر کیا گیا تھا، جو بعد ازاں اس وقت کے صدر پرویز مشرف کی جانب سے جاری کردہ قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کے تحت 2007 میں بند کر دیا گیا تھا۔ دسمبر 2009 میں سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا اور اس آرڈیننس کے تحت بند کیے جانے والے تمام کیسز کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا۔

آصف علی زرداری اس وقت صدر پاکستان کے عہدے پر فائز تھے جس کی وجہ سے انہیں آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل تھا۔ نیب نے پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے خلاف ریفرنس کو اپریل 2015 میں دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد سے اس ریفرنس پر کارروائی سست روی کا شکار تھی۔

اس کیس میں رواں سال کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی کیونکہ آصف علی زرداری کے وکیل اپنی بیماری کی وجہ سے کیس کی پیروی کرنے سے قاصر تھے۔

 

پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کے بعد آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بھی اپنی حاضری کو یقینی بنایا اور احتساب عدالت نے نیب کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر سابق صدر کے خلاف ریفرنس کی سماعت کا فیصلہ کیا۔

رواں سال کے آغاز میں یہ بات سامنے آئی کی کرپشن ریفرنس کا ایک اہم گواہ پر اسرار طور پر غائب ہو گیا تھا۔ بعد ازاں بیرسٹر جواد مرزا نامی گواہ کو راولپنڈی احتساب عدالت سے اشتہاری ملزم قرار دے دیا گیا تھا۔

 

واضح رہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے 6 مقدمات دائر کیے گئے تھے تاہم اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے کے بعد احتساب عدالت میں ان کیسز کے حوالے سے کارروائی ہوئی جن میں سے 5 کیسز میں انہیں پہلے ہی بری کیا جا چکا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں