یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کرتا ہے: خواجہ سعد رفیق

یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کرتا ہے: خواجہ سعد رفیق

لاہور: وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ تنقید برائے اصلاح خوش آئند اقدام ہے اس کا خیر مقدم کرتے ہیں سب کو ٹانگ اڑانے کا شوق ہے ٹانگیں اڑاتے اڑاتے ملک یہاں تک آگیا ہے یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کے کام مداخلت کرتا ہے تنقید ضرور کریں گالیاں نہ دیں مثبت تنقید ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ تجاویز بھی ضرور دیتے رہے ہم تنقید اور تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں ہم اپنی اصلاح کرتے رہیں گے .پاکستان نے پہلے بار ڈپلیکیٹ ٹکٹ کے اجراء کا جدید نظام متعارف کروایا گیا ہے ۔ اس کے اجراء کے ساتھ جڑی مسافروں کی شکایات کا ازالہ کردیا گیا اگر کسی کا ٹکٹ گم ہو جائے تو وہ ٹکٹ فوری طور پر 10فیصد کٹوتی کے ساتھ دوبارہ جاری کردیا جائے گا۔ کوہاٹ راولپنڈی اور کراچی سے میر پور خاص کے روٹس پر ترجیع بنیادوں پر کام کیا جارہا ہے.


میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسا ریلوے سسٹم بنایا ہے جس میں فراڈ کی گنجائش نہیں ۔ پاکستان ریلوے پہلے سے بہت بہتر ہے بہتری کی مزید گنجائش موجود ہے اگر پاکستان کی حکومتیں کام کرتی رہیں تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان ریلوے کی بہترین ریلوے ہوسکتی ہے ۔ پاکستان ریلویز جلد اپنی اپنی منزل حاصل کرے گا۔ ہم نے بڑی کوشش سے پاکستان ریلوے سے مفاداتی سیاست کو نکالا ہے ۔ تقرر و تبادلے میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی ۔ پاکستان ریلوے میں بے اصول کو ہم برداشت نہیں کرتے ۔ سب کو ٹانگ اڑانے کا شوق ہے ٹانگیں اڑاتے اڑاتے ملک یہاں تک آگیا ہے یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کے کام مداخلت کرتا ہے ۔ تنقید ضرور کریں گالیاں نہ دیں ۔ مثبت تنقید ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ تجاویز بھی ضرور دیتے رہے ہم تنقید اور تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ  ہم اپنی اصلاح کرتے رہیں گے آزادی ٹرین سے ملک کے مختلف شہروں کے کلچر کی عکاسی ہوئی ۔ خدا کا شکر ہے کہ آزادی کی خوشیوں میں پاکستان ریلوے کو بھی حصہ ڈالنے کا موقع ملا ۔میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہمارے ڈی جی ایجوکیشن چند روز میں آجائیں گے تو ریلوے کے سکولوں کے پوزیشن ہولڈر بچوں کی باقاعدہ تقریب رونمائی ہوگی ۔ ابھی کوہاٹ راولپنڈی ریل کار چل رہی ہے اس کے بعد اگر کوئی دوسری چلا سکے تو وہ کراچی میر پور خاص ہوگی ۔ فی الحال اس کے علاوہ ہمارا کوئی نئی پسنجرٹرین چلانے کا ارادہ نہیں ہے کیونکہ یہ سب لاس میکنگ ہے ابھی ہم لاس میکنگ ٹرین کا اجراء کر نہیں سکتے ۔ ہمارادل کرتا ہے کہ ہر ٹریک پر ٹرین چلے لیکن بہت سے ٹریک خستہ حالت میں ہیں اور ایک ٹریک کو ٹھیک کرنے کیلئے کئی ارب روپے چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تمامتر توجہ پسنجر کوچز کی اپ گریڈیشن اور وقت کی پابندی اور مسافروں کی سہولیات اور کارگوٹرین پر ہے کیونکہ ہم پسنجراور کارگو کی کمائی کو برابر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جب ہم آئے تھے کار ایک ارب 80کروڑ اور پسنجر6گنا زیادہ تھا اب یہ فرق بہت حد تک کم ہوگیا ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے آزادی ٹرین تیسری بار چلائی گئی ہے ۔ آئندہ سال بھی سلسلہ جاری رہے گا۔