اسلام آباد:  وزیر دفاع انجنیئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ امریکہ کی سٹریٹجی ہے اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں پاکستان کا دفاع مضبوط ہے ہماری مسلح افواج بہترین صلاحیتوں کی حامل ہے افغان جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جا سکتی امریکہ کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے .ہم گفتگو بند نہیں کریں گے امریکہ پاکستان پر فنگر پوائنٹ نہ کرے. پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے ہم چاہتے ہیں تمام تصفیہ طلب مسائل بات چیت سے حل ہوں بھارت کے اقدامات سے خطے میں امن کا قیام خطرے میں ہے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی اشتعال انگیزی جاری ہے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں کی جا رہی ہیں انہیں بند ہونا چاہیے ملک میں دہشتگردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے.

 انہوں نے کہا کہ روس اور چین نے پاکستان کے حق میں بیان دیا ہے نواز شریف کے دور میں روس سے تعلقات بہتر ہوئے پاکستان نے روس کے ساتھ ملکر فوجی مشقیں کیں چین نے ایک بار پھر پاکستان پر بھرپور اعتماد کا اظہارکیا ہے چین کے ساتھ ہماری پارٹنر شپ میں بہت گہرائی آئی ہے وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ کے پاس کوئی خاص پالیسی میکر نہیں ہے تاہم اس کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع رہنا چاہیے انہوں نے کہا کہ ہم نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ ہم اپنا ملک دہشتگردوں سے صاف کر سکتے ہیں ہم نے اپنی صلاحیت آشکار کر دی ہے امریکہ کو بھی افغانستان میں یہی چیلنجز تھے ہم نے امریکہ سے زیادہ اپنے ملک کی صفائی کی ہے اور ملک کو پرامن بنایا ہے اگر امریکہ واقعی چاہتا ہے کہ اس خطے میں امن ہو تو اسے پاکستان کے ساتھ مزید شراکت داری بڑھانی چاہیے لیکن شاید وہ ہم سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہے ہم فیصلے علاقائی پارٹنرز کے ساتھ مشاورت سے کریں گے امریکہ کو تو ویتنام جنگ میں بھی شکست ہوئی ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے لوگ خود حکومت چلائیں انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے سے ترقی کی راہیں کھل رہی ہیں امریکہ کو اس پر تشویش ہے .

خرم دستگیر نے کہا کہ نواز شریف نے بطور وزیر خارجہ بہتر فیصلے کیے نواز شریف نے یمن جنگ اور دوسری جگہ پر فوج نہیں بھجوائی انہوں نے کہا کہ ہم ایک مناسب پالیسی بنانے میں کامیاب ہوں گے ہم خطے کے تمام ممالک سے بات کریں گے امریکہ پاکستان پر فنگر پوائنٹ نہ کرے پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے ہم چاہتے ہیں تمام تصفیہ طلب مسائل بات چیت سے حل ہوں بھارت کے اقدامات سے خطے میں امن کا قیام خطرے میں ہے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی اشتعال انگیزی جاری ہے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں کی جا رہی ہیں انہیں بند ہونا چاہیے ملک میں دہشتگردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے آپریشن رد الفساد سے ملک کو صاف کیا جا رہا ہے۔