یکساں نصابِ تعلیم کا نفاذ… ایک مستحسن اقدام!

یکساں نصابِ تعلیم کا نفاذ… ایک مستحسن اقدام!

پیر 16اگست سے ملک کے پرائمری سطح کے انگلش اور اُردو میڈیم تمام تعلیمی اداروں (صوبہ سندھ کے تعلیمی ادارے اس میں شامل نہیں ہیں) خواہ ان کا تعلق سرکاری تعلیمی اداروں سے ہو یا نجی اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے ہو اور ان کے ساتھ دینی مدارس میں بھی یکساں نصابِ تعلیم کا نفاذ عمل میں آچکا ہے۔ بلا شبہ یہ عمران خان کی حکومت کا ایسا فیصلہ ہے جس کی تحسین کی جانی چاہیے۔ اس ضمن میں جناب شفقت محمود کی وفاقی وزارتِ تعلیم کو بجا طور پر کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے دن رات ایک کرکے پرائمری سطح کے تمام مضامین کا یکساں نصابِ تعلیم ہی ترتیب نہیں دیا ہے بلکہ مختلف مضامین کی ماڈل درسی کتب بھی تیار کرائی ہیں اور اس کے ساتھ پبلشرز کو یہ اجازت بھی دی ہے کہ وہ اس نصاب کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے طور پر بھی کتابیں تیار کرا کے چھاپ سکتے ہیں۔ جناب شفقت محمود نے 16اگست کو پرائمری سطح پر یکساں نصابِ تعلیم کے نافذ العمل ہونے سے ایک دن قبل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ 16اگست 2021ء سے پرائمری سطح پر یکساں نصابِ تعلیم کا نفاذ ہو رہا ہے تو اگلے سال 2022میں چھٹی ساتویں اور آٹھویں جماعتوں اور اُس سے اگلے سال یعنی 2023ء میں نویں اور دسویں جماعتوں کے لیے یکساں تعلیم کا نفاذ عمل میں آجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں یکساں قومی تعلیمی نصاب ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا نصاب لایا جا رہا ہے جو انگلش میڈیم اور اُردو میڈیم سارے سکولوں کے ساتھ مدارس میں بھی نافذ ہوگا۔ جناب شفقت محمود نے اور بھی کئی باتیں کی ہیں۔ لیکن 16اگست کو یکساں نصابِ تعلیم کے نافذ العمل ہونے کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں وزیرِ اعظم جناب عمران خان نے حسبِ روایت اور حسبِ سابق جس فصاحت و بلاغت کے ساتھ اپنے افکارِ عالیہ کا اظہار کیا ہے اسے اگر ایک طرف قابلِ قدر اور قابلِ تحسین سمجھا جا سکتا ہے تو اس کے ساتھ اسے جنابِ وزیر اعظم کی ذات کے قول و فعل کے تضاد کا مظہر بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ 

جناب وزیرِ اعظم کا یہ کہنا کہ آزادی کے بعد یکساں نظامِ تعلیم رائج نہ کرکے ہم نے اپنے اُوپر ظلم کیا اسی طرح ان کا یہ کہنا بھی اُن کی درد مندی کا اظہار سمجھا جا سکتا ہے کہ میری شروع سے یہ سوچ تھی کہ جب بھی موقع ملے گا ملک میں یکساں نصابِ تعلیم کا نظام رائج کرکے ملک کو ایک قوم بنائیں گے ۔ اسی طرح اُن کا یہ کہنا بھی مبنی بر حقیقت گردانہ جا سکتا ہے کہ ہم اعلیٰ تعلیم کے لیے صرف انگریزی زبان ہی نہیں سیکھتے بلکہ اُن کا پورا کلچر بھی اپناتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہم اُن کی ثقافت کو اپنی ثقافت پر ترجیح دے رہے ہوتے ہیں اورایک دوسرے کلچر کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہ ذہنی غلامی ہے جو اصل غلامی سے بڑھ کر (افسوس ناک) ہے۔ جناب وزیرِ اعظم کے یہ قابلِ قدر خیالات سامنے رکھ کر اور اگر ان کے ساتھ ہم اُن کی شخصیت، تعلیم و تربیت ، ماحول ، کلچر اور ذاتی زندگی پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں اُن کے انداز ، فکر و نظر اور عمل میں واضح بُعد اور تضاد نظر آتا ہے۔ وہ انگریزی کلچر میں پلے بڑھے اور پروان چڑھے۔ طبقاتی تعلیم اور طبقاتی تقسیم کے نمایاں تعلیمی ادارے ایچی سن کالج سے اُنھوں نے تعلیم حاصل کی اور بعد میں بھی اعلیٰ تعلیم کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے انگریزی کلچر کے نمائندہ ادارے کا انتخاب کیا اور بڑی حد تک انگریزی کلچر کو اپنی شخصیت کا حصہ بنایا۔ چلئے انھیں اس پر کوئی دوش نہیں دیا جا سکتا کہ یہ ان کے والدین کے فیصلے ہو سکتے ہیں جن پر اُنھوں نے عمل کیا لیکن اپنے بچوں (بیٹوں) کے حوالے سے وہ جو راہ اختیار کیے ہوئے ہیں کیا وہ انگریزوں کی ذہنی غلامی کے مترادف نہیں ہے؟ کیا اُن کے بیٹے لندن میں پل ، بڑھ اور پرورش پا کر اور انگریزوں کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرکے انگریزوں اور انگریزی کلچر کی ذہنی غلامی کا شکار نہیں ہو رہے ہیں؟ جناب عمران خان قوم کے بچوں کے لیے یکساں نصابِ تعلیم لازمی سمجھتے ہیںتو کیا اُنھیں اپنے گھر اور اپنے کنبے کے لیے اسے اختیار نہیں کرنا چاہیے؟لیکن جناب عمران خان کو اس کی کیا پروا ہو سکتی ہے کہ وہ خود بنی گالا میں اپنی وسیع و عریض رہائش گاہ میں خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں تو ان کے بیٹے اپنی ماں کے ساتھ لندن میں اپنے ننھیال میں عیش و آرام سے پروان چڑھ رہے ہیں تو جناب عمران خان کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے۔ 

جناب وزیرِ اعظم کے حوالے سے کچھ باتوں کا تذکرہ طویل ہو گیا ہے، واپس یکساں نصابِ تعلیم کی طرف آتے ہیں۔ بلا شبہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے اور اس پر پوری نیک نیتی سے عمل ہونا چاہیے۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ کچھ نام نہاد روشن خیال اور لبرلز جنہیں اُردو زبان، اسلامی تعلیمات ، قرآن و حدیث کے احکامات، عربی زبان اور اپنے کلچر سے خدا واسطے کا بیر ہے وہ لٹھ اُٹھا کر یکساں نصابِ تعلیم کے نفاذ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں جیسے اُنھوں نے اس فیصلے کی ہر صورت میں مخالفت کرنی ہی کرنی ہے۔ یہاں مجھے ایک ٹی وی نیوز چینل کے ٹاک شو کی ویڈیو کلپ کا حوالہ دینا ہے جو مجھے ایک مہربان نے بھجوائی ہے اور جس میں یکساں نصابِ تعلیم کے موضوع پر میزبان محمد مالک جو میاں محمد نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں تقریباً چار سال تک سرکاری ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) کے منیجنگ ڈائریکٹر رہے ہیں کے ساتھ وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود، اپنے مخصوص نظریات کے لیے مشہور قائدِ اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر پرویز ہود بھائی اور ماہر تعلیم ڈاکٹر عائشہ رزاق شریک گفتگو ہیں ۔ وفاقی وزیرِ تعلیم نے یکساں نظامِ تعلیم کے حق میں کیا دلائل دیے ہیں وہ ویڈیو کلپ کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی ماہر تعلیم محترمہ عائشہ رزاق کی گفتگو اس ویڈیو میں موجود ہے، تاہم محترم پروفیسر ہود بھائی کے افکارِ عالیہ اس کلپ کا حصہ ہیں تو جناب محمد مالک نے بطور اینکر پرسن یا میزبان جو گرہیں لگائی ہیں وہ کچھ کچھ اس کلپ میں موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ پروفیسر پرویز ہود بھائی اپنی جس مخصوص لبرل سوچ اور فکر کے لیے شہرت رکھتے ہیں انھوں نے یقینا یکساں نصابِ تعلیم کے نفاذ کو جس میں قرآن و حدیث کی تعلیم کے ساتھ سیرتِ طیبہ اور اسلامی تاریخ کے موضوعات کو اہمیت دی گئی ہے کو لازمی طور پر تنقید کا نشانہ بنانا ہی تھا۔ اسی طرح جناب محمد مالک سے بھی یہ توقع نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنی روشن خیالی کے تحت اسلامی تعلیمات اور عربی زبان میں قرآن و حدیث کی تعلیم کے لیے کوئی کلمہ ِ خیر کہیں گے۔ 

پروفیسر پرویز ہود بھائی فرماتے ہیں کہ یکساں نصابِ تعلیم کے تحت نہ صرف بچوں کو قرآنی آیات یاد کرنا ہوں گی ، ان کے ترجمے بھی یاد کرنا ہوں گے اور عربی زبان میں حدیثیں بھی یاد کرنا ہیں اور اسی طرح مختلف دُعائیں، کھانا کھانے سے پہلے، کھانا کھانے کے درمیان، کھانا کھانے کے بعد، سیڑھیوں پر چڑھنے اور سیڑھیوں سے اُترنے وغیرہ کی دُعائیں یاد کرنا ہونگی۔ اس طرح ایک بچے کے حافظے پر اتنا بوجھ ڈالا جا رہا ہے کہ اس کے پاس دیگر مضامین کو پڑھنے کے لیے کوئی وقت نہیں بچے گا۔ جناب پرویز ہود بھائی کے یہ خیالات دنیاوی لحاظ سے بہت قیمتی گردانے جا سکتے ہیں کاش وہ اس حقیقت کو بھی ذہن میں رکھتے کہ قرآنی آیات کے ساتھ احادیثِ مبارکہ اور مختلف دُعائوں کو پڑھنے ، ان کو حفظ کرنے اور ان کے معنی اور مطلب سمجھنے اور یاد کرنے کی کتنی بڑی فضیلت ہے۔ ان کا کتنا ثواب ہے اور ان سے ذہن کے کتنے دروازے کھلتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے ہاں چھوٹی عمر میں قرآنِ پاک حفظ کرنا جتنا آسان ہوتا ہے اتنا بڑی عمر میں نہیں ہوتا۔ اور اس کے ساتھ حفاظ کی یاداشت اور حافظے میں جو وسعت اور گہرائی پیدا ہوتی ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔ جناب محمد مالک فرماتے ہیں کہ ہمارے بچے احادیث اور دعائیں عربی میں کیوں سیکھیں اور یاد کریں؟ کیا اُن کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور عربی ان کی مادری زبان ہے۔ جناب محمد مالک کے اس لایعنی اعتراض کا کیا جواب دیا جا سکتا ہے ۔ کیا اُنھیں پتہ نہیں کہ عربی میں قرآنِ پاک کے ایک حرف پڑھنے کی دس نیکیاں ہیں۔ اسی طرح احادیث مبارکہ اور دُعاؤں کی حضورِ پاک ؐ اور صحابہ کرامؓ کے الفاظ میں پڑھنے کی جو فضیلت اور ثواب ہے وہ اُن کا ترجمہ پڑھنے میں قطعاً نہیں۔ 

یکساں نصابِ تعلیم کے حوالے سے کچھ نام نہاد لبرل اور روشن خیال حلقوں کے اعتراضات اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی ایسا بالکل ہی نیا فیصلہ نہیں ہے کہ جس پر پہلے سے عمل درآمد نہ ہو رہا ہو۔ پرائمری سطح کی اسلامیات کی کتابوں میں قرآنِ پاک ناظرہ پڑھنا ، تیسویں پارے کی بعض سورتوں کو حفظ کرنا ، کچھ قرآنی آیات اور ان کے ترجمے کو زبانی یاد کرنا اور اس کے ساتھ سیرت النبیؐ کے مختلف موضوعات اور اسلامی تعلیمات اور عبادات کے عنوانات پہلے سے نصاب کا حصہ ہے۔ اسی طرح اُردو ، انگلش اور دیگر مضامین کے نصاب میں بھی کوئی اتنی بڑی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس فیصلے کو مثبت انداز سے لیں اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔