خودی نہ بیچ

خودی نہ بیچ

تاریخِ عالم 11 ستمبر 2001ء کو فراموش نہیں کر سکتی کہ یہ وحشت وبربریت کی 20 سالہ داستان ہے۔ یہ وہ دن تھا جب امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے 4 جہاز ٹکرائے اور اُسے زمیں بوس کر دیا۔ تب امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش نے اعلان کیا کہ ’’صلیبی جنگ‘‘ کا آغاز ہوگیا۔ الزام آیا اُسامہ بِن لادن پر جو افغانستان میں طالبان حکومت کی پناہ میں تھا۔ امریکہ نے طالبان سے اسامہ بن لادن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُس کی بات نہ مانی گئی تو افغانستان کو ریگزار میںبدل دیا جائے گا۔ طالبان کا جواب تھا کہ اپنے مہمان کو دشمن کے حوالے کرنا اُن کی روایت نہیں۔ تب عقیل وفہیم اصحاب نے سوچا کہ یہ اُجڈ طالبان فاترالعقل ہیں۔ بھلا یہ نہتے بے سروسامان، جاہل وگنوار، امریکہ کا کیا مقابلہ کریں گے۔ یہ موٹرسائیکل سوار جدیدترین آلاتِ حرب سے لیس اقوامِ عالم کی سب سے بڑی طاقت سے بھلا کیوں کر نبرد آزما ہوںگے۔ طالبان کا تمسخر اُڑاتے لوگوں کے لبوں پر تھا کہ افغانیوں نے روس کے خلاف جنگ امریکہ کی مدد سے جیتی تھی، اِسی زعم میں اب انہوں نے اپنے ہی ہاتھوں اپنی بربادیوں کی داستان رقم کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اُدھر خوددار طالبان کا جذبِ باہم علامہ اقبال کے اِس شعر کی عملی تفسیر کہ

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

اُنہوں نے سوائے رَبِ لَم یَزل کے کسی کے آگے جھکنا سیکھا ہی نہیں تھا پھر بھلا وہ طاغوت کے دَر پر کیسے سجدہ ریز ہو جاتے۔ اُدھر اندھی طاقت سے مغلوب امریکا اور اُس کے اتحادیوں نے بوریا نشینوں کو نشانِ عبرت بنانے کی ٹھانی۔ بہانہ مگر یہ کہ وہ افغانستان کی تقدیر بدلنے آئے ہیں، اِس سرزمین کو ’’مُلا‘‘ نامی دہشت گردوں سے پاک کرنے اور افغانستان کی تعمیرِنَو کرنے آئے ہیں۔ حیرت مگر یہ کہ اُن کے پاس طالبان کی دہشت گردی کا کوئی ایک ثبوت بھی نہیں تھا۔ جس جرمِ ضعیفی کی سزا دینے کے لیے 57 ملکوں کی افواج افغانستان پر حملہ آور ہوئی اُس کا مآل حاکمِ مطلق کے ہاں کچھ اور لکھا جا چکا تھا۔  

7 اکتوبر 2001ء کو نیٹو ممالک کی افواج افغانستان پر چڑھ دوڑیں۔ میلوں دور سے زمین پر رینگتی چیونٹی کے پاؤں تک گِن لینے والے سیٹلائیٹ افغانستان کی فضاؤں میں گردش کرنے لگے۔ ڈیزی کٹر بم سنگلاخ پہاڑوں کو ریت کے زروں میں تبدیل کرنے لگے۔ اپاچی ہیلی کاپٹر انسانی بُو سونگھتے ہوئے ہر اُس شخص کا شکار کرنے لگے جس کے چہرے پر داڑھی اور ٹخنوں سے اونچی شلوار تھی۔ دنیا کی تربیت یافتہ ترین مغرور ومتکبر افواج کے نزدیک ہر افغان مرد، عورت، بوڑھا اور بچہ، اُن کا شکار ٹھہرا۔ افغانستان کی فضائیں بارود اور خون کی بُو سے متعفن ہوئیں، گھر اُجڑے، کھیتیاں بے برگ وبار ہوئیںاور پورا افغانستان بادِسموم کے تھپیڑوں کی زَد میں۔ عام خیال یہی تھا کہ بَس سال چھ ماہ میں اِن بھوکے ننگے بے سروساماں طالبان کا نام ونشان مِٹ جائے گا۔ دَورِحاضر کے بزرجمہر یہ کہتے پائے گئے کہ اِن رجعت پسندوں میں جدیدیت کے علم برداروں کا مقابلہ کرنے کی سَکت کہاں۔ پھر ہوا یوں کہ اندھی طاقت کا زعم ہوا ہو گیا، جنگ طول پکڑتی گئی، سفیدفام لاشے گرنے لگے، تابوت کم پڑ گئے اور نوحہ خوانی سے 57 ملکوں کے دَرودیوار گونجنے لگے۔ 

7  اکتوبر 2001ء کو امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیااور 13 نومبر کو شمالی اتحاد نے اتحادی فوج کی مدد سے کابل پر قبضہ کر لیا۔یہ عجیب جنگ 20 سال تک جاری رہی۔ اِس 20 سالہ گناہِ بے لذت میں امریکہ کے 2.2 ٹریلین ڈالر صرف ہوئے۔ 3 لاکھ افغان فوج کی تربیت اور اُسے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنے پر 88 ارب ڈالر مزید صرف ہوئے لیکن نتیجہ ہزیمت ہی ہزیمت۔ جب کچھ بَن نہ پڑا تو پاکستان کی مدد سے قطر میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا۔ کامیاب مذاکرات کے بعد امریکی افواج کی واپسی کا سفر ہوا  اور امریکی افواج کی واپسی کی حتمی تاریخ 31 اگست 2021ء طے ہوئی۔ اِس واپسی کے دوران ہی طالبان 15 اگست 2021ء کو کابل کے صدارتی محل پر دستک دینے لگے اور 57 ممالک کی افواج کا بقول اقبالؒ یہ حال کہ ’’عقابی شان سے جھپٹے تھے جو، بے بال وپَر نکلے‘‘۔ حیرت مگر یہ کہ2 اگست 2021ء کو طالبان افغانستان کے 91اضلاع پر قابض تھے اور 171 اضلاع پر اشرف غنی کی حکومت۔ محض 13 دنوں بعد 15 اگست 2021ء کو پورا افغانستان طالبان کی عملداری میں تھااور اشرف غنی مفرور، جس پر طالبان رَہنماء مُلّا برادر بھی حیران۔ عقیل وفہیم اور اہلِ فکرونظر اُس وقت بھی حیران ہوئے تھے جب طالبان نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے سپرد کرنے سے انکار کرتے ہوئے جنگ کو ترجیح دی تھی اور اب بھی وہ حیرتوں کے بحرِ بے کنار میں گُم ہیں کہ کہاں گئی وہ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس 3 لاکھ فوجیوں پر مشتمل افغان فوج جس کا کہیں نام ونشان تک نہ ملا۔ پینٹاگون نے کہا ’’ہم رَہنمائی، تربیت اور وسائل فراہم کر سکتے ہیںلیکن جنگ کے لیے جذبہ خرید کر نہیں دے سکتے‘‘۔ بجا ارشاد مگر 57 ممالک کی افواج کا جذبہ کہاں گھاس چرنے چلا گیا تھاجو 50 ہزار نہتے افغان طالبان کو زیر نہ کر سکیں۔کیا طالبان کی یہ فتح اللہ کے حاکمِ مطلق ہونے کی بیّن دلیل نہیں؟۔ 

افغان طالبان کی حکومت کا پچھلا دَور یقیناََ خامیوں سے پُر تھا۔ تب اُن میں شدت پسندی کا عنصر زیادہ تھا جس کی کسی صورت تحسین نہیں کی جا سکتی۔ اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے 20 سالہ جدوجہدِ آزادی نے اُن کے اذہان وقلوب کو صیقل کر دیا ہو۔ اب اگر صاحبانِ فکرونظر اپنا زاویۂ نگاہ بدلنے کی زحمت گوارا کریں تو اُنہیں سنتِ رسولﷺ کی پیروی کرتے طالبان نظر آئیں گے۔ فتح مکّہ کے موقع پر حضورِاکرم ﷺ نے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے اُس وحشی کو بھی معاف کر دیا جس نے حضرت امیر حمزہؓ کو شہید کیا تھا۔ آج طالبان نے بھی عام معافی کا اعلان کر دیا۔ اُنہوں نے اشرف غنی، امراللہ صالح اور حمد اللہ محب جیسے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کر دیا۔ طالبان افغانستان میں تمام قبائلی طاقتوں کے ساتھ مل کر ’’امارتِ اسلامی‘‘ قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں جس پر لبرل اور سیکولر طبقوں کی طرف سے تنقیدوتعریض جاری ہے۔ حقیقت مگر یہ کہ قطر معاہدے میں امریکہ یہ تسلیم کر چکا کہ افغانستان میں اسلامی حکومت ہوگی جس کے امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے ساتھ مثبت تعلقات ہوںگے۔ قطر معاہدے میں انسانی حقوق کی بات کی گئی نہ خواتین کے حقوق کی لیکن طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے بَرملا کہا کہ طالبان کا انتقام لینے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اُنہوں نے کہا ’’خواتین کے حقوق کی حفاظت کی جائے گی، میڈیا کے نمائندوں اور سفارت کاروں کو آزادی کا یقین دلاتے ہیں‘‘۔

پاکستان کی تشویش تحریکِ طالبان پاکستان کے بارے میں ہے۔ یہ عین حقیقت ہے کہ ٹی ٹی پی ایک دہشت گرد گروہ ہے جس نے پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہوئے کسی مسجد کا لحاظ رکھا نہ مدرسے اور چرچ کا۔ افواجِ پاکستان نے اِن دہشت گردوں کا یوں صفایا کیا کہ بچے کھچے دہشت گرد یا تو چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھُس گئے یا پھر فرار ہوگئے۔ کچھ اصحاب کا یہ خیال ہے کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے اور ٹی ٹی پی محض دہشت گردوں کا ٹولہ۔اِن کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ امریکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان سربراہ مُلا ہیبت اللہ نے ٹی ٹی پی کو پاکستان میں کارروائیاں روکنے کا حکم دیتے ہوئے تین رکنی کمیشن بنا دیا ہے۔ اِس کمیشن نے ٹی ٹی پی کو خبردار کیا ہے کہ اِس کے ارکان عام معافی کے بدلے ہتھیار ڈالیں اور پاکستان چلے جائیں۔