افغانستان کی صورتحال پر دنیا نے آنکھیں بند کیں تو بحران بڑھ سکتا ہے: فواد چوہدری

افغانستان کی صورتحال پر دنیا نے آنکھیں بند کیں تو بحران بڑھ سکتا ہے: فواد چوہدری
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

کراچی: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اقوام عالم افغانستان میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر انسانی بحران کے خطرات کو سمجھے، عالمی قوتوں نے اگر آنکھیں بند کر لیں تو افغانستان کا بحران بڑھ سکتا ہے، افغانستان کی تباہی کا انتظار نہ کریں۔ 

شہر قائد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے حالات پر گہری نظر ہے، دنیا بھر کے ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لئے ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہو گا، عالمی طاقتیں افغانستان میں جاری صورتحال سے انسانی بحران کے خطرات کو سمجھے لیکن اگر دنیا نے آنکھیں بند کر لیں تو افغانستان کا بحران بڑھ سکتا ہے، ہمیں اس وقت طاقت سے نہیں بلکہ عقلمندی سے فیصلے کرنے چاہئیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا افغانستان سے انخلا کے عمل میں پاکستان کی کاوشوں کی معترف ہے لیکن انخلا سے بھی اہم مسئلہ افغانستان میں قیادت کا بحران ہے، افغانستان میں حکومت بنانا پاکستان کا کا م نہیں بلکہ افغان ہی وہاں حکومت کا انتخاب کرسکتے ہیں، اگر پہلے ہی پاکستان کے مشورے پر عمل کر لیا جاتا تو آج افغانستان اس صورتحال سے دوچار نہ ہوتا، اب بھی وقت ہے کہ پاکستان کی تجویز پر عمل کر لیں، ہم افغانستان کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ 

اس موقع پر انہوں نے ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو جب اقتدار ملا تو حالات سب کے سامنے تھے لیکن اب پاکستان مستحکم ہو رہا ہے جس نے کورونا وباءکے دوران بھی بہترین کردار ادا کیا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ماضی میں کیا تھا اور اب کیا ہے، فرق سب کے سامنے ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ایکسپورٹ پر توجہ دی اور امپورٹ کو کم کیا، ملک میں مہنگائی میں 27 فیصد جبکہ آمدن میں37 فیصد اضافہ ہوا، ہماری خارجہ پالیسی مزید بہتر ہو گی، وزیراعظم عمران خان نے 3 سالہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھ کر ایک بہترین روایت قائم کی، کیا وزیراعلیٰ سندھ نے 3سالہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھی؟ 

وفاقی وزیر نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کے نشتر بھی چلائے اور کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) علاقائی جماعتیں بن گئی ہیں، مریم نواز اور بلاول بھٹو نے زندگی میں کچھ کیا ہی نہیں، ان دونوں نے آج تک مسائل پر پالیسی ڈائریکشن نہیں دی، سندھ بحران کا شکار ہے اور وہاں مس مینجمنٹ ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو تین سالوں کے دوران 1900 ارب روپے جا چکے ہیں، وہ کہاں گئے؟ یہ لوگ ہمیں کام کرنے دیں یا خود کریں، جب تک صوبائی حکومت پاس نہ ہو تو بنیادی کام نہیں ہوسکتے،جب اختیارات وزیراعلیٰ پاس رکھیں گے تو بلدیاتی ادارے کیا کریں گے، سپریم کورٹ کو آرٹیکل 140 اے پر عمل کروانا چاہیے، سندھ میں بھی پیپلزپارٹی کا خاتمہ ہوگا۔