عمرہ سیزن شروع ہوتے ہی ملک کو بدنام کرنے والامافیا سرگرم ، مدینے سے 210 پاکستانی بھکاری گرفتار کر لیے گئے

عمرہ سیزن شروع ہوتے ہی ملک کو بدنام کرنے والامافیا سرگرم ، مدینے سے 210 پاکستانی بھکاری گرفتار کر لیے گئے

ریاض: سعودی حکومت نے عمرے کے نام پر بھیک مانگنے کے لیے جانے والے 18 پاکستانی عورتوں اور مردوں کو گرفتار کرلیا جبکہ مزید 192 بھکاریوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ عمرہ سیزن شروع ہوتے ہی پاکستان کو بدنام کرنے والا مافیا سرگرم ہوگیا، عمرہ کے نام پر پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 210 افراد کو بھیک مانگنے کے لیے مدینہ منورہ پہنچا دیا گیا۔سعودی انٹیلی جنس نے بھکاریوں کی آمد کی اطلاع موصول ہوتے ہی کریک ڈاون شروع کیا اور 18 پاکستانی مردوں عورتوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں منتقل کردیا.

گرفتار ہونے والی خواتین کو 56 نمبر بیرک جبکہ مردوں کو 47 نمبر بیرک میں رکھا گیا ہے۔سعودی حکومت کی جانب سے گرفتار افراد کی فہرست جاری کی گئی ہے، جن میں عامر خان، شبیراں بی بی ، مختار احمد، نیامت خاتون، نصرت بی بی، سجاول حسین، شمع خاتون، عبدالقدوس، نذیراں بی بی، زرینہ بی بی، ریاض احمد، نذیراں بی بی، اعظم خان، زاروخان، منیراں بی بی، صاحبہ مائی، مہرو مائی اور مینو مائی شامل ہیں۔بھکاریوں کے خلاف شروع ہونے والے کریک ڈان میں مافیا کا سرغنہ مختار نامی شخص بھی گرفتار ہوگیا ہے جو ان بھکاریوں کو ڈیل کرتا تھا، مختار نے دوران حراست انکشاف کیا کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے 210 لوگوں کو کراچی اور رحیم یار خان کی ایک ٹریول ایجنسی کے ذریعے ویزے لگوا کر یہاں بھیجا گیا ہے۔مختار نے انکشاف کیا کہ مدینہ لائے گئے بھکاریوں کو حج تک یہی قیام کرنا تھا تاکہ جب تک خاصی رقم جمع ہوجاتی، اس نے بتایا کہ ہمارا کام مدینہ منورہ میں زائرین سے بھیک منگوانا ہے ، جس کے ذریعے ہر ماہ 20 سے 25 ہزار ریال جمع ہوجاتے ہیں اور آدھے پیسے ٹریول ایجنٹ کو بھیج دیے جاتے ہیں۔ملزم نے انکشاف کیا کہ مکہ اور مدینہ میں جمال خان کا بھائی زارو خان ڈیل کرتا ہے ، اس نے کئی پاسپورٹ بنوا رکھے ہیں، ملزم نے تین اعلی افسران کے نام بھی اگلے جو پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائض ہیں۔