بلوچستان کو ہر سال 400 ارب روپے ٹرانسفر ہوتے ہیں، پیسہ کہاں گیا؟ فواد چودھری

400 billion rupees are transferred to Balochistan every year, where did the money go? Fawad Chaudhry
کیپشن:   فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ گزشتہ دس برسوں سے بلوچستان کو اوسطاً 400 ارب روپے پر سال ٹرانسفر ہوتے ہیں۔ یہ سارا پیسہ کہاں گیا؟

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری نے لکھا کہ پاکستان کی آدھی آبادی پنجابی ہے۔ پی ڈی ایم کا سٹیج پنجاب دشمن پارٹیوں کی آماجگاہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نام نہاد نیشلسٹ اربوں روپیہ ڈکار کے اپنے لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے پنجاب کو گالی دیتے ہیں۔ دس سالوں سے بلوچستان کو اوسطاً چار سو ارب روپیہ ہر سال ٹرانسفر ہوتا ہے ایک کروڑ کی آبادی ہے یہ پیسہ کہاں گیا؟

اس سے قبل گزشتہ روز گڑھی خدا بخش میں مریم نواز شریف کی تقریر پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا کہ لیگی رہنما کو اپنی زبان پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ان کی باتیں بگڑی امیر زادیوں جیسی ہیں۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں ایسے لوگ ایٹمی ملک کا وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں جنہوں نے کبھی زندگی میں اپنے گھر کا کچن تک نہیں چلایا۔

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر طنز کرتے ہوئے انھیں ضیا الحق کے جانشین قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج یہ لوگ بھٹو کی قبر کے مجاور بن گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سیاستدانوں کا ہر جگہ علیحدہ روپ ہے۔ یہ لوگ بھارتی وزیراعظم کے سامنے پاک فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں لیکن فوج سامنے آتے ہی ان کے چمچے بن جاتے ہیں۔

انہوں نے اس سے قبل اپنے بیان میں پی ڈی ایم سربراہ پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمن سے اختلاف کی سزا کے طور پر جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنماؤں کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ یہ نام نہاد جمہوری سیاسی جماعتیں ہیں۔