ن لیگ کی سربراہی :شہباز شریف کو پرواز کیلئے کئی مشکلات درپیش

ن لیگ کی سربراہی :شہباز شریف کو پرواز کیلئے کئی مشکلات درپیش

لاہور:حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی سربراہی خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو سونپ دی گئی مگر شہباز کو پرواز کیلئے کئی ایک مشکلات درپیش ہیں۔سب سے اہم چیلنج تو یہی ہوگا کہ کیا شہباز شریف اپنے قائد نواز شریف اور پیاری بھتیجی مریم نواز کے عدلیہ مخالف بیانیہ کو لیکر چلیں گے یا پھر اپنی پرانی مفاہمتی پالیسی کو آگے بڑھائیں گے۔


ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اگر اپنے مفاہمتی طرز عمل کی پالیسی اختیار کی تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور نواز شریف و مریم نواز نے عدلیہ مخالف بیانیہ پر نظر ثانی کی ہے کیونکہ شہباز شریف کا بطور صدر نام خود نواز شریف نے تجویز کیا اور مجلس عاملہ نے ہاتھ اٹھا کر سو فیصدی تائید کی۔

شہباز شریف کیلئے پہلا چیلنج تو یہ ہے کہ کیا وہ سب کام مکمل آزادی کے ساتھ کر پائیں گے جس کیلئے وہ مشہور ہیں اور اسٹیبلشمنٹ سمیت دیگر اداروں کے نزدیک سمجھے جاتے ہیں ۔جلسوں ،تقریبات اور مشاورتی اجلاسوں میں کھلے عام جس کا وہ اظہار کرتے رہے ہیں۔

نواز شریف کے تاحیات قائد بننے سے پارٹی صدر کس قدر فیصلہ سازی میں آزاد اور خودمختار ہوگا؟اگر شہباز شریف اپنی مفاہمتی پالیسی آگے بڑھانے میں ناکام رہے تو پھر چودھری نثار سمیت دیگر سینئر رہنماﺅں کا اعتماد کس قد رحاصل کرپائیں گے۔

شہباز شریف کے لئے سب سے بڑا چیلنج ان کی بھتیجی کا اداروں کے خلاف سخت موقف ہے جس کا اظہار وہ کرتی چلی جارہی ہیں اور وہ مسلم لیگی حلقوں میں بڑا مقبول بھی ہے۔اگر شہباز شریف کی مفاہمتی پالیسی اور عدلیہ مخالف بیانیہ ساتھ ساتھ چلتے رہے تو اس کا نقصان پارٹی کو ہوگا اور لوگ یہ تاثر لیں گے کہ شریف فیملی اندر سے ایک ہی موقف رکھتی ہے جبکہ عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے اداروں سے ٹکراﺅ کی باتیں کی جارہی ہیں۔

اپوزیشن کو بھی اس تاثر کا فائدہ پہنچے گا جو ہمیشہ سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ مسلم لیگ اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت نہیں ہے اور وہ محض عام انتخابات جیتنے اور من مرضی کے فیصلوں کےل متمنی ہیں۔شہبازشریف کو فیملی کے اندر سے دو واضح موقف کے درمیان خلیج کو نہ صرف کم کرنا ہے بلکہ عدلیہ مخالف بیانیہ سے خوفزدہ ارکان اسمبلی اور سینئر رہنماﺅں کو ساتھ جوڑے رکھنا ہے تاکہ پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے محفوظ رہے۔پنجاب میں بیورو کریسی کے خلاف نیب کی کارروائیاں اور خصوصاً ایل ڈی اے کے سابق سربراہ احد چیمہ کی گرفتاری اور وعدہ معاف گواہ بننے کی اطلاعات سے بخوبی نمٹنا شہباز شریف کی پہلی ترجیح ہوگی۔

سینیٹ انتخابات میں ن لیگ کے آزاد امیدواروں کی کامیابی اور پنجاب میں ہارس ٹریڈنگ روکنا شہباز شریف کا پہلا امتحان ہوگا اور اگر سینیٹ میں اکثریت کے ساتھ مسلم لیگ ن کا چیئرمین منتخب کرانے میں کامیاب رہے تو پھر شہباز شریف کی پرواز کو مستقبل قریب میں کوئی خطرہ نہیں۔البتہ مستقبل کے وزیراعظم کا فیصلہ عام انتخابات میں اکثریت ملنے اور شریف فیملی کے متحد رہنے کی بنیاد پر ہی ہوگا۔