نامعلوم افراد کی فائرنگ،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس ایوب خان مروت زخمی

نامعلوم افراد کی فائرنگ،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس ایوب خان مروت زخمی
فائل فوٹو

پشاور: حیاب آباد میں فائرنگ سے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایوب خان مروت زخمی ہو گئے۔


تفصیلات کے مطابق پولیس نے بتایا کہ حیات آباد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایوب خان مروت اور ان کے ڈرائیور زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا تاہم دونوں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایوب خان مروت گھر سے عدالت جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔

سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے جب کہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا۔جسٹس محمد ایوب رواں ہفتے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے ہمراہ ڈویژنل بینچ میں مقدمات سن رہے تھے اور انہوں ںے آج بھی قبائلی اضلاع میں تعینات ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنر، وفاقی اور صوبائی حکومت کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرنا تھی۔عدالتی مقدمات کی فہرست میں عمرقید کے خلاف اپیلیں اور توہین عدالت کی متعدد درخواستوں پر سماعت بھی آج ہونا تھی۔ جسٹس محمد ایوب کا تعلق وکلاءکیڈر سے ہے۔

ایس ایس پی آپریشن ظہور آفریدی کے مطابق واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ملزمان نے جسٹس ایوب خان مروت کی گاڑی پر 20 سے فائر کیے تاہم ان کو دو گولیاں لگیں جب کہ جائے وقوعہ سے کلاشنکوف اور نائن ایم ایم کے خول ملے ہیں۔ایک ماہ قبل بھی حیات آباد ٹول پلازہ کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کر کے امن کمیٹی کے سربراہ میر عالم آفریدی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

مقتول پشاور سے باڑہ جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں نشانہ بنایا گیا گیا۔ موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے میر عالم آفریدی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔ملک میر عالم آفریدی پر پانچ سال قبل ارباب روڈ کے قریب خودکش حملہ بھی ہوا تھا۔دو ماہ قبل پشاور کے علاقے تہکال میں نوجوان عبداللہ نے فائرنگ کر کے باپ اور تین بھائیوں سمیت خاندان کے پانچ افراد کو قتل کر دیا تھا جب کہ خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم 22 سالہ عبداللہ کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا۔