بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو واپس لاﺅ ٹاپ ٹوئٹر ٹرینڈ بن گیا

بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو واپس لاﺅ ٹاپ ٹوئٹر ٹرینڈ بن گیا
تصویر بشکریہ ٹوئٹر

نئی دہلی: سوشل میڈیا پرپاکستانی فوج کی زیر حراست بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھے نندن کی واپسی بھارت ٹوئٹر ٹرینڈ بن گیا ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر خارج سشما سوراج کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان انڈین ایئرفورس کے تباہ ہونے والے طیارے میگ21 کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھے نندن کو فوری طور پر رہا کرے اور اس کی بحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے۔


وزیرِ اعلی دہلی اروند کجریوال نے ٹوئٹ میں لکھا کہ پائلٹ ونگ کمانڈر ابھے نندن کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔بھارتی قوم کے بیٹے پر ہم سب کو فخر ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ہمیں امید ہے ابھے نندن بحفاظت گھر واپس آجائے گا۔ بھارتی قوم اپنے ملک کی سلامتی کے لیے یکجا رہے گی۔ ایک ٹوئٹر صارف نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ہم سب ابھے نندن کے ساتھ ہیں۔

ایک بھارتی سیاسی پارٹی کے صدر نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بھارتی حکومت ابھے نندن کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔سابق بھارتی کھلاڑی آکاش چوپڑا نے بھی ٹوئٹ میں ابھے نندن کی واپسی کی امید کی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ بھارتی فنکاربھی بھارتی پائلٹ کی وطن واپسی پر ٹاپ ٹوئٹ ٹرینڈ میں شامل ہو گئے۔

بھارتی فلمی ڈائریکٹرکرن جوہر نے بھی اپنے ٹوئٹ میں ابھے نندن کی بحفاظت اور جلد واپسی کی امید کی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان نے بھارتی دراندازی کا جواب دیتے ہوئے دو بھارتی طیارے مار گرائے تھے اور ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتارکرلیاتھا۔بھارتی عوام پاکستان کی زیرِحراست پائلٹ کی حفاظت کے لیے پریشان ہے کہ پاکستان آرمی اس کے ساتھ سلوک کرے گی ،لیکن بھارتی پائلٹ کے ساتھ فوجی اقدار کے مطابق سلوک کیا جارہا ہے۔

بھارتی عوام ابھے نندن کی دیدہ دلیری کی تعریف کررہی ہے کہ وہ دشمنوں کے بیچ جا کر بھی گھبرایا نہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی آرمی آفیسرسے گفتگو میں بھارتی پائلٹ ابھے نندن پاکستانی فوج کے رویے کو متاثر کن قرار دے رہا ہے۔

گرفتار بھارتی پائلٹ کی جاری کردہ ایک ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے انتہائی مطمئن نظر آرہا ہے۔ ابھے نندن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کا رویہ پیشہ وارانہ اور انتہائی متاثر کن ہے ،ہماری افواج کو بھی یہی رویہ اپنا نا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اپنے ملک واپس گیا تو اپنا بیان نہیں بدلے گا۔